• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا

استفتاء

السلام علیکم مفتی صا حب! میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک میڈیکل سٹوڈنٹ ہوں  اور سارا دن پڑھتے  ہوئے مصروفیت میں گزر جاتا ہے ۔سارا دن تھکاوٹ کی وجہ سے یا  صبح جلدی اٹھنے کی نیت سے میں عشاء کی نماز  کی نیت کر کے سو جاتا ہوں   چونکہ اکثر صبح اٹھ کر   پڑھنا ہوتا ہے ،  اگر عشاء کی نماز پڑھ کر سوجاؤ ں تو اکثر  نہیں اٹھا جاتا،  اس طرح میں 3:30تک اٹھ جاتا ہوں اور نماز پڑھ کے آرام سے پڑھنے بیٹھ جاتا ہوں آگے پڑھنے کی نیت نہ بھی ہو تو نماز پڑھ کر دوبارہ سو جاتا ہوں  تو میرا  سوال  یہ ہے کہ :

1۔اس طرح نماز کو جان بوجھ کر  اپنے  کام کی وجہ سے طول دینا صحیح ہے؟ الحمدللہ اب تک ایسا کبھی  نہیں ہوا کہ میں نہ اٹھا ہوں اور میری نماز قضاء ہوگئی ہو،  یہ فعل مجھے مجبوری میں کرنا پڑتا ہے کیونکہ میں  رات دیر تک پڑھ نہیں سکتا اور زیادہ سو بھی  نہیں سکتا ، وقت کا حرج ہوتا ہے۔مہربانی فرما کر رہنمائی کیجئے۔

2۔ اور اگر میں عشا کی نماز پڑھ سکتا ہوں  تو کیا  وتر کے بعد اُسکے ساتھ ۲ رکعت تہجد کی نیّت کر کے پڑھ سکتا ہوں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔عشاء کی نماز اتنا مؤخر کرنا مکروہ تحریمی ہے لہذا یہ  صحیح نہیں ہاں کبھی کبھار مجبوری میں ایسا کرنا پڑجائے تو الگ بات ہے۔

2۔وتر کے بعد دو رکعت تہجد کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں۔

شرح مختصر الطحاوی (1/522) میں ہے:

وفي حديث أبي هريرة وعبد الله بن عمرو رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “‌وقت ‌العشاء ‌إلى نصف الليل”.

فدلت هذه الأخبار على أن من أخرها إلى نصف الليل: لم تلحقه إساءة.

وأما إذا أخرها عن نصف الليل: فهو مسيء, لأنه لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم تأخيرها عن ذلك بغير عذر

فتح القدیر (1/228) میں ہے:

كما في العشاء ‌يندب ‌تأخيرها إلى ما قبل الثلث ويصليها إذ ذاك، فإن لم يفعل إلى النصف انتفى الندب وكان مباحا، وما بعده مكروه

مراقی الفلاح (ص:58) میں ہے:

والتاخير الى ما بعد النصف مكروه لسلامة دليل الكراهة عن المعارض والكراهة تحريمية

شامی (2/407) میں ہے:

وروى الطبراني مرفوعا «لا بد من صلاة الليل ولو حلب شاة، ‌وما ‌كان ‌بعد ‌صلاة ‌العشاء فهو من الليل» وهذا يفيد أن هذه السنة تحصل بالتنفل بعد صلاة العشاء قبل النوم. اهـ.

قلت: قد صرح بذلك في الحلية

معارف القرآن (5/515) میں ہے:

لفظ تہجد  “ہجود” سے مشتق ہے ……….. عموما اس کا یہ مفہوم لیا گیا ہے کہ کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد جو نماز پڑھی جائے وہ نماز تہجد ہے لیکن تفسیر مظہری میں ہے کہ مفہوم اس آیت کا اتنا ہے کہ رات کے کچھ حصے میں نماز کے لئے سونے کو ترک کردو اور یہ مفہوم جس طرح کچھ دیر سونے کے بعد جاگ کر نماز پڑھنے پر صادق ہے اسی طرح شروع ہی میں نماز کے لیے نیند کو موخر کرکے نماز پڑھنے پر صادق آتا ہے اس لئے نماز تہجد کے لئے پہلے نیند ہونے کی شرط قرآن کا مدلول نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved