• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میت کو غسل دیتے وقت پاؤں قبلہ کی طرف کرنا

استفتاء

میت کو جب غسل دیا جاتا ہے تو  پاؤں قبلے کی طرف کیوں کرتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

میت کو غسل دیتے وقت لٹانے کا کوئی خاص طریقہ متعین نہیں موقع پر جیسے ممکن ہو لٹا کر غسل دیا جا سکتا ہے لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ دائیں کروٹ پر لگا کر غسل دیں گے اور بعض حضرات کہتے ہیں قبلے کی طرف میت کے پاؤں کر کے طول میں لٹا کر غسل دیں گے اور دونوں حضرات کے ہاں اصل مقصود یہ ہے کہ میت کا چہرہ قبلہ کی طرف ہو  اس کے لیے بعض حضرات نے پہلا طریقہ اختیار کیا اور دوسرے حضرات نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔

شامی (2/195) میں ہے:

(ويوضع) كما مات (كما تيسر) في الأصح

(قوله في الأصح) وقيل يوضع إلى القبلة طولا، وقيل: عرضا كما في القبر أفاده في البحر

بدائع الصنائع (1/300) میں ہے:

‌ويوضع ‌على ‌التخت؛ لأنه لا يمكن الغسل إلا بالوضع عليه؛ لأنه لو غسل على الأرض لتلطخ، ثم لم يذكر في ظاهر الرواية كيفية وضع التخت أنه يوضع إلى القبلة طولا أو عرضا، فمن أصحابنا من اختار الوضع طولا كما يفعل في مرضه إذا أراد الصلاة بالإيماء، ومنهم من اختار الوضع عرضا كما يوضع في قبره، والأصح أنه يوضع كما تيسر

امداد الاحکام (1/822) میں ہے:

میت کو اترد کھن لٹا کے غسل دینا چاہیے  یاکہ  پورب پچھم ، کسی کتاب میں بلکہ بہشتی زیور میں بھی اس کی تصریح نہیں  ملی، امید ہے کہ جواب باصواب مع حوالہ کتب تحریر فرمایا جاوے۔

جواب:  في مراقي الفلاح: ‌فيوضع ‌كما ‌مات على سرير مجمر وترا ويوضع كيف اتفق على الأصح. قاله شمس الائمة السرخسي وقيل عرضا وقيل الى القبلة

وفي الطحطاوي: قوله: “‌وقيل ‌عرضا” أي كما يوضع في القبر قوله: “وقيل إلى القبلة” فتكون رجلاه إليها كالمريض إذا أراد الصلاة بإيماء وفي القهستاني عن المحيط وغيره أنه السنة

خلاصہ یہ ہے کہ غسل کے  وقت جس طرح چاہیں میت کو لٹادیں یہ اصح ہے اور بعض نے یہ کہا  ہے کہ قبلہ کی طرف  منہ کرکے عرضا لٹادیں جیساکہ قبر میں رکھا جاتا ہے اور بعض  نے کہا  ہے کہ قبلہ کی  طرف  طولا لٹادیں اس صورت میں  پیر اور منہ دونوں قبلہ کی   طرف ہوں گے  ، محیط وغیرہ میں  اس طریقہ کو سنت بتلایا ہے۔

فتاویٰ محمودیہ (8/488) میں ہے:

سوال: میت کو غسل دیتے وقت اس کے پاؤں کس طرف ہونے چاہئیںَ اگر قبلے کی طرف کیے جائیں تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب: جس طرف سہولت ہو اگر قبلے کی طرف پاؤں ہوجائیں تو یہ  بھی گناہ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved