- فتوی نمبر: 26-69
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
مفتی صاحب! میرا نام زید ہے، میں اپنی بہن کے بارے میں مسئلہ معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ میری بہن کی شادی خالد کے ساتھ 8-11-2014 کو ہوئی تھی۔ شادی کے دو سال بعد 2016ء میں خالد نے یہ حرکت کی کہ اپنے بھائی بکر کے ساتھ مل کر اپنی سالی (میری دوسری بہن) زینب کو گن پوائنٹ پر اغواء کرلیا اور غائب ہوگیا۔ اس حرکت کے خلاف قانونی کاروائی کے لیے ہم نے کور کمانڈر صاحب کو درخواست لکھی جس کی کاپی ساتھ لف ہے۔ اس حرکت سے پہلے خالد نے اپنی اہلیہ یعنی میری بہن کو لڑائی کرکے گھر سے نکال دیا تھا، ان کا ایک بچہ بھی ہے، میری بہن اپنے بچے کے ساتھ ہمارے ساتھ رہ رہی ہے۔ ہم نے خالد کا سراغ لگانے کی بہت کوشش کی۔ خالد نے زینب کو اغواء کرکے کراچی میں ایک شخص کے ہاتھ بیچ دیا تھا، اس شخص نے ہم سے رابطہ کیا اور زینب کے بارے میں بتایا تو ہم کراچی گئے اور زینب کو لے آئے۔اس کے بعد 2016ء میں ہی ایک دفعہ خالد نے خود فون کے ذریعے رابطہ کیا جس میں اس نے طنزا کچھ باتیں کہیں کہ اپنی بہن کو کتنے پیسوں سے خرید کر لائے ہو وغیرہ۔ ہم نے اس کی فون کی لوکیشن معلوم کی اور اس جگہ پہنچے تو وہ وہاں سے جاچکا تھا اور اس نے وہ نمبر بھی بند کردیا۔ ہم نے ان کے گھر والوں سے بھی کئی دفعہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ خالد کہاں ہے؟ آپ کو اس کا کچھ پتہ معلوم ہے؟تو انہوں نے صاف انکار کردیا بلکہ اس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا اور ایک تحریر لاتعلقی کی لکھ کر اس پر دستخط اور انگوٹھے لگا کر ہمیں دے دی، اس کی کاپی بھی ساتھ لف ہے۔خالد ، تربیلہ میں ایک کالج میں ملازمت کرتا تھا، ہم نے وہاں سے بھی معلوم کروایا تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ کالج کے پرنسپل نے خالد کے نام 4 نومبر، 2016ء کو ایک آرڈر بھی جاری کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ فیصل کئی دن سے غیر حاضر ہے اور اس پر ایک کیس بھی ہے لہٰذا خالد حاضر ہو اور اس معاملے میں اپنا موقف پیش کرے ۔ اس آرڈر کی کاپی ساتھ لف ہے۔
خالد نے آج تک اپنے بیوی بچوں سے کبھی رابطہ نہیں کیا اور نہ کبھی خرچ دیاہے، اس سب کے بعد بالآخر ہم جب فیصل کی واپسی سے ناامید ہوگئے تو ہم نے اپنی بہن کا نکاح ختم کرنے کے لیے عدالت سےرجوع کیا، خالد کی طرف نوٹس جاری ہوئے، خالد خود تو گھر میں نہیں ہوتا تھا اس لیے اس کا بہنوئی جو اس کے گھر کے ساتھ رہتا ہے، وہ نوٹس وصول کرتا تھا، اخبار میں خبر بھی دی گئی لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا اور بالآخر مئی 2019ء میں ہم نے خلع لے لیا، جس کی کاپی ساتھ لف ہے۔ خلع لیے بھی دو سال ہوچکے ہیں۔ ابھی سننے میں آیا ہے کہ وہ فون کرتا ہے لیکن صرف اسے جو اس کے ساتھ کا ہے لیکن اس نے اپنے بیوی بچوں سے یا ہم سے کبھی رابطہ نہیں کیا۔تو کیا اس صورتحال میں دو سال پہلے لیا گیا خلع معتبر ہے؟ اور کیا ہم اپنی بہن کا نکاح کہیں اور کرسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو سال قبل عدالت سے جو فسخِ نکاح کی ڈگری حاصل کی گئی تھی اس سے نکاح ختم ہوچکا تھا لہٰذا اب عورت آزاد ہے اور جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
توجیہ: اگر شوہر غائب غیر مفقود ہو تو اس کی بیوی خرچہ نہ دینے کی بنیاد پر فقہائے مالکیہ کے نزدیک عدالت سے اپنا نکاح فسخ کروا سکتی ہے۔ مذکورہ صورت میں بھی شوہر غائب غیر مفقود ہے اور بیوی کی طرف سے عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست میں جو وجوہات ذکر کی گئی ہیں ان میں خرچہ نہ دینا بھی مذکور ہے اور اس کی دیگر شرائط بھی پائی جارہی ہیں جو درج ذیل ہیں:
(1) شوہر نان نفقہ پر قادر ہو،
(2) شوہر نان نفقہ نہ دیتا ہو،
(3) بیوی نے اپنا نان نفقہ معاف نہ کیا ہو،
(4) بیوی کی طرف سے کوئی ایسا نشوز (نافرمانی) نہ پایا گیا ہو جس کی وجہ سے وہ نفقہ کی حقدار نہ رہے،
(5) بیوی نے خرچہ نہ دینے کی بنیاد پر نکاح کو فسخ کرنے کی درخواست دی ہو،
(6)عدالت نے واقعہ کی تحقیق کرنے کے لئے شوہر کو عدالت میں بلایا ہو ،
(7) عدالت کے شوہر کو بار بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود شوہر یا اس کے وکیل کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کی صورت میں عدالت نے شوہر کے خلاف فیصلہ کردیا ہو۔ (ماخوذ ازفتاویٰ عثمانی جلد۲، صفحہ۴۶۲)
مذکورہ صورت میں اگرچہ عدالتی نوٹس شوہر کو نہیں پہنچے پھر بھی عدالت کا فسخِ نکاح کا فیصلہ درست ہے کیونکہ شوہر جب ایسا غائب ہو کہ باوجود کوشش کے اس کو نوٹس بھیجنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں عدالت شوہر کو نوٹس بھیجے بغیر بھی فسخِ نکاح کرسکتی ہے۔ جیسا کہ حیلہ ناجزہ (ص77) میں ہے:
’’اگر غائب شخص کسی دور دراز ملک میں ایسی جگہ پر ہو جہاں پوری جدوجہد اور امکانی کوشش کے باوجود بھی آدمی بھیجنے کا کوئی انتظام نہ ہو تو مذکورۃ الصدر مجبوری کے وقت اس کی بھی گنجائش ہے کہ بغیر آدمی بھیجے ہوئے حاکم یا قائم مقام حاکم واقعہ کی تحقیق حسبِ قاعدہ مذکورہ کرنے کے بعد تفریق کا حکم کردے۔کما في الرواية العاشرة للعلامة الفاهاشم‘‘
اس عبارت میں اگرچہ شوہر کے ’’دور دراز ملک میں‘‘ غائب ہونے کا ذکر ہے لیکن یہ ضروری نہیں بلکہ اصل علت یہ ہے کہ شوہر ایسا غائب ہو کہ اس کی طرف نوٹس بھیجنا ممکن نہ ہو، چاہے شوہر اسی ملک یا اسی شہر میں کسی جگہ غائب ہو، جیسا کہ حیلہ ناجزہ (ص134) میں روایۃ عاشرہ کے تحت لکھا ہے:
”طريق تطليق زوجة المفقود أو الغائب الذي تعذر الإرسال إليه أو أرسل إليه فتعاند إن كان لعدم النفقة فان الزوجة تثبت بشاهدين أن فلانا زوجها وغاب عنها ولم يترك لها نفقة ولا وكيلا بها ولا أسقطتها عنه وتحلف على ذلك فيقول الحاكم فسخت نكاحه أو طلقتك منه أو يأمرها بذلك ثم يحكم به“
فتاویٰ عثمانی (462,463/4) میں ہے:
’’اگر کسی فیصلے میں بنیادِ فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو، یعنی ’’تعنت‘‘ ثابت ہورہا ہو البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یک طرفہ فیصلہ درست نہ ہوگا تاہم فسخِ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جاے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہوگیا ہے اور عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کرسکتی ہے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved