• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غیر مملوک کی نذر ماننے کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب ایک لڑکی ہے  اسکا ایک ہی بیٹا ہےوہ انتہائی سخت بیمار ہوگیا تو اس نے منت مان لی کہ”  میرا یہ بچہ  ٹھیک ہوگیا تو میں اپنا مکان خیراتی دے دوں گی” اب وہ بچہ ٹھیک ہوگیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ بہت پریشان ہے کہ میں نے پریشانی کی وجہ سے جلدی میں مکان کی نذر مان لی اب اگر مکان کسی کو دیتے ہیں تو خود کہاں رہیں گے اور نہیں  دیتے تو منت کیسے پوری ہوگی  ؟

واضح رہے کہ دو کمروں کا مکان ہے شوہر  نے شادی سے پہلے ہی بنایا تھا شا ۔منت بیوی نے مانی ہے شوہر کو پتہ ہی نہیں تھا ۔براہ مہربانی مہر اور دستخط کے ساتھ تفصیلی جواب چاہئے۔

وضاحت(1)مکان کی مالک بیوی ہے یا شوہر؟(2)صرف نیت کی تھی یا زبان سے بھی الفاظ ادا کیے تھے اگر زبان سے بھی الفاظ ادا کیے تھے تو  الفاظ کیا تھے؟

جواب، وضاحت(1)مکان کا مالک شوہر ہے۔(2) الفاظ زبان سے ادا کیے تھے۔اور الفاظ وہی ہیں جو سوال میں ذکر کیے گئے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں منت (نذر)  منعقد ہی نہیں ہوئی۔

توجیہ:نذر   کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کی نذر  کی ہو وہ  نذر کرنے   والے کی ملک ہو مذکورہ صورت میں نذر  بیوی نے مانی ہے اور  مکان کا مالک شوہر ہے بیوی نہیں ،اس لیے  یہ نذر  منعقد ہی نہیں ہوئی۔

بدائع الصنائع (2/ 226۔۔240)میں ہے:

وأما شرائط الركن فأنواع: بعضها يتعلق بالناذر، وبعضها يتعلق بالمنذور به، وبعضها يتعلق بنفس الركن…. (وأما) الذي يرجع إلى المنذور به فأنواع:…..(منها) أن يكون متصور الوجود في نفسه شرعا، فلا يصح النذر بما لا يتصور وجوده شرعا كمن قال: لله  تعالى  علي أن أصوم ليلا أو نهارا أكل فيه…. (ومنها) أن يكون المنذور به إذا كان مالا مملوك الناذر وقت النذر، أو كان النذر مضافا إلى الملك، أو إلى سبب الملك، حتى لو نذر بهدي ما لا يملكه، أو بصدقة ما لا يملكه للحال – لا يصح، لقوله: عليه الصلاة والسلام «لا نذر فيما لا يملكه ابن آدم» إلا إذا أضاف إلى الملك، أو إلى سبب الملك بأن قال: كل مال أملكه فيما أستقبل فهو هدي، أو قال فهو صدقة

ہندیہ(2/ 65)میں ہے:

ولو قال: لله علي أن أهدي هذه الشاة وهي مملوكة الغير لا يصح النذر ولا يلزمه شيء.

شامی (5/ 526)میں ہے:

وأن لا يكون واجبا عليه قبل النذر، فلو نذر حجة الاسلام لم يلزمه شئ غيرها، وأن لا يكون ما التزمه أكثر مما يملكه أو ملكا لغيره، فلو نذر التصدق بألف ولا يملك إلا مائة لزمه المائة فقط.خلاصة انتهى.

فتاوی دارالعلوم دیوبند(12/97)میں ہے:

سوال: نذر کردن در مالِ غیر صحیح است یا نہ؟

جواب: نذر در مالِ غیر صحیح نمی شود پس ابقاء آں لازم نیست۔

فی الدرالمختار: لانه فیما لم یملک لم یوجد النذر فی الملك ……. الخ فلم يصح

وفى الشامى: أى وشرط صحة النذر أن يكون المنذور ملكا للناذر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved