- فتوی نمبر: 37-05
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
میرا ایک دوست کافی پریشان ہے انہوں نے پرسوں کہا کہ “قسم سے میں بادشاہی مسجد نہ گیا ہوں اور نہ ہی میں نے وہاں جا کر کبھی وہ دیکھی ہے اگر دیکھی ہو تو میری بیوی کو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے “یہ جملہ تین دفعہ بولا۔رات کو جب گھر آیا تو گھر میں اس پر بات شروع ہوئی اسکے والد نے کہا بیٹا یہ آپ نے کیا کیا ۔جب آپ چار سال کے تھے تو میں آپ کو اپنے ساتھ لے کر گیا تھا وہاں اور آپ نے بادشاہی مسجد دیکھی تھی ہم نے وہاں تصویریں بھی کھینچی تھیں ۔سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی؟ انہوں نے مجھے یہ فتویٰ پوچھنے کا کہا ہے۔
وضاحت مطلوب ہے: دوست کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔
جواب وضاحت: ****
دارالافتاء کے نمبر سے اصل سائل سے رابطہ کیا گیا تو اس نے مذکورہ بیان کی تصدیق کی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے۔ لہٰذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: طلاق اگر ماضی کے کسی ایسے کام کے ساتھ معلق کی جائے جو ماضی میں ہو چکا ہو، تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگرچہ طلاق دینے والے کا گمان یہی ہو کہ فلاں کام ماضی میں نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔
الجوہرۃ النیرۃ (2/192) میں ہے:
قال ابن رستم عن محمد: ولا يكون اللغو إلا في اليمين بالله أما إذا حلف بطلاق أو عتاق على أمر ماض وهو يظن أنه صادق فإذا هو كاذب وقع الطلاق والعتاق
شرح مختصر الکرخی (4/485) میں ہے:
اليمين الغموس تؤخذ في القسم وغيره لانه اذا حلف بطلاق أو عتاق وهو يعلم انه كاذب وقع ما حلف به وكذلك اليمين المنعقدة تؤخذ في القبيلين
فاما يمين اللغو فإنها تختص بالقسم قال ابن رستم عن محمد ولا يكون اللغو الا في اليمين بالله ومعنى ذلك أنه اذا حلف بطلاق أو عتاق على أمر ماض وهو يظن أنه صادق وهو كاذب وقع الطلاق والعتاق
مجمع الانہر (1/540) میں ہے:
وفي الخلاصة اليمين اللغو لا يؤاخذ بها صاحبها إلا في الطلاق والعتاق والنذر
المبسوط للسرخسی (6/202) میں ہے:
(قال) ولو قال أنت طالق ثلاثا إن شئت فقالت قد شئت إن كان كذا لشيء ماض كانت طالقا؛ لأن التعليق بشرط موجود يكون تنجيزا
النہر الفائق (33/49) میں ہے:
تعليق الطلاق والعتاق والنذر بأمر كائن في الماضي لا يتحقق فيه اللغو والغموس لأن الطلاق يقع به وكذا العتاق والنذر، سواء كان وقت اليمين عالما أو لم يكن
ہندیہ (1/172) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .
بدائع الصنائع (3/126) میں ہے:
إذا وجد الشرط والمرأة في ملكه …….. يقع الطلاق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved