• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا دورانِ اذان نماز کی تیاری کے علاوہ کوئی کام جائز ہے؟

استفتاء

کیا اذان کے وقت کوئی کام (نماز کی تیاری کے علاوہ) جائز ہے؟یعنی ایک بندہ اس نے وضو مکمل کر لیا ،اب وہ مسجد میں بیٹھا ہوا ہے اور اذان ہونے لگتی ہے ۔جب کہ بندہ اپنے کسی کام میں مصروف ہے۔کیا اذان کے وقت اس کا کوئی دوسرا کام کرنا (قرآن پڑھنا،یا پھر کوئی اور کام کرنا  )  کیسا ہے؟شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جائز ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ اپنے کام چھوڑ کر اذان کا جواب دے۔

المحیط البرہانی (1/350) میں ہے:

ومن سمع الأذان، فعليه أن يجيب، قال عليه السلام: «من لم يجب الأذان فلا صلاة له» قال شمس الأئمة الحلواني تكلم الناس في الإجابة، قال بعضهم هي الإجابة بالقدم لا باللسان حتى لو أجاب باللسان ولم يمشِ إلى المسجد لا يكون مجيباً ولو كان حاضراً في المسجد حتى سمع الأذان، فليس عليه الإجابة.

شامی (2/79) میں ہے:

(ويجيب) وجوبا، وقال الحلواني ندبا، والواجب الإجابة بالقدم

(قوله: وقال الحلواني ندبا إلخ) أي قال الحلواني: إن الإجابة باللسان مندوبة والواجبة هي الإجابة بالقدم…… فهذه قرينة صارفة للأمر عن الوجوب، وبه تأيد ما صرح به جماعة من أصحابنا، من عدم وجوب الإجابة باللسان وأنها مستحبة. وهذا ظاهر في ترجيح قول الحلواني، وعليه مشى في الخانية والفيض

فتح القدیر (1/249) میں ہے:

وفي العيون: قارئ سمع النداء فالأفضل أن يمسك ويسمع

امداد الفتاوی (1/444)  میں ہے :

 سوال: جو آدمی مسجد میں ہوں   ان پر جواب اذان کا واجب ہے یا مستحب؟

 جواب: مستحب ہے۔

فی الدر المختار ولو بمسجد لا  لأنه أجاب بالحضور.

فتاوی رشیدیہ  (ص: 296) میں ہے :

سوال: درمیان کلمات اذان کے مؤذن جو وقفہ لیتا ہے اس میں بات دنیا کی جائز ہے یا نہیں؟ اور کچھ ثواب میں کمی ہوگی یا نہیں؟

جواب: دنیا کی بات اثنائے سکوت مؤذن بھی درست ہے اور جب اذان کہہ رہا ہو اس وقت بھی درست ہے مگر ثواب گھٹ جاتا ہے۔

فتاویٰ محمودیہ (5/426) میں ہے:

سوال: اذان کے وقت    ………. تلاوت جاری رکھے یا اذان کا جواب دے؟ …….. الخ

جواب: …….. اگر حالت تلاوت میں اذان ہوجائے تو یہ بہتر ہے کہ تلاوت  روک کر اذان کا جواب دے پھر دعا پڑھے، پھر اعوذ  پڑھ کر تلاوت شروع کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved