- فتوی نمبر: 37-36
- تاریخ: 11 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > میاں بیوی کے مخصوص مسائل
استفتاء
1۔اگر لڑکے لڑکی کا نکاح ہوگیا ہو اور ابھی رخصتی نہ ہوئی ہو تو کیا وہ ازدواجی طور پر مل سکتے ہیں؟ جبکہ حق مہر کی ادائیگی نہ ہوئی ہو اور گھر والوں کی اجازت بھی نہ ہو؟
2۔کیا شوہر اپنی زوجہ کو پیار سے ’’آپ میرے جگر کا ٹکڑا ہو‘‘ بول سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مسلمانوں کے معاشرے میں رخصتی سے قبل میاں بیوی کا ملنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ جس چیز کو مسلمان اچھا نہ سمجھتے ہوں اسلام بھی اسے اچھا نہیں سمجھتا اس لیے اس سے احتیاط کریں۔
توجیہ: میاں بیوی کے رخصتی سے قبل ازدواجی طور پر چھپ کے ملنے میں بہت سے ایسے کام کرنے پڑجاتے ہیں جو شرعا ًپسندیدہ نہیں مثلا حمل نہ ٹھہرے اس کے لیے مانع حمل کوئی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا جو کہ بلا عذر مکروہ ہے اور اگر حمل ٹھہر گیا تو لوگوں سے چھپانے کے لیے اس حمل کو ضائع کرنا پڑے گا جبکہ حمل کو بلا عذر ضائع کرنا ناجائز ہے نیز میاں بیوی دونوں کو یا کسی ایک کو ایسی ملاقات کے لیے عموما جھوٹ کا سہارا لینا پڑے گا جو کہ جائز نہیں۔
2۔بول سکتا ہے، تاہم بہتر نہیں۔
توجیہ: “جگر کا ٹکڑا” مجازاً / عموماً بیٹا، بیٹی کو کہا جاتا ہے اور بیوی کو بیٹی کہنا مکروہ ہے لہذا بیوی کے لیے ایسا لفظ بولنا جس کا متبادر معنی اولاد کا ہو بہتر نہیں ہے۔
1۔درمختار مع ردالمحتار (6/429) میں ہے :
ويكره أن تسقى لإسقاط حملها وجاز لعذر
(قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية
امداد الفتاوی(4/204) ميں ہے :
سوال : ……………. عورت کو حمل گروا دینا درست ہے یا حرام جب تک جان نہ پڑے دوسرے جو عورت بہت جلدی حاملہ ہو جاتی ہے مثلا ابھی بچہ نو ماہ کا ہی ہے اور ایام آگئے اور وہ اسی وقت میں حاملہ ہو جاتی ہے………..؟
الجواب: ………… سوال اول کا جواب یہ ہے کہ بلا عذر ناجائز ہے اور بعذر جائز ہے اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر اس عورت کو یا بچے کو اس حمل سے کچھ نقصان ہو جائز ہے ورنہ نہیں ……..
مريض ومعالج کے اسلامی احکام، مؤلفہ: حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ(ص:308) میں ہے:
خاص خاص ضرورتوں کے تحت شخصی وانفرادی طور پر کوئی مانع حمل طریقہ اختیار کرنا جائز ہے مثلاً عورت اتنی کمزور ہے کہ حمل کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی …………. ان سب اعذار کا خلاصہ یہ ہے کہ شخصی وانفرادی طور پر کسی شخص کو عذر پیش آجائے تو عذر کی حد تک اس طرح کا عمل بلا کراہت جائز ہے بغیر عذر کے یہ عمل مکروہ ہے اسی طرح عذر دور ہوجانے کے بعد بھی اس پر مداومت مکروہ ہے۔
2۔شامی ( 3 / 470 ) میں ہے : ”ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.”
آپ کے مسائل اور ان کا حل ( 6 / 670 ) میں ہے :
بیوی کو بیٹا کہنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹا۔
علمی اُردو لغت میں ہے :
جگر پارہ: کلیجے کا ٹکڑا۔ فرزند
فیروز اللغات میں ہے:
جگر پارہ: کلیجے کا ٹکڑا ، بیٹا، فرزند۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved