• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نفقہ نہ دینے کی وجہ سے تنسیخ نکاح کا حکم

استفتاء

اگر کسی خاتون کا خاوند نشہ کرتا ہو اور نان نفقہ پورا نہ کرتا ہو تو کیا  وہ خاتون عدالت سے تنسیخ نکاح لے سکتی ہے اور دوبارہ کسی سے نکاح  کرنا چاہے تو کیا حکم ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: (1) سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ (2) نان نفقہ سے کیا مراد ہے؟ جیب خرچ یا کھانے پینے کا خرچہ؟ (3) اگر شوہر کھانے پینے کا خرچہ نہیں دیتا تو خرچہ کیسے چلتا ہے؟

جواب وضاحت:(1) حضرت سوال اپنے گھر کا ہے۔ (2) نان نفقہ سے مراد کسی قسم کا خرچہ کھانے پکانے اور بچوں کے لیے۔ (3) خاتون لوگوں کے گھروں میں کام  کرکے ضروریات پوری کرتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر واجبی نفقہ پورا نہیں کرتا تو وہ خاتون عدالت سے تنسیخ نکاح لے سکتی ہے اور تنسیخ نکاح کے بعد عدت گزار کر کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے بشرطیکہ:

1۔وہ عورت عدالت میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنا نکاح  اور خود کو اس کی بیوی ہونا ثابت کرے ۔

2۔بیوی نے اپنا نان نفقہ بھی معاف نہ کیا ہو ۔

3۔ اور تنسیخ نکاح کی درخواست بھی نان نفقہ نہ دینے کی وجہ سے دی ہو۔

4۔عدالت کے کہنے کے باوجود بھی شوہر نفقہ پر آمادہ نہ ہوا ہو  یا نوٹس ملنے کے باوجود عدالت میں حاضر ہی نہ ہوا ہو۔

5۔ عدالت نے بھی نان نفقہ نہ دینے کی وجہ سے ہی تنسیخ نکاح کا فیصلہ کیا ہو ۔

6۔شوہر بیوی کی عدت گزرنے تک بھی نان نفقہ پر آمادہ نہ ہوا ہو۔

توجیہ:نفقہ نہ دینے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ شوہر معسر ہو یعنی اس کے پاس بیوی کا خرچہ موجود ہی نہ ہو اور  دوسری صورت یہ ہے کہ شوہر متعنت ہو یعنی خرچہ موجود ہونے کے باوجود نہ دیتا ہو ۔ دونوں صورتوں میں  فقہ حنفی کے مطابق نفقہ نہ دینے کی وجہ سے بیوی  عدالت سے نکاح  فسخ نہیں  کرواسکتی البتہ فقہ مالکی  میں   دونوں صورتوں میں فسخ نکاح کی گنجائش ہے  اور ضرورت کے وقت فقہ مالکی پر عمل کرنے کی گنجائش ہے لہٰذا مذکورہ صورت میں بیوی عدالت سے نکاح فسخ کرواسکتی ہے۔

معسر سے متعلق حوالے:

حیلہ ناجزہ (ص:147) میں ہے:

واما الجواب عن امرأة المعسر الذي لا يجد ما ينفق عليها ففي المدونة قال لنا مالك: وكل من لم يقو على نفقة امرأته فرق بينهما، ولم يقل لنا مالك حرة ولا امة وقال : لان الرجل اذا كان معسرا لا يقدر على النفقة فليس لها عليه النفقة انما لها ان تقيم معه او يطلقها كذلك الحكم فيها وقال ابن وهب عن عبد الرحمن عن أبي الزناد وعبد الجبار عن أبي الزناد انه قال: خاصمت امرأة زوجها الى عمر بن عبد العزيز وانا حاضر في امرته على المدينة، فذكرت له انه لا ينفق عليها ، فدعاه عمر فقال : انفق والا فرقت بينك وبينها، وقال عمر : اضربوا له اجل شهر او شهرين فان لم ينفق عليها الى ذلك ففرقوا بينه وبينها -……………وفي شرح بلوغ المرام : وقد اختلف العلماء فى هذا الحكم وهو فسخ النكاح عند اعسار الزوج بالنفقة على اقوال الاول: ثبوت الفسخ وهو مذهب على و عمر وابي هريرة رضى الله عنهم وجماعة من التابعين، ومن الفقهاء مالك والشافعى واحمد وبه قال اهل الظاهر مستدلين بحديث : لاضرر ولا ضرار……… وقال مالك والشافعي ايضا واحمد في اظهر رواية : ان المرأة اذا تزوجت عالمة باعساره او كان موسرا عند تزوجه ثم اصابته جائحة فانه لا فسخ لها  وفى ابن الحاجب ويثبت لها حق الفسخ بالعجز عن النفقة الحاضرة لا الماضية حرين او عبدين او مختلفتين مالم تكن علمت فقره قبل العقد كما ذكره ميارة في شرح التحفة، فاذا عرفت هذه الاقوال عرفت ان اقواها دليلا واكثرها قائلا الاول، وقد اختلف القائلون بالفسخ في تاجيله بالنفقة فقال مالك: يؤجل شهرا او شهرين، وقال الشافعي: ثلاثة ايام، قال ابن عرفة وطلقة المعسر بها رجعية اتفاقا ، وشرط رجعته يسره بنفقتها فتصح الرجعة ان وجد فى العدة يسارا يقوم بواجب مثلها لاذهد فلا تصح رجعته، لان الطلقة التى اوقعها الحاكم انما كانت لدفع ضرر عجزه فلا تصح رجعة الا اذا زال وذلك بان يجد مالو قدر عليه اولا لم يطلق عليه

احسن الفتاویٰ (5/412) میں ہے:

سوال : ایک شخص ناداری کی وجہ سے بیوی کے مصارف پر قدرت نہیں رکھتا، اور طلاق بھی نہیں دیتا، بیوی بہت پریشان ہے ، اس صورت میں شوہر سے نجات حاصل کرنے کی کیا صورت ہے ؟

جواب: شوہر کو خلع پر راضی کرنے کی کوشش کی جائے ، اگر وہ راضی نہ ہو اور عورت کو سخت مجبوری ہو، یعنی عورت خود بھی کسب معاش کی کوئی صورت اختیار نہیں کر سکتی، اور کوئی دوسرا شخص بھی اس کے مصارف کا کفیل نہیں بنتا، تو اس قسم کی ضرورت شدیدہ میں مذہب مالکی کے مطابق تفریق کی گنجائش ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ عورت قاضی کی عدالت میں درخواست پیش کرے ، قاضی کے نزدیک شرعی شہادت کی بناء پر اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو گیا تو قاضی شوہر کو ایک ماہ کی مہلت دے، اگر اس مدت میں شوہر نفقہ پر قادر نہ ہوا تو عورت کے طلب کرنے پر قاضی تفریق کر دے، یہ تفریق طلاق رجعی ہوگی، اگر عدت کے اندر شوہر نفقہ پر قادر ہو گیا تو وہ رجوع کر سکتا ہے،فتاوی مالکیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ معسر کو ایک ماہ کی مہلت دینا صحت قضاء قاضی کے لئے شرط نہیں البتہ شرط یہ ہے کہ بیوی کو بوقت عقد شوہر کے اعسار کا علم نہ ہو، یا بوقت عقد کسی کی کفالت نفقہ کی بناء پر نکاح کر لیا ہو، اور بعد میں وہ کفالت باقی نہ رہی ہو، اگر عورت کو بوقت عقد شوہر کی ناداری کا علم تھا اور کوئی نفقہ کا کفیل بھی نہ تھا تو اب اسے خیار تفریق نہیں۔

متعنت سے متعلق حوالے

حیلہ ناجزہ (ص: 150) میں ہے:

واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففى مجموع الأمير ما نصه : ان منعها نفقة الحال فلها القيام فان لم يثبت عسره انفق او طلق والا طلق عليه قال محشيه قوله والا طلق اى طلق عليه الحاكم من غير تلوم، الى ان قال: وان تطوع بالنفقة قريب او اجنبي فقال ابن القاسم لها ان تفارق لان الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبد الرحمن لا مقال لها. لان سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتفى وهو الذي تقضيه المدونه كما قال ابن المناصف انظر الحطاب، انتهى

حیلہ ناجزہ (ص:72 طبع دارالاشاعت) میں ہے:

زوجہ متعنت (جو باوجود قدرت کے حقوق نان نفقہ وغیرہ ادا نہ کرے) کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کر لے لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے  کیونکہ ان کے نزدیک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو ۔

اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگرچہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہوسکتا ہے لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قوی اندیشہ ہے۔

نوٹ: مذکورہ صورت میں اگرچہ عورت خود حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو لیکن مالکیہ کے نزدیک  یہ شرط نہیں ہے چنانچہ حیلہ ناجزہ کے حاشیہ (ص 72)میں ہے : و هذا الحكم عند المالكية لا يختص بخشية الزنا و إفلاس الزوجة لكن لم نأخذ مذهبهم على الإطلاق بل أخذناه حيث وجدت الضرورة المسوغة للخروج عن المذهب.

فتاوی عثمانی(2/462) میں ہے:

 (1) اگر کوئی شوہر ایسا ہو جو باوجود استطاعت کے اپنی بیوی کو نان و نفقہ نہیں دیتا اور عورت کے پاس نان و نفقہ کا کوئی انتظام نہ ہو اور شوہر طلاق یا خلع کے لئے بھی تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ مالکی مذہب کے مطابق اس شوہر سے عدالت کے ذریعے خلاصی حاصل کر سکتی ہے۔

 (2)خلاصی حاصل کرنے کے لئے عورت اپنا مقدمہ کسی مسلمان جج کی عدالت میں پیش کرے اور یہ ثابت کرے کہ وہ فلاں کی بیوی ہے اور وہ باوجود استطاعت کے اس کو نان و نفقہ نہیں دیتا اور نہ اس کے پاس نان و نفقہ کا کوئی انتظام ہےجس سے اس کو سخت ضر ر لاحق ہے اور وہ اس وجہ سے اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہے۔

 (3) عورت “فلاں” کے ساتھ نکاح اور اس کا مذکورہ رویہ گواہوں سے ثابت کرے اور اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں یا گواہ ہوں لیکن اس نے پیش نہ کئے تو اگر شوہر عدالت میں حاضر ہو تو اس سے قسم لی جائے گی، اگر اس نے قسم کھانے سے انکار کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ عورت کا دعوی درست ہے، اب جج شوہر سے کہے کہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق/خلع دو ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی کوئی مہلت دیئے بغیر اسی وقت بیوی پر طلاق واقع کر دے۔

 (4) لیکن شوہر یا اس کا وکیل عدالت میں حاضر نہ ہو، جیسا کہ آج کل عموما ایسا ہی ہے، اور عدالت کے بار بار نوٹس اور سمن جاری کرنے اور شوہر کے   نوٹس اور سمن کے بارے میں مطلع ہونے کے باوجود شوہر عدالت حاضر نہ ہوتا ہو تو اگر بیوی کے پاس گواہ موجود ہوں اور وہ پیش بھی کرے تو جج ان کی گواہی کی بنیاد پر بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے،اور اگر عورت کے پاس گواہ موجود نہ ہوں، یا ہوں لیکن وہ پیش نہ کرے تو شوہر کا بار بار بلانے کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہونا اس کی طرف سے قسم سے انکار (نکول) سمجھا جائے گا اور اس کی بنیاد پر عدالت شوہر غائب کے خلاف اور بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے گی۔۔۔۔۔۔۔الخ

 (5) بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ درخواست برائے فسخ نکاح نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر دے ، اور جج اپنے فیصلے میں بھی اسی کو بنیاد بنائے،خلع کا طریقہ کار ہرگز اختیار نہ کرے،اس لئے کہ یکطرفہ خلع شرعا کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں، تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیاد فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو یعنی شوہر کا “تعنت”ثابت ہو رہا ہو البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یکطرفہ فیصلہ درست نہ ہو گا تاہم فسخ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہو گیا ہے اور عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کر سکتی ہے بشرطیکہ یہ فیصلہ مذکورہ بالا شرائط اور طریقہ کار کے مطابق ہو۔

حیلہ ناجزہ (ص: 140) میں ہے:

إذا فسخ النكاح على الوجه المقرر المعتبر شرعا في حق من ذكر ثم عاد المفقود أو أيسر المعسر أو أطاع المتعنت فإن كان ذلك في العدة رجعت الزوجة لزوجها مطلقا لكون الطلاق رجعيا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved