- فتوی نمبر: 37-35
- تاریخ: 11 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مدارس کے احکام
استفتاء
ہم ایک دینی ادارے سے وابستہ ہیں۔ ادارے میں مختلف حضرات مختلف دینی، تعلیمی، رفاہی اور انتظامی کاموں کے لیے رقوم دیتے ہیں۔ بعض اوقات رقم کسی خاص مد میں دی جاتی ہے، مثلاً طلبہ کے کھانے، مدرسہ کے اخراجات، تعمیرات، کتابوں، تنخواہوں یا دیگر مخصوص کاموں کے لیے۔ ادارے کے بعض ذمہ دار حضرات ہر آمدنی اور خرچ کا باقاعدہ حساب لکھتے ہیں، رسید/رجسٹر/واؤچر وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں، تاکہ معلوم رہے کہ کون سی رقم کس مقصد کے لیے آئی اور کہاں خرچ ہوئی۔ لیکن بعض ساتھی یہ کہتے ہیں کہ ادارے کے تمام لوگ قابلِ اعتماد اور دیانت دار ہیں، اس لیے اتنی تفصیل سے حساب کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سب افراد امین ہیں اور غلط استعمال کا اندیشہ نہیں تو آمدنی اور خرچ کو باقاعدہ لکھنا ضروری نہیں۔ اس سلسلے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
(1)کیا دینی ادارے میں آنے والی رقوم، چندہ، عطیات، زکوٰۃ، صدقات یا مخصوص مدات کی رقم کا باقاعدہ حساب کتاب لکھنا شرعاً ضروری، واجب، مستحب یا صرف انتظامی معاملہ ہے؟
(2)کیا “سب افراد قابلِ اعتماد ہیں” اس بنیاد پر حساب کتاب نہ لکھنا شرعاً درست ہے؟
(3) کیا رسید، رجسٹر، واؤچر، بل، بینک ریکارڈ، ماہانہ/سالانہ رپورٹ اور باقاعدہ آڈٹ کا نظام شرعی اعتبار سے امانت کی حفاظت میں داخل ہے ؟
(4) اگر کوئی رقم کسی خاص مقصد کے لیے دی گئی ہو تو کیا اس کا الگ حساب رکھنا ضروری ہے؟
(5)اگر حساب نہ لکھنے کی وجہ سے بعد میں اختلاف، بدگمانی، غلط فہمی یا رقم کے مصرف میں شبہ پیدا ہو جائے تو اس کی شرعی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
(6)براہ کرم قرآن و حدیث اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ دینی ادارے کے مالی معاملات میں حساب کتاب لکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے، اور ادارے کے ذمہ داران کے لیے بہتر یا لازم طریقہ کیا ہونا چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1،2،3۔دینی ادارے کے خزانچی اور مالیات سے متعلق افراد کے لیے ضروری ہے کہ ادارے میں آنے والی رقوم کو ان کے صحیح مصرف میں خرچ کریں اور ان کی آمد اور خرچ کا حساب لکھیں ، رسیدوں کو محفوظ رکھیں تاکہ امانت کی رقوم محفوظ بھی رہ سکیں اور متعلقہ افراد کے بارے میں اگر کوئی شبہ ہو تو حساب کتاب دیکھ کر تحقیق کی جاسکے اور بدگمانیاں پیدا نہ ہوں ۔اور ادارے کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وقتاً فوقتا ً مالیات کا آڈٹ (پڑتال )کرتے رہیں تاکہ نظام شفاف رہے اور خیانت کا دروازہ نہ کھل سکے ۔
4۔دینی اداروں میں چونکہ صدقات واجبہ اور عطیات سب طرح کی رقوم آتی ہیں اور ہر ایک کا مصرف بھی الگ ہے اس لیے ان سب کا حساب لکھنا اور اسی کے مطابق خرچ کرنا ضروری ہے ۔ صدقات اور غیر صدقات کے اموال کو جدا جدا رکھنے کا اہتمام خود نبی کریم ﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے ۔
5۔اگرمالیات سے متعلق افراد کے بارے میں کوئی شبہ ہو تو وہ اس بات کے جوابدہ ہیں کہ اس کی تفصیل مہیا کریں کہ کتنی رقم آئی اور کہاں کہاں خرچ ہوئی ۔
البحر الرائق (5/ 262) میں ہے:
وينبغي للقاضي أن يحاسب أمناءه فيما في أيديهم من أموال اليتامى ليعرف الخائن فيستبدله وكذا القوام على الأوقاف ويقبل قولهم في مقدار ما حصل في أيديهم من مقدار الغلات الوصي والقيم فيه سواء والأصل فيه أن القول قول القابض في مقدار المقبوض وفيما يخبر من الإنفاق على اليتيم أو على الضيعة ومؤنات الأراضي ……فإن عرف بالأمانة يقبل القاضي الإجمال ولا يجبره على التفسير شيئا فشيئا وإن كان متهما يجبره القاضي على التفسير شيئا فشيئا ولا يحبسه ولكن يحضره يومين أو ثلاثة أو يخوفه ويهدده إن لم يفسره فإن فعل وإلا يكتفي منه باليمين .
صحیح بخاری: 1/204، (قدیمی کتب خانہ)میں ہے :
وسم الإمام إبل الصدقة بيده
ترجمہ: امام کا صدقہ کے اونٹوں کو اپنے ہاتھ سے علامت لگانا
پھر اس عنوان کے تحت مندرجہ ذیل حدیث ذکر کی ہے:
قال حدثنی أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: «غدوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعبد الله بن أبي طلحة، ليحنكه، فوافيته في يده الميسم يسم إبل الصدقة»۔
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں عبد اللہ بن ابی طلحہ کو لے کر حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ اس کو گھٹی دیں تو میں نے آپ ﷺ کو اس حال میں پایا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں علامت لگانے کا آلہ تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ صدقہ کے اونٹوں کو علامت لگا رہے تھے۔
فتاوی عالمگیری (1/414) میں ہے :
(فصل ما يوضع في بيت المال أربعة أنواع) . (الأول) زكاة السوائم والعشور، ….
(والثاني) خمس الغنائم والمعادن والركاز …..
(والثالث) الخراج والجزية، وما صولح عليه بنو نجران من الحلل وبنو تغلب من الصدقة المضاعفة، وما أخذه العاشر من المستأمنين وتجار أهل الذمة كذا في السراج الوهاج….
(والرابع) اللقطات هكذا في محيط السرخسي وما أخذ من تركة الميت الذي مات، ولم يترك وارثا أو ترك زوجا وزوجة …………….. فعلى الإمام أن يجعل بيت المال أربعة لكل نوع بيتا؛ لأن لكل نوع حكما يختص به لا يشاركه مال آخر فيه
کفایت المفتی (7/172)میں ہے :
سوال: زید کے پاس آمدنی مسجد کی جمع ہے جس کا زید باقاعدہ حساب نہیں لکھتا نہ مردمان محلہ کو حساب سمجھاتا ہے اور بلااجازت جملہ مردمان اس آمدنی کو دو تین آدمی اپنی میل جول کے کہنے سے خرچ کردیتا ہے۔ یہ فعل زید کا کیسا ہے؟
جواب: مسجد کی آمدنی حسب ضرورت مسجد میں خرچ کرنا لازم ہےاور اس کا باقاعدہ حساب رکھنا اور نمازیوں کو مطمئن کردینا بھی زید کے ذمہ لازم ہے-
فتاوی محمودیہ (21/234)میں ہے :
متولی کا فریضہ ہے کہ وہ مسجد کی آمدنی کا حساب اورمسجد کانظم اذان اورجماعت کااہتمام رکھیں محض چندہ وصول کرنے کے لئے متولی نہیں ہوتا ۔۔۔۔ باقاعدہ رجسٹر بناکے چندہ کا حساب رکھیں، اسی طرح کرایہ کی آمدنی کا انتظام کردیاجائے۔
فتاوی رحیمیہ (9/165)میں ہے :
مسجد کی رقم کھانا اور اس میں خیانت کرنا سخت گناہ ہے ، خدا نخواستہ مسجد کا متولی رقم مسجد میں خیانت کرے اور اس کا شرعی ثبوت بھی ہوجاوئے تو ایسے شخص کو تولیت مسجد سے معزول کرنا ضروری ہے ، ایسا شخص تویت مسجد کی اہلیت نہیں رکھتا مگر یہ یاد رہے کہ حکم مذکور اس وقت ہے جب کہ شرعی طور پر خیانت کا ثبوت ہو، بلا دلیل شرعی کے محض شبہ اور بدگمانی کی بنیاد پر تہمت لگانا ناجائز ہے اور متولی کے لئے لازم ہے کہ مسجد کا معاملہ (حساب و کتاب ) بالکل صاف رکھے اور لوگوں کے سامنے پیش کرتا رہے تاکہ انہیں بد گمانی نہ ہو۔
کفایت المفتی (4/502)میں ہے :
ایک مدرسہ عربیہ میں چند مدات میں روپیہ وصول ہوتا ہے مثلاًزکوۃ، تعمیر مسجد، خیرات ۔اور مہتمم مدرسہ جملہ مدات کا روپیہ ایک جگہ شامل کرکے رکھتا ہے اور حساب میں آمد وجمع علیحدہ علیحدہ کرتا ہے بوقت خرچ جس کھاتے کی رقم ہوتی ہے اس میں خرچ کر ڈالتا ہے اس طریقے میں زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں اورجس نے تعمیر مسجد میں رقم دی تھی اس کی رقم تعمیر مسجد میں لگی کہ نہیں ؟ اگر مذکورہ بالا مہتمم نے زکوٰۃ کی رقم کسی دوسرے مصرف میں خرچ کردی اور زکوٰۃ دہندہ کو خبر نہ ہوئی تو زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں اور اگر خبر ہوگئی تو زکوٰۃ دہندہ کیاکرے ؟
جواب : اس میں پہلی بات تو قابل غور ہے کہ مختلف مدات کی رقوم کو علیحدہ رکھنے اور اپنے مصرف میں صرف کرنے کا حکم روپیہ اور پیسوں اور گنی اور گلٹ کے سکوں کے ساتھ متعلق ہے جورقوم کہ کاغذی نوٹوں کی صورت میں دی جائیں ان کے ساتھ یہ حکم متعلق نہیں کیونکہ نوٹ خود مال نہیں ہیں محض وثائق ہیں اگر مختلف مدات کے لئے دیئے ہوئے نوٹ ملادیئے جائیں اور ہر ایک مد کی رقم کے موافق اس مد میں انکو صرف کردیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہر مد میں رقم صرف کردی جانے پر معطی کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
اب رہے دھات کے سکے تو ان کا حکم یہ ہے کہ مختلف مدات بلکہ ایک مد میں دی ہوئی مختلف اشخاص کی رقم بھی علیحدہ رکھنی چاہئیے اس اصول کے ماتحت مہتمم پر یہی لازم نہیں کہ وہ مد زکوٰۃ کی تمام رقم علیحدہ رکھے بلکہ یہ بھی لازم ہے کہ زکوٰۃ کی رقم بھی ہر ایک شخص کی علیحدہ رکھے خواہ رقم چارآنے کی ہو یا روپے کی یا دس روپے کی اور اگر زکوٰۃ دینے والے تین سو چار سو آدمی ہوں جن میں آنہ دوآنہ سے مثلا ً سینکڑوںروپے تک کی مختلف رقوم ہوں تو اصول بالا کی بنا پر تین چار سو تھیلیاں یا پڑیاں علیحدہ رکھنی پڑیں گی (کیونکہ الخلط استہلاک جس طرح خلط قسم بقسم اخر پر صادق آتی ہے اسی طرح خط مال واحد بمال اخر پر بھی صادق ہے ) اور اس کی دشواری اور عدم استطاعت مخفی نہیں اس لئے فقہا نے یہ حکم دے دیا ہے کہ جب کہ رقوم جمع شدہ مختلطہ اپنی اپنی مد میں صرف کردی جائیں اور اختلاط کا عرف ہونے کی وجہ سے مالکوں کی جانب سے دلالتہ ً اذن بالخلط ہوجائے تو زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی اور مہتمم پربھی کوئی گناہ یا ضمان نہ ہوگا۔
حاشیہ : یہ حکم اس وقت تھاجب نوٹوں کے پیچھے بینکوں میں سونا ہوتا تھا لیکن اب نوٹ خود ثمن عرفی بن گئے ہیں اس کے پیچھے سونا نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved