- فتوی نمبر: 36-278
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
میرے بھائی نے بیوی کو غصے میں طلاق دے دی۔میرے بھائی نے والدہ کو کہا کہ “اس کے سارے نئے کپڑے جلا دو، اگر نہیں جلائے تو میں اسے طلاق دوں گا”۔ میری والدہ نے کچھ کپڑے جلادیے۔اور کچھ کپڑے میرے بھائی کی بیوی نے چھپا دیے ۔ میری ماں بھی کچھ نہیں بولی کہ اسکا گھر خراب نہ ہو جائے۔مطلب میری ماں کو بھی معلوم نہیں تھا ۔ کیونکہ میری ماں نے کہا کہ دو لوگوں کے درمیان صلح کرنے کیلئے جھوٹ بول سکتے ہیں۔اگلے دن جو کپڑے چھوڑ دیے تھے وہ بھی جلادیے ۔اب کچھ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ طلاق ہوگئی ہےاور کوئی کہتا ہے کہ غصہ میں طلاق نہیں ہوتی۔ اس بارے میں تھوڑی وضاحت فرمادیں۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔جس زبان میں طلاق کے الفاظ بولے تھے اسی زبان میں طلاق کے الفاظ لکھ کر بھیجیں۔ 2۔بھائی کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔
جواب وضاحت: 1۔طلاق کے الفاظ پشتو زبان میں کہے تھے کہ “”دے دہ کور نہ چی کومی نوے کپڑے راوڑےدی دا غونڈی وسوزوہ کہ مو تر ماخامہ پوری ونہ سوزولےنو دا جنی پہ ماباندی طلاقہ دہ” (ترجمہ: گھر سے جو یہ نئے کپڑے لے کر آئی ہے ان تمام کپڑوں کو جلا دو اگر شام تک نہیں جلائے تو یہ لڑکی مجھ پر طلاق ہے )2۔ ****
شوہر کا بیان:
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا:
میری بیوی اپنے والد کے گھر گئی تھی اور وہاں سے نئے کپڑے لے کر آئی تھی، تو میں نے ماں سے کہا کہ یہ عورت جو نئے کپڑے گھر سے لے کر آئی ہے، ان کو جلا دو، اگر شام تک نہیں جلائے تو یہ مجھ پر طلاق ہے۔ ماں گئی اور الماری میں دیکھا تو نئے کپڑے نہیں ملے اور مجھے کہا کہ یہ تو نئے کپڑے گھر سے نہیں لے کر آئی۔ تو میں نے کہا کہ جو پرانے کپڑے ہیں، انہی کو ہی جلا دو۔ ماں گئی اور تمام کپڑوں کو جلایا، سوائے ایک دو نئے سوٹ کے جو میری بیوی نے الگ کر لیے تھے ، اور والدہ کو بھی یہ پتا تھا، لیکن چونکہ والدہ میرا گھر بچانا چاہتی تھی، اس لیے مجھے اس کی اطلاع نہیں دی۔لیکن بعد میں (ایک دن بعد) میری بیوی نے کہا کہ مجھے طلاق ہو گئی ہے، کیونکہ آپ نے طلاق کو رات تک نئے کپڑے جلانے پر معلق کیا تھا، حالانکہ وہ کپڑے میں نے الگ کر لیے تھے، وہ اب تک نہیں جلے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی ہے ، شوہر عدت (تین ماہواریوں ) کے گذرنے سے پہلے پہلے رجوع کرسکتا ہے۔
نوٹ: آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے ۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے مذکورہ الفاظ “دے دہ کور نہ چی کومی نوے کپڑے راوڑےدی دا غونڈی وسوزوہ کہ مو تر ماخامہ پوری ونہ سوزولےنو دا جنی پہ ماباندی طلاقہ دہ” (ترجمہ: گھر سے جو یہ نئے کپڑے لے کر آئی ہے ان تمام کپڑوں کو جلا دو اگر شام تک نہیں جلائے تو یہ لڑکی مجھ پر طلاق ہے )سے طلاق کو شام تک نئے کپڑے جلانے پر معلق کیا تھا لیکن وہ کپڑے بیوی کے الگ کرنے سے دوسرے دن تک بھی نہیں جلائے گئے لہذا شرط پائی گئی، اور طلاق معلق میں شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے چاہے وہ شرط بھول کر یا اپنے اختیار سے یا کسی کے مجبور کرنے کی وجہ سے پائی جائے لہذا مذکورہ صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی۔
ہندیہ (1/420) میں ہے:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
العنایہ شرح الہدایہ (6/12) میں ہے:
(ومن فعل المحلوف عليه ناسيا أو مكرها فهو سواء) أي فهو ومن فعله مختارا سواء. تركه لدلالة فحوى الكلام عليه لأن شرط الحنث وجود الفعل حقيقة وقد وجد
ہدایہ (2/399) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض
شامی (3/227) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved