• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

آئرلینڈ میں گرمیوں کے موسم میں مغرب اور عشاء کی نماز کا حکم

استفتاء

میں آئر لینڈ میں گرمیوں کے دوران مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کے حکم کے بارے میں وضاحت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔تقریبا 15 مئی سے 29 جولائی تک آئر لینڈ میں عشاء کے وقت کی علامات اور شفق کے غائب ہونے (Disappearance of twilight) کا وقت یا تو بہت زیادہ تاخیر سے ہوتا ہے یا اس کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے بہت سے مسلمانوں کے لیے، خصوصا خاندانوں، ملازمت پیشہ افراد، طلبہ اور بزرگوں کے لیے دشواری پیدا ہوتی ہے۔بعض علماء اور اسلامی کو نسلز نے اس مدت میں مشقت اور عشاء کے وقت کی صحیح علامت کے نہ ہونے یا مشتبہ ہونے کی وجہ سے مغرب اور عشاء کو جمع تقدیم کے طور پر ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔ لہذا میں درج ذیل امور کے بارے میں وضاحت چاہتا ہوں:

1۔ کیا آئر لینڈ میں اس گرمیوں کے دورانیے کے دوران مغرب کے فوراً بعد عشاء کی نماز جمعِ تقدیم کے طور پر ادا کرنا جائز ہے ؟

2۔نبی کریم صلی ا ﷺ نے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو کس طریقے سے جمع فرمایا؟ کیا آپ ﷺنے   دونوں نمازیں  ایک کے فورا بعد  ادافرمائی ؟

3۔ آئر لینڈ میں نمازوں کو جمع کرتے وقت ہمارے لیے صحیح حکم اور طریقہ کیا ہے ؟ کیا عشاء کی نماز مغرب کے فوراً بعد ادا کی جائے گی یا دونوں کے درمیان وقفہ کیاجاسکتا ہے ؟ اگر وقفہ کی اجازت ہو تو وہ کتنا ہو سکتا ہے ؟

4۔ کیا یہ رخصت مشقت اور عشاء کے حقیقی وقت کے تعین میں دشواری کی وجہ سے دی جاتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جب غروبِ شفق میں اشتباہ نہ ہو گو تاخیر ہو تو مغرب اور عشاء کو اپنے اپنے وقت میں پڑھنا ضروری ہے ایسی صورت میں نہ جمعِ تقدیم جائز ہے اور نہ جمعِ تاخیر جائز ہے البتہ غروبِ شفق میں شفقِ ابیض کا غروب ضروری نہیں بلکہ اگر شفقِ احمر بھی غائب ہوجائے تو عشاء پڑھنے کی گنجائش ہے اور جب غروبِ شفق میں اشتباہ ہو تو ایسی صورت میں جس قریبی شہر یا ملک میں اشتباہ نہ ہو اس کے مطابق عشاء پڑھیں۔

سنن ابی داؤد( 1/282)میں ہے:

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلوة الا لوقتها الا بجمع فانه جمع بين المغرب والعشاء يجمع وصلى صلوة الصبح من الغد قبل وقتها.

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی نمازاس کےاپنےوقت کے علاوہ میں پڑھتے نہیں دیکھا سوائے مزدلفہ میں کیونکہ مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا تھا اور اگلے دن فجر کی نماز اپنےمعروف وقت سے پہلے پڑھی تھی۔

المبسوط للسرخسی(1/ 149)میں ہے:

ولا يجمع بين صلاتين في وقت إحداهما في حضر ولا في سفر.

شامی (2/ 23)میں ہے:

(و) وقت (المغرب منه إلى) غروب (الشفق وهو الحمرة) عندهما…. (وفاقد وقتهما) كبلغار، فإن فيها يطلع الفجر قبل غروب الشفق في أربعينية الشتاء (مكلف بهما فيقدر لهما).

في الشامية: (قوله: فيقدر لهما) هذا موجود في نسخ المتن المجردة ساقط من المنح، ولم أر من سبقه إليه سوى صاحب الفيض، حيث قال: ولو كانوا في بلدة يطلع فيها الفجر قبل غيبوبة الشفق لا يجب عليهم صلاة العشاء لعدم السبب، وقيل يجب ويقدر الوقت. اهـ.

بقي الكلام في معنى التقدير، والذي يظهر من عبارة الفيض أن المراد أنه يجب قضاء العشاء، بأن يقدر أن الوقت أعني سبب الوجوب قد وجد كما يقدر وجوده في أيام الدجال على ما يأتي؛ لأنه لا يجب بدون السبب، فيكون قوله ويقدر الوقت جوابا عن قوله في الأول لعدم السبب.

وحاصله أنا لا نسلم لزوم وجود السبب حقيقة بل يكفي تقديره كما في أيام الدجال. ويحتمل أن المراد بالتقدير المذكور هو ما قاله الشافعية من أنه يكون وقت العشاء في حقهم بقدر ما يغيب فيه الشفق في أقرب البلاد إليهم، والمعنى الأول أظهر

مسائل بہشتی زیور(1/147)میں ہے:

مسئلہ:جن علاقوں میں رات بہت چھوٹی ہوتی ہے کہ غروب آفتاب کے کچھ ہی دیر بعد فجر طلوع ہو جاتی ہے وہاں اگر شفق ابیض غروب نہ ہوتی ہو لیکن شفق احمر کا غروب پایا جاتا ہو تو اس وقت عشاء کی نماز پڑھی جائے۔ اور جن ایام میں شفق احمر بھی غروب نہ ہو تو اس علاقہ میں جن ایام میں شفق احمر غروب ہوتی تھی ان میں سے سب سے آخری دن میں غروب آفتاب کے جتنی دیر بعد عشاء کا وقت شروع ہوا تھا اب بھی اتنی ہی دیر کے بعد عشاء کے وقت کی ابتداء فرض کی جائے گی۔

مسئلہ:جن مقامات میں چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات ہوتی ہو وہاں نمازوں کے اوقات کا اندازہ ایسے قریب ترین علاقہ کے اوقات سے کیا جائے گا جہاں چوبیس گھنٹوں میں پانچ نمازوں کے حقیقی اوقات پائے جاتے ہوں ۔

فتاوی عثمانی(1/359)میں ہے:

سوال: …………. یہاں کینیڈا میں غروب آفتاب کے بعد شفق أحمر تو غائب ہو جاتا ہے، مگر شفق ابیض رات گیارہ بجے تک یا اس سے بھی دیر تک رہتا ہے، گیارہ بجے تک کا انتظار خاصا مشکل ہے اور نماز عشاء اکثر رہ جاتی ہے، یہ انتظار اس لئے بھی مشکل ہے کہ صبح جلدی اٹھنا پڑتا ہے۔ آپ فرمائیں کہ مغرب کے بعد جلد سے جلد عشاء کی نماز کا وقت کب شروع ہو جاتا ہے؟

جواب: ……………  صورت مسئولہ میں شفق احمر کے غروب ہو جانے کے بعد عشاء کی نماز ادا کر لینے کی گنجائش ہے، عملا بقول الصاحبين في مواقع العذر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved