• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گھر میں بنائی گئی عارضی مسجد کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گھر میں دادا جی نے نماز کے لیے جگہ مختص کی ہوئی تھی جس میں وہ اکثر نماز پڑھتے، قرآن پاک کی تلاوت فرماتے، گھر کی عورتیں بھی کبھی اس میں نماز پڑھ لیا کرتیں تھیں۔ کوئی دو،چار مہمان آجاتے تو باجماعت نماز کا بھی اہتمام کرلیا جاتا تھا۔ مستقل طور پر پنج وقتی باجماعت نماز یا پنج وقتی نماز کا اہتمام نہ تھا۔ کبھی پانچ وقت کی نماز کبھی دو وقت کی ہوجایا کرتی تھی۔ یہ بات اٹل ہے کہ مسجد کےلیے جگہ مختص تھی اس میں چھوٹا سا محراب قرآن پاک کےلیے الماری اور استنجاء خانہ بھی تھا۔سلسلہ اسی طرح چلتا رہا،  دادا جی کی زندگی کے بعد آہستہ آہستہ نظام زندگی بدلتا رہا۔زلزلے کے بعد مکانوں کی دوبارہ تعمیر کی گئی پہلے میرے والد صاحب اور چچا جان اکٹھے رہتے تھے۔ پھر ہم لوگ علیحدہ ہوگئے اور چچا جان نے اپنے مکان کو تھوڑے سے فاصلے پر بنایا اور جومسجد والی جگہ تھی وہ پرانے مکان کے ساتھ تھی جو کہ ہمارے حصہ میں آئی،  اب چچا اور ہمارا ہر قسم کا بٹوارہ ہوچکا ہےاور اس مسجد کی دیواریں اور چھت ختم ہوگئی ہیں،   ہم نے مسجد کی جگہ کو باقی رکھا اور اب ہم اس مسجد کو  دیواروں اور چھت کے بغیرتعمیر کرنا چاہتے ہیں، لیکن چچا جان کا کہنا ہےکہ میں اس مسجد کو مکمل دیوار اور چھت کےساتھ خود بنواؤں گا۔ ، واضح رہے کہ اس مسجد کی جگہ سے تھوڑا سا آگے کچھ جگہ کو بھی وہ زبردستی مسجد میں شامل کررہے ہیں حالانکہ اس کے علاوہ بھی نماز کےلیے جگہ موجود ہے اور یہ مسجد عوامی مسجد نہیں ہے صرف گھر کے افراد کےلیے بنائی گئی تھی، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک دروازہ باہر کی طرف رکھا جائےحالانکہ جگہ صرف اتنی ہےکہ بمشکل اس کے اندر8،7آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہےکہ آیا ہمارے چچا جان کو مداخلت کرنی چاہیے؟کیا دیوار اور چھت کا ڈالنا بھی ضروری ہے؟ کیاباہر کی طرف دروازہ  بنانابھی ضروری ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ جگہ شرعی مسجد نہیں بلکہ آپ کے والد صاحب کی ملکیت ہے لہٰذا وہ جس طرح چاہیں اس زمین کو استعمال کرسکتے ہیں، آپ کے چچا کا اس میں مداخلت کرنا درست نہیں اور اس مسجد کو تعمیر کرنے کےلیے اس کی چھت اور دیواریں یا باہر کی طرف دروازہ بنانا ضروری نہیں۔

توجیہ:کسی جگہ کے شرعی مسجد بننے کےلیے منجملہ دیگر شرائط کے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس کا راستہ وغیرہ علیحدہ کرکے لوگوں کو نماز کےلیے اجازت عام دے دی جائے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ یہ شرط نہیں پائی جارہی اس لیے یہ جگہ شرعی مسجد نہیں کہلائے گی۔  لہٰذا اس میں میراث کے احکام بھی جاری ہوں گے۔

فتاوی عالمگیری(454/2) میں ہے:

من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به كذا في الهداية فلو جعل وسط داره مسجدا وأذن للناس في الدخول والصلاة فيه.

الجوہرالنیرہ(3/305) میں ہے:

وإن اتخذ في وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول فيه ولم يفرده عن داره كان على ملكه وله أن يبيعه ويورث عنه بعد موته ؛ لأن ملكه محيط به وله حق المنع منه ولأنه لم يخلص لله ؛ لأنه أبقى الطريق لنفسه ولم يجعل للمسجد طريقا على حدة .

فتاوی محمودیہ (397/14) میں ہے:

اگر وہاں عارضی طور پر تیار ہونے تک نماز کا انتظام کرلیا گیاہے اوراس کو وقف کرکےمسجد نہیں بنایا گیاتو شرعی مسجد نہیں بنی، اس کا وہ حکم نہیں جو شرعی مسجد کا ہوتاہے، اس کا حال ایسا ہی ہے جیسے مکان میں کسی جگہ نماز پڑھتے ہوں، یا باغ اور کھیت میں نماز پڑھتے ہوں کہ وہ ہمیشہ کےلیے مسجد نہیں……..الی آخرہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved