• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کو بیچ کر اس کے پیسے مسجد پر لگانے کا حکم

استفتاء

ایران کے ایک گاؤں (بالاد)کی مسجد کو ایک قطعہ زمین وقف کی ہوئی ہے تقریبا ساٹھ سال سے اس زمین سے مسجد کو کچھ نفع حاصل نہیں ہورہا،کیا  اس زمین کو بیچ کر پیسے مسجد کے کسی کام میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟

وضاحت مطلوب ہےکہ:1-زمین مسجد بنانے کے لیے وقف کی گئی تھی یا مسجد پہلے سے موجود تھی  اور زمین مسجد کو دی گئی؟2-نفع حاصل نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟کیا زمین کرائے پریا ٹھیکے پر نہیں دی جاسکتی؟

جواب وضاحت:1-زمین مسجد کی ملکیت میں دی گئی تھی تاکہ اس سے مسجد کو نفع حاصل ہو۔2-زمین اس قابل نہیں کہ اس کو استعمال کیا جائے یا کرائے پر دیا جائے اورنہ وہاں پانی کی سہولت موجود ہے جس کی وجہ سے کوئی ٹھیکے پر بھی نہیں لیتا،نیز اس زمین پر کوئی دکان وغیرہ بنانے کے لیےمسجد کی انتظامیہ کے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اس زمین کو بیچ کر اس کے پیسوں کو مسجد  میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں چونکہ اس قطعہ زمین سے مسجد کو کوئی نفع حاصل نہیں ہو رہا اس لیےاس کو بیچ کر اس کی رقم مسجد میں لگانا جائز ہے۔

الاسعاف فی احکام الاوقاف(78)میں ہے:

ولو ‌وقف ‌شجرة ‌بأصلها ‌على ‌مسجد ‌معين ‌أو ‌على ‌الفقراء ‌فإن ‌كان ‌لها ثمرة أو ورق ينتفع به كشجر الفرصاد لا تقطع إلا إذا يبست أو يبس بعضها فإنه يقطع اليابس ويترك غيره لأنه لا ينتفع باليابس وينتفع بالأخضر وإن لم يكن لها ثمرة تقطع ويصرف ثمنها فى عمارة المسجد أو يتصدق به

البحرالرائق(5/345)میں ہے:

وفي الذخيرة سئل شمس الأئمة الحلواني ‌عن ‌أوقاف ‌المسجد إذا تعطلت وتعذر استغلالها هل للمتولي أن يبيعها ويشتري مكانها أخرى قال نعم

فتاوی محمودیہ(14/464)میں ہے:

سوال:۔ مسجد میں وقف شدہ زمین کو مسجد تعمیر کرنے کے لئے متولی یادوسرے لوگوں کو فروخت کرنے کاحق حاصل ہے کہ نہیں؟اگرلوگوں نے مسجد کے لئے زمینیں وقف کیں ان میں سے بعض انتقال کرچکے ہیں ان کے ورثاء موجود ہیں،بعض  زندہ ہیں اوروقف کے وقت اس کی تفصیل نہ کی کہ یہ مسجد کے کس کام میں لگے گی، اسے بیچا جاسکتاہے، یانہیں؟ وغیرہ کچھ تصریح نہ کی تو اس حالت میں اب واقف کے ورثاء کی اجازت سے ان زمینوں کو فروخت کرکے مسجد کی تعمیر میں خرچ کیاجاسکتاہے کہ نہیں ؟بعض لوگوں نے حال میں یہی کہہ کر زمین وقف کی ہے کہ اس کو فروخت کرکے مسجد کی تعمیر میں لگا یا جائے، تواسے تعمیر کے لئے فروخت کرناکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً: جوزمین وقف کردی گئی ہے اس کو فروخت کرنے کاحق نہیں نہ متولی کونہ واقف کو نہ واقف کے ورثاء کو، جوزمین مصالح مسجد کے لئے دی گئی اس کو تعمیر مسجد کیلئے متولی ،واقف، واقف کے ورثاء اوراہل محلہ سب باہمی مشورہ سے فروخت کرناچاہیں تواس کی اجازت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved