- فتوی نمبر: 37-03
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
کیا مسجد کا پانی گھر کے لیے استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ گھر کا پانی استعمال کے قابل نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ آجکل چندہ دہندگان کی طرف سے عرفاً اس کی اجازت ہوتی ہے۔
تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ (1/212) میں ہے:
نعم؛ لأن للناظر التصرف في الوقف بما فيه الحظ والمصلحة وحيث عرض المتولي المشروط له النظر
ہندیہ (5/341) میں ہے:
وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلا فلا كذا في الوجيز للكردري في المتفرقات.
فتاویٰ مفتی محمود ( 10 / 440 ) میں ہے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ احاطہ مسجد میں مسجد کے نام پر ایک نلکا لگایا گیا ہے اس نلکے سے مسلمانوں کو اپنے گھروں میں پانی لے جا کر استعمال کرنا یا بازار میں دکانوں میں رکھ کر استعمال کرنا تاکہ عوام لوگ پیتے رہیں جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر دوسرا کنواں قریب نہ ہو تو ضرورت کے وقت پانی لے جانا جائز ہے لیکن جب مسجد کی تنظیف و تطہیر میں اس سے کوئی حرج واقع نہ ہو۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ( 14 / 193 ) میں ہے :
سوال : جو کنواں اندرون حدود مسجد میں واقع ہے اس میں سے عام طور پر ہندو مسلمان پانی بھر سکتے ہیں یا نہیں بنانے والا روک سکتا ہے یا نہیں اور مسجد کے غسل خانے میں ہر شخص نمازی اور بے نمازی غسل کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب : اس چاہ مسجد سے پانی بھر سکتے ہیں اور کنواں بنانے والے کو کچھ حق روکنے کا نہیں ہے اور غسل خانے میں سب استنجاء طہارت اور غسل وغیرہ کر سکتے ہیں۔
فتاویٰ عثمانی ( 2 / 521 ) میں ہے :
سوال : مسجد کے اخراجات میں چندہ اس نیت سے دیا کہ جب پانی کی ضرورت ہوگی تو مسجد سے لے جائیں گے اس صورت میں مسجد سے پانی لے جانا جائز ہوگا یا نہیں ؟
جواب : اگر چندہ دہندگان میں یہ بات معروف ہو کہ ضرورت کے وقت اہل محلہ بھی وہاں سے پانی لے سکیں گے تو گنجائش ہے ورنہ نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل ( 8 / 138 ) میں ہے :
سوال :ہمارے گاؤں کی مسجد میں کنواں ہے جس سے عام لوگ پینے کے لیے کپڑے دھونے کے لیے اور قریب کسی نے مکان تعمیر کرنا ہو تو اس میں پانی استعمال کرتے ہیں چونکہ اس میں پانی نکالنے والی مشین لگی ہوئی ہے مسجد کی بجلی بھی خرچ ہوتی ہے آپ سے عرض ہے کہ اس کا پانی استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب : جن لوگوں کے چندے سے مشین لگائی گئی ہے اگر انہوں نے عام لوگوں کو اس کنویں سے پانی لینے کی اجازت دی ہو ( خواہ لفظاً یا حالاً ) تو جائز ہے۔
حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ ایک فتوے (5/119) میں لکھتے ہیں:
مسجد انتظامیہ اگر کسی کو منع بھی نہیں کرتی اور آس پاس کوئی سرکاری نل بھی نہ لگا ہو تو دلالتہً پانی کے استعمال کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ بشرطیکہ نمازیوں کو وضو میں رکاوٹ نہ ہو۔ نیز مسجد کی صفائی میں بھی فرق نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved