- فتوی نمبر: 36-160
- تاریخ: 29 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز تراویح کا بیان
استفتاء
تراویح میں اگر امام دو رکعت کی جگہ تین رکعت پڑھا دے اور اس کے بعد سجدہ سہو بھی نہ کرے تو کیا نماز دہرانی پڑے گی یا یہ دو رکعت میں شمار ہوگی ؟اور اگر سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہو جائے گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تین رکعت تراویح پڑھنے کی دو صورتیں ہیں:
(1) پہلی صورت یہ ہے کہ دوسری رکعت پر قعدہ کیا ہو اور آخر میں سجدہ سہو بھی کر لیا ہو اس صورت میں دو رکعت تراویح شمار ہوں گی اور تیسری رکعت کے لیے اگر عمداً کھڑا ہوا ہے تو اس کی جگہ دو رکعت نفل کی قضا کرنی پڑے گی اور اگر سہواً کھڑا ہوا ہے تو پھر اس کی جگہ نفل کی قضا نہیں ہے اور اگر سجدہ سہو نہ کیا ہو تو دو رکعت تراویح دوبارہ پڑھنی ہوں گی اور تیسری رکعت کے لیے اگر عمداً کھڑا ہوا ہے تو دو رکعت نفل کی الگ سے قضا کرنی ہوگی۔اور اگر سہواً کھڑا ہوا ہے تو قضا نہیں۔
توجیہ : دو رکعت نفل کی قضا تیسری رکعت کےعمداً شروع کرنے اور اسے پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوگی اور سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے تراویح بھی ناقص ہوئی ہیں اس لیے ان کا لوٹانا بھی واجب ہوگا۔
فتاویٰ قاضیخان (1/211) میں ہے:
وإن صلى ثلاث ركعات بتسليمة واحدة فهو على وجهين اما إن قعد في الثانية أو لم يقعد فان قعد جاز عن تسليمة واحدة ويجب عليه قضاء ركعتين لانه شرع في الشفع بعد اكمال الاول فاذا أفسد الشفع الثاني بترك الرابعة كان عليه قضاء ركعتين.
بدائع الصنائع (1/647) میں ہے:
من وجب عليه ركعتان بالشروع ففرغ منهما وقعد على رأس الركعتين وقام إلى الثالثة على قصد الأداء يلزمه إتمام ركعتين أخراوين ويبنيهما على التحريمة الأولى؛ لأن قدر المؤدى صار عبادة فيجب عليه إتمام الركعتين صيانة له عن البطلان، والقيام إلى الثالثة على قصد الأداء بناء منه الشفع الثاني على التحريمة الأولى وأمكن البناء عليها.
اللباب فی شرح الکتاب (1/93) میں ہے:
(ومن دخل في صلاة النفل) قصداً (ثم أفسدها) بفعله أو بغير فعله كرؤية المتيمم للماء ونحوه (قضاها) وجوباً، ويقضي ركعتين، وإن نوى أكثر خلافاً لأبي يوسف، قيدنا بالقصد لأنه إذا دخل في النفل ساهياً كما إذا قام للخامسة ناسياً ثم أفسدها لا يقضيها.
شامی (2/578) میں ہے:
وقضى ركعتين لونوى أربعا ونقض في خلال الشفع الاول أو الثاني أي: وكذا يقضي ركعتين لو أتم الشفع الأول بقعدته ثم شرع في الثاني فنقضه في خلاله قبل القعدة فيقضي الثاني فقط لتمام الاول لكن ينبغي وجوب إعادة الاول لترك واجب السلام مع عدم انجباره بسجود سهو كما هو الحكم في كل صلاة أديت مع ترك واجب.
احسن الفتاویٰ (3/461) میں ہے:
سوال: زید نفل نماز کے آخری قعدہ پر نہ بیٹھا اور تیسری رکعت کے سجدے کے بعد یاد آیا سجدہ سہوکر کے نماز تمام کی تو نماز ہوئی یا نہیں یا دوبارہ ادا کرنا واجب ہوگا اگر قعدہ اخیرہ کر کے سہوا کھڑا ہو گیا اور تیسرےرکعت بھی پڑھ لی اور پھر یاد آیا تو کیا حکم ہوگا ؟
جواب : پہلی صورت میں اگر تیسری رکعت کے سجدہ سے قبل یاد آگیا تو قعدہ کی طرف لوٹ آئے اور اگر تیسری کے سجدہ کے بعد یاد آیا تو ایک رکعت اور ملا کر چار کر لے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے اگر تین ہی پرسجدہ سہو کر کے سلام پھیر دیا تو نماز فاسد ہو گئی دو رکعتیں دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔
دوسری صورت میں سجدہ سہوسے دو رکعتیں صحیح ہو گئیں چونکہ تیسری کی طرف قیام سہوا ہوا ہے اس لیے اس کے نقض سے شفع ثانی کی قضا واجب نہیں اس صورت میں بہتر یہ کہ چار رکعتیں پوری کر لے چار پڑھنے کی صورت میں سجدہ واجب نہیں۔
احسن الفتاویٰ(3/441) میں ہے:
نوافل میں بعد الشروع اتمامِ شفع تب واجب ہوتا ہے کہ نوافل کو قصداً شروع کرے۔
(2) دوسری صورت یہ ہے کہ اگر دوسری رکعت پر قعدہ نہ کیا ہو تو راجح قول کے مطابق تراویح نہیں ہوئی لہذا تراویح لوٹانی ہوں گی اور تیسری رکعت کی وجہ سے مزید دو نفلوں کی قضا لازم نہ ہوگی کیونکہ دو رکعت پر قعدہ نہ کرنے کی وجہ سے تیسری رکعت شروع ہی نہیں ہوئی کہ جس کی وجہ سے اس کی قضا لازم آئے، وقت کے اندر تراویح لوٹانے کی نیت کرے اور وقت نکلنے کے بعد جو نفل فاسد ہو گئے ان کی قضا کی نیت کرے۔
البتہ ایک قول کے مطابق تراویح کو لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ اور تیسری رکعت کے لیے اگر عمداً کھڑا ہوا تھا تو اس قول کے مطابق اس کی جگہ دو نفلوں کی قضا کرنی ہوگی۔اور سہواً کھڑا ہوا تھا تو قضا واجب نہیں۔
فتاویٰ قاضیخان (1/211) میں ہے:
وإن صلى ثلاث ركعات بتسليمة واحدة فهو على وجهين اما إن قعد في الثانية أو لم يقعد ………… وان لم يقعد في الثانية ساهيا أو عامدا لا شك أن في القياس وهو قول محمد وزفر واحدى الروايتين عن أبي حنيفة تفسد صلاته ويلزمه قضاء ركعتين لا غير وأما في الاستحسان هل تفسد صلاته في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله اختلفوا فيه قال بعضهم تفسد ولا تجزئ عن شيء وقال بعضهم تجزئ عن تسليمة واحدة
بدائع الصنائع (1/647) میں ہے:
ولو صلى ثلاث ركعات بتسليمة واحدة ولم يقعد في الثانية قال بعضهم: لا يجزئه أصلا بناء على أن من تنفل بثلاث ركعات، ولم يقعد إلا في آخرها.
جاز عند بعضهم؛ لأنه لو كان فرضا وهو المغرب جاز، فكذا النفل.
ولا يجوز عند بعضهم؛ لأن القعدة على رأس الثالثة في النوافل غير مشروعة بخلاف المغرب فصار كأنه لم يقعد فيها، ولو لم يقعد فيها لم تجز النافلة فكذا في التراويح، ثم إن كان ساهيا في الثالثة لا يلزمه قضاء شيء؛ لأنه شرع في صلاة مظنونة؛ ولأنه لا يوجب القضاء عند أصحابنا الثلاثة، وإن كان عمدا فعلى قول من قال بالجواز يلزمه ركعتان؛ لأن الركعة الثانية قد صحت لبقاء التحريمة، وإن لم يكملها بضم ركعة أخرى إليها فيلزمه القضاء، وعلى قول من قال بعدم الجواز يلزمه ركعتان عند أبي يوسف، وعند أبي حنيفة لا يلزمه شيء؛ لأن التحريمة قد فسدت بترك القعدة في الركعة الثانية فشرع في الثالثة بلا تحريمة، وأنه لا يوجب القضاء عند أبي حنيفة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved