• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے استعمال کا حکم

استفتاء

کریڈٹ کارڈ ،ڈیبٹ کارڈ کا شرعی مسئلہ کیا ہے ؟ کس حد تک جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ڈیبٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے کیونکہ اس میں  کارڈ والا  بینک میں موجود اپنی ہی رقم استعمال کرتا ہے بینک سے قرض نہیں لیتا کہ جس پر اسے سود ادا کرنا پڑے، جبکہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال ناجائز ہے  چاہے کارڈ والا اس بات کا  اہتمام بھی  کرے کے مقررہ تاریخ تک  بینک کو رقم ادا کردے گا تاکہ سود نہ دینا پڑے کیونکہ کارڈ بنواتے ہوئے بہرحال اسے بینک کے ساتھ یہ عقد کرنا پڑتا ہے کہ مقررہ دنوں تک  عدم ادائیگی کی صورت میں وہ سود دینے کےلیےتیار ہےاور سود کا عقد کرنا بھی ناجائز ہے چاہے عملا ادا کرنے کی نوبت نہ آئے۔البتہ جہاں کوئی مجبوری کی صورت ہو کہ اس کے بغیر   کام نہ ہوسکتا ہو تو مجبوری کی حد تک اس کا استعمال کرنا جائز ہے لیکن اس بات کا فیصلہ کہ یہ صورت مجبوری کی ہے یا نہیں؟ خود نہ کیا جائے بلکہ  معتبر اہل علم کو تفصیل بتا کر ان سے کروایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved