• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو بندوں نے قسمیں اٹھائیں کہ جس کی بات خلاف واقع ہوئی وہ بریانی کھلائے گا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس  مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عامر سے کہا احمد کی گاڑی کا رنگ کالا ہے عامر نے کہا احمد کی گاڑی کا رنگ سلور ہے اور اس بات پر  دونوں نے اللہ کی قسم کھا لی زید نے قسم کھائی کہ اگر کالا رنگ نہ ہوا تو میں کھانا کھلاؤں گا آپ کو اور عامر نے کہا اگر احمد کی گاڑی کا رنگ سلور نہ ہوا تو میں کھانا کھلاؤں گا اب اگر زید اور عامر میں سے جو بھی اپنے دعویٰ میں غلط ثابت ہوگیا تو کیا کھانا کھلانا اس کے لیے لازم ہوگا اور اگر کھانا نہیں کھلائے گا تو کیا وہ حانث ہو جائے گا یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

وضاحت مطلوب ہے: دونوں نے جو الفاظ کہے تھے بعینہٖ وہی الفاظ نقل کریں۔

جواب وضاحت: ایک آدمی    نے کہا کہ گاڑی کا رنگ سیاہ ہے جبکہ دوسرے نے کہا گاڑی کا رنگ سیاہ نہیں ہے ، دونوں نے شرط لگائی  اس بات پر اور اللہ کی قسم کھائی کہ جو دعویٰ میں غلط ثابت ہوگا وہ بریانی کھلائے گا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کسی پر بھی کھانا کھلانا لازم نہیں اور نہ ہی کوئی حانث ہوگا۔ نیز مذکورہ صورت چونکہ دو طرفہ شرط کی ہے، اس لیے ایسی شرطیں لگانا بھی جائز نہیں۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں جس شخص کی بات خلافِ واقعہ نکلے، وہ حانث نہیں ہوگا؛ کیونکہ مذکورہ صورت یمینِ لغو کی ہے۔ یمینِ لغو یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو سچا خیال کرتےہوئے ماضی کے کسی معاملے پر قسم اٹھائے، حالانکہ  وہ معاملہ ایسا نہ ہو۔

نیز مذکورہ صورت میں جس شخص کی بات خلافِ واقعہ نکلے، اس پر کھانا کھلانا بھی لازم نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ دو طرفہ شرط ہے، اور ایسی شرطیں لگانا جائز نہیں، لہٰذا اس شرط کو پورا کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

ہندیہ (2/52) میں ہے:

ولغو، ‌وهو ‌أن ‌يحلف ‌على ‌أمر في الماضي، أو في الحال، وهو يظن أنه كما قال:، والأمر بخلافه بأن يقول: والله قد فعلت كذا، وهو ما فعل، وهو يظن أنه فعل، أو: ما فعلت كذا، وقد فعل، وهو يظن أنه ما فعل، أو رأى شخصا من بعيد فقال: والله إنه لزيد، وظنه زيدا، وهو عمرو، أو طائرا فقال: والله إنه لغراب، وظنه غرابا، وهو حدأة فهذه اليمين نرجو أن لا يؤاخذ بها صاحبها

تبیین الحقائق (3/107) میں ہے:

قوله في المتن لغو) قال الرازي ‌ولغو ‌وهو ‌أن ‌يحلف على أمر في المضي أو الحال وهو يظن أنه كذلك وليس كذلك بأن قال والله فعلت كذلك وما فعل وهو يظن أنه فعل أو رأى شخصا من بعيد فقال والله إنه لزيد يظنه زيدا وهو ليس كذلك

الجوہرۃ النیرۃ (2/192) میں ہے:

قوله (‌ويمين ‌اللغو ‌أن ‌يحلف على أمر ماض وهو يظن أنه كما قال والأمر بخلافه) مثل والله لقد فعلت كذا وهو يظن أنه صادق أو والله ما فعلت وهو لا يعلم أنه قد فعل وقد يكون على الحال مثل أن يرى شخصا من بعيد فيحلف أنه زيد فإذا هو عمرو

المبسوط للسرخسی (8/225) میں ہے:

‌والنوع ‌الثالث ‌يمين اللغو فنفي المؤاخذة بها منصوص في القرآن قال الله تعالى {: لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم} [البقرة: 225]، واختلف العلماء في صورتها فعندنا صورتها أن يحلف على أمر في الماضي أو في الحال، وهو يرى أنه حق، ثم ظهر خلافه

بدائع الصنائع (3/3) میں ہے:

‌وأما ‌يمين ‌اللغو فقد اختلف في تفسيرها، قال أصحابنا: هي اليمين الكاذبة خطأ أو غلطا في الماضي أو في الحال وهي أن يخبر عن الماضي أو عن الحال على الظن أن المخبر به كما أخبر وهو بخلافه في النفي أو في الإثبات

شامی (6/402) میں ہے:

(وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) ‌لأنه ‌يصير ‌قمارا

فتاویٰ محمودیہ ( 24 / 42 ) میں ہے :

سوال: ایک طالب علم نے دوسرے طالب علم سے فرمایا کہ اگر میری بات سچی نکلی تو تم مجھے پیٹ بھر کر مٹھائی کھلانا، اور اگر تمہاری بات سچی نکلی تو میں تمہیں پیٹ بھر کر مٹھائی کھلاؤں گا۔ اس طرح یہ شرط دونوں کے درمیان لگی اتفاق سے ایک کی بات سچی نکلی۔ کیا اس طالب علم پر پیٹ بھر کر مٹھائی کھلانا ضروری ہے؟

جواب: اس  شرط کا معاملہ درست نہیں ہے، اور اس صورت میں مٹھائی کھلانا واجب نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved