- فتوی نمبر: 26-310
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان
استفتاء
(1میرا سوال یہ ہے کہ کیا شی میل جماعت کےساتھ مردو ں کےصف میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟
2)اوراگر شی میل مردوں کے ساتھ صف کے بیچ میں کھڑے ہوجائیں تو نماز ہوجائے گی یا نہیں ؟
تنقیح: پیدائشی شی میل ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پیدائشی شی میل مردوں کی صف میں کھڑےہوکرنماز نہیں پڑھ سکتے اگر شی میل مردوں کی صف میں کھڑا ہوجائے تو شی میل کی اپنی نماز تو ہوجائے گی لیکن ساتھ میں دائیں اوربائیں میں کھڑے ہوئے مرداور اسی طرح جو اس کے پیچھے کھڑےہوں ان پر احتیاطاً اپنی نماز دوہرانا واجب ہوگا ۔
نوٹ: یہ حکم اس شی میل کا ہے جس میں مرد و عورت کی علامات برابر پائی جائیں۔اور اگر شی میل ایسا ہو کہ اس میں کسی ایک جانب کی علامات زیادہ پائی جاتی ہوں تو شرعی احکام کے اعتبار سے وہ شی میل شمار نہ ہوگا، بلکہ وہ یا تو مرد شمار ہوگا یا عورت۔
البنایہ(12/ 665) میں ہے:
الأصل في الخنثى المشكل أن يؤخذ فيه بالأحوط والأوثق في أمور الدين وأن لا يحكم بثبوت حكم وقع الشك في ثبوته….. وإن قام في صف الرجال فصلاته تامة ويعيد الذي عن يمينه وعن يساره والذي خلفه بحذائه صلاتهم احتياطا لاحتمال أنه امرأة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved