• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مقدس اوراق کو دفن کرنے کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام، علماءِ احناف مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ ہم چند ساتھی عرصہ دراز سے رضاکارانہ طور پر یہ خدمت انجام دے رہے ہیں کہ جہاں کہیں قرآنِ مجید کے بوسیدہ و ضعیف نسخے، مقدس اوراق، قرآنی آیات یا دیگر مقدس تحریریں بے ادبی کے ساتھ پڑی ہوں یا ضائع ہونے کا اندیشہ ہو، ہم انہیں انتہائی ادب و احترام کے ساتھ جمع کرکے اپنی گاڑی میں منتقل کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم نے ایک الگ مکان  لیا ہے، جہاں ان تمام اوراق کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔

بعد ازاں جو نسخے مرمت کے قابل ہوں انہیں ماہر افراد کے ذریعے دوبارہ قابلِ تلاوت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ جو نسخے یا اوراق ناقابلِ مرمت ہوں انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر محفوظ رکھا جاتا ہے۔ جب ان کی مقدار زیادہ ہو جائے تو ہم اپنی استطاعت کے مطابق خریدی گئی چھ کنال ایک خالی زمین میں ایکسکیویٹر کے ذریعے گہرا گڑھا (قبر نما) کھود کر ان مقدس اوراق کو ادب کے ساتھ دفن کر دیتے ہیں جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جو بالکل چھوٹے کاغذ ہوتے ہیں ان کو پلاسٹک کے توڑے میں بند کیا جاتا ہے اور جو مصحف ہوتے ہیں ان کو تین تین کر کے ایک پاک خوشبو والے کپڑے میں رکھا جاتا ہے قبر میں پہلے توڑے رکھے جاتے ہیں پھر ان کے اوپر مصاحف رکھے جاتے ہیں جو تین تین  ایک کپڑے میں بند ہوتے ہیں اس کے بعد ان سب کے  اوپر ترپال اور کپڑا بچھایا جاتا ہے جس سے نیچے والے اوراق نظر بھی نہیں آتے ،وہ کپڑا ہم گڑھے کے سائز کے مطابق درزی سے سلواتے ہیں ۔ کپڑا ڈالنے کے بعد اس کے اوپر مٹی ڈالدی جاتی ہے اور گڑھے کو بند کر دیا جاتا ہے ۔ ہم اوراق جمع کرتے رہتے ہیں جب دو تین ٹرالیاں جمع ہو جاتی ہیں تو ان کے لیے ایک گڑھا کھود کر مذکورہ بالا طریقہ سے کام کیا جاتا ہے ۔پھر  اس جگہ کے گرد باڑ (کنڈا تار) بھی لگا دیتے ہیں تاکہ انسان یا جانور اس پر نہ چلیں۔البتہ بعض اوقات زمین کھودنے کی وجہ سے زمین کے نیچے سے کچھ نمی ظاہر ہو جاتی ہے  ہم اس کو صاف کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں جتنا ہمارے بس میں ہو اس کو صاف کرتے ہیں لیکن مکمل نمی دور ہو جائے یہ ہمارے بس میں نہیں ہوتا  پھر ہم اس جگہ پر پہلے توڑے والے کاغذات رکھتے ہیں اور ان کے اوپر قرآن مجید وغیرہ رکھتے ہیں ۔ہمیں معلوم ہے کہ بہتر صورت یہ ہے کہ یا تو کسی محفوظ غار یا چٹان کے قدرتی شگاف میں رکھا جائے، یا دفن کرتے وقت ایسی مضبوط چھت بنائی جائے کہ مٹی براہِ راست مقدس اوراق پر نہ آئے، لیکن یہ انتظامات ہماری مالی استطاعت سے باہر ہیں۔اب بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جب آپ مثالی انتظام نہیں کر سکتے تو یہ خدمت ہی چھوڑ دیں، جبکہ ہمارے خیال میں اگر ہم یہ کام چھوڑ دیں تو یہ مقدس اوراق بے ادبی کا شکار رہیں گے۔

لہٰذا درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائی جائے:

1۔کیا مذکورہ طریقہ سے بوسیدہ قرآنِ مجید اور مقدس اوراق کو دفن کرنا شرعاً جائز اور درست ہے؟

2۔اگر گڑھے میں کچھ پانی باقی رہ جائے تو کیا اس میں ان مقدس اوراق کو دفن کرنا جائز ہے؟

3۔کیا ہماری استطاعت کے مطابق کیا گیا یہ انتظام کافی ہے، یا جب تک مثالی انتظام مثلا  قدرتی غار ممکن نہ ہو، اس وقت تک یہ خدمت ترک کر دینی چاہیے؟

4۔اگر یہ خدمت جاری رکھنا جائز ہے تو شرعاً مزید کن احتیاطوں کا اہتمام کرنا ضروری ہے؟

اس مسئلہ میں فقہِ حنفی کی معتبر کتب کی روشنی میں مدلل جواب، حوالہ جات کے ساتھ مرحمت فرمایا جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت کی گنجائش ہے البتہ بہتر یہ ہے  کہ مصاحف کے اوپر کوئی چھت بنا دی جائے چاہے  وہ چھت لکڑی کی ہو کیونکہ بغیر چھت کے مٹی ڈالنا قرآن مجید کی ایک طرح کی بے ادبی ہے۔

2۔مذکورہ صورت کی گنجائش ہے  کیونکہ وہ پانی بھی پاک ہے اور اس پر پہلے پلاسٹک کے توڑے رکھے جاتے ہیں اور پھر ان توڑوں کے اوپر قرآن مجید رکھے جاتے ہیں لہذا یہ صورت بے ادبی شمار نہیں ہوتی ۔

3۔ترک کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ جاری رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں ۔

4۔گڑھا اتنا گہرا نہ کھودا جائے کہ پانی ظاہر ہو جائے۔ پانی ظاہر ہونے سے پہلے جتنا گڑھا بنے اس میں جتنےاوراق ومصاحف آسکتے ہوں وہ دفن کر دیں تاکہ لوگوں کو تشویش بھی نہ ہو نیز مصاحف کے اوپر کوئی چھت بنانے کا انتظام کرلیں چاہے  وہ لکڑی کی ہو تاکہ ایک طرح کی بے ادبی کی صورت بھی لازم نہ آئے ۔

فتاوی عالمگیری(9/ 113) میں ہے:

“المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له، لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا كذا في الغرائب”

رد المحتار علی الدر المختار1/354) میں ہے:

“(فروع) المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيها يدفن كالمسلم.

 قال ابن عابدين: قوله (يدفن) أي يجعل في خرقة طاهرة و يدفن في محل غير ممتهن لا يوطأ. و في الذخيرة و ينبغي أن يلحد له و لا يشق له لأنه يحتاج إلی إهالة التراب عليه و في ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقفاً بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضاً  وأما غيره من الكتب فسيأتي في الحظر والإباحة أنه يمحى عنها اسم الله تعالى وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن اهـ .وقوله:(كالمسلم) فإنه مكرم و إذا مات و عدم نفعه يدفن، و كذلك المصحف فليس في دفنه إهانة له، بل ذلك إكرام خوفاً من الامتهان”

امداد الاحکام (1/229) میں ہے:

سوال: پراگندہ اوراق یا بوسیدہ قرآن مجید کو دفن یا دریا برد کیا جاوے یا کسی طرح؟ نیز دیگر اوراق اردو، انگریزی اخبارات وغیرہ کو جن میں بعض مواقع پر آیات اور انگریزی کتب یا اخبارات وغیرہ میں تصاویر بھی ہوتی ہیں، کس طرح تلف کیا جاوے؟

جواب: قال في الفتاوى الهندية: المصحف إذا صار خلقاً لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن ودفنه أولى من وضعه موضعاً يخاف أن يقع عليه النجاسة. (6/216).  المصحف إذا صار خرقاً وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا، وبه نأخذ. (318)

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کو دفن کر دینا چاہیے، جلانا نہ چاہیے، باقی اوراق جن میں قرآن کی آیت یا خدا، رسول کا نام ہو، اس میں سے خدا اور رسول کے نام کو نکال لینا چاہیے، ان کو دفن کر دیا جاوے، اور باقی کو جلا دینا جائز ہے، مگر قرآن اور خدا کے نام کو اس طرح دفن کیا جائے جس طرح بغلی قبر میں مردے کو رکھا جاتا ہے، تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے۔

ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب عليه، فهو حسن أيضاً، كذا في الغرائب (هندية)

فتاوی رحیمیہ (7/77) میں ہے:

قبر لحد ہو یا شق میت کو اس طرح دفن کیا جائے کہ براہ راست مٹی میت پر نہ گرے اسی میں میت کا احترام ہے ، جس طرح قرآن کے بوسیدہ اوراق دفن کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ لحد ( بغلی قبر ) بنائی جائے تاکہ قرآن پر مٹی نہ گرے، اگر شق صند و قچی بنائی گئی تو قرآن پر مٹی پڑے گی اور اس میں ایک گونہ قرآن کی تحقیر ہے۔ ہاں ! اگر اس پر تختوں سے چھت بنالی جائے اور اس پر مٹی ڈالی جائے تو پھر مضائقہ نہیں۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

 المصحف اذا صار خلقا لا يقرؤ يخاف ان يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويد فن اولى من وضعه موضعا يخاف ان يقع عليه النجاسة او نحو ذلك ويلحد له لانه لو شق ودفن يحتاج الى اهالة التراب عليه وفى ذلك نوع تحقير الا اذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب اليه فهو حسن ايضا كذا في الغرائب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved