- فتوی نمبر: 36-29
- تاریخ: 08 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص کے اہل و عیال میں تین بیٹے ، ایک بیٹی اور ایک بیوی ہے ۔ان تین بیٹوں میں سے اس شخص کا بڑا بیٹا جو کہ فوت ہو گیا تھا اس فوت شدہ بیٹے کی بیوی اور ایک بیٹا ہے۔اس شخص کی بیوی نے اپنا زیور بیچ کر پانچ مرلہ کا پلاٹ خریدا جس پر اس شخص نے اور دو موجود بیٹوں نے اپنی کمائی سے تعمیر کی۔وہ شخص خود اور اس کی بیوی دونوں حیات ہیں لیکن فی الوقت اس کا پوتا دباؤ ڈال رہا ہے کہ اس کو اس مکان میں سے اس کا حصہ فوری ادا کیا جائے ، وہ شخص اور اس کے موجود بیوی بچے چاہتے ہیں کہ معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے ۔ لہذا آپ یہ بتائیں کہ اگر مکان اس شخص کا ذاتی ہوتا اور فوت شدہ بیٹا بھی زندہ ہوتا تو اس شخص کی وفات کے بعد ایک بیٹی ایک بیوی اور تین بیٹوں کا اس کی میراث میں کتنا حصہ ہوتا ؟ تاکہ بہو اور پوتے کو ان کی ڈیمانڈ دے کر معاملہ خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر مکان اس شخص کا ذاتی ہوتا اور فوت شدہ بیٹا بھی زندہ ہوتا تو اس شخص کی وفات کے بعد ایک بیٹی اور تین بیٹوں اور ایک بیوی کے حصوں کی تفصیل یہ ہوتی کہ کل جائیداد کے آٹھ حصے کیے جاتے جن میں سے ایک حصہ(12.5 فیصد ) بیوی کو ، ایک حصہ (12.5 فیصد ) بیٹی کو اور دو حصے (25 فیصد فی کس) تین بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دیے جاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved