- فتوی نمبر: 37-32
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > مہر کا بیان
استفتاء
میرے والد صاحب کا تقریباً ڈھائی سال پہلے انتقال ہوگیا ہے اور اب وراثت تقسیم ہورہی ہے۔میری والدہ دوسری بیوی ہیں ان کے نکاح نامہ میں حقِ مہر الگ درج ہے، جبکہ”خاص شرائط”والے خانے میں یہ لکھا ہوا ہے :
“ایک عدد مکان ***** رقبہ سات مرلہ ہے، دلہن کے نام کیا ہے”
لیکن والد صاحب نے زندگی میں اس مکان کی باقاعدہ رجسٹری یا انتقال والدہ کے نام نہیں کروایا، بلکہ بعد میں وہ مکان فروخت بھی کردیا تھا۔اب دریافت یہ کرنا ہے کہ:
1۔کیا نکاح نامہ میں اس شرط کے درج ہونے کی وجہ سے وہ مکان شرعاً والدہ کا حق شمار ہوگا؟
2۔اگر مکان فروخت ہوچکا ہے تو کیا اس کی قیمت والدہ کو ادا کرنا لازم ہوگی؟
3۔ یہ حق وراثت تقسیم ہونے سے پہلے ادا کیا جائے گا یا نہیں؟
پہلی بیوی کی اولاد کا بیان:
دارالافتاء کے نمبر سے پہلی بیوی کے بیٹے سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا:
والد صاحب دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ لاہور رہتے تھے ہمارے خیال میں انہوں نے بیوی بچوں کی مشاورت سے مکان بیچا ہے اور انہی پر خرچ کیا ہے۔
دوسری بیوی کا بیان:
شوہر نے مکان میری رضامندی کے بغیر بیچا تھا اور اس مکان کی قیمت مجھے ادا نہیں کی اور میں نے یہ رقم ان کو معاف بھی نہیں کی، انہوں نے زبانی طور پر یہ کہا تھا کہ اس مکان کے بدلے لاہور والا مکان آپ کا ہوگیا لیکن رجسٹری وغیرہ کروانے کا موقع نہیں ملااور ان کا انتقال ہوگیا، یہ بات صرف زبانی ہوئی تھی اس لیے پہلی بیوی کے بچے اس کو تسلیم نہیں کرتے۔
وضاحت مطلوب ہے: کبھی آپ کے والد نے گھر خالی کرکے آپ کی والدہ کو کہا ہے کہ آپ اس پر قبضہ کرلیں۔
جواب وضاحت: مکان جب والدہ کے نام کیا گیا اس وقت اس میں کرائے دا ر رہ رہے تھے اس کا کرایہ والد صاحب ہی لیتے تھے جب کبھی گاؤں جاتے تھے تو والد صاحب والدہ کو کہتے تھے آؤ تمہیں تمہارے کرائے داروں سے ملواتا ہوں، گھر خالی کرواکر والدہ کو قبضہ نہیں دیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ صورت میں نکاح نامے میں درج مکان مرحوم کی دوسری بیوی (سائل کی والدہ) کا حق شمار ہوگا۔
2۔ مذکورہ صورت میں اگر واقعتا شوہر نے بیوی کی اجازت کے بغیر یہ گھر بیچا تھا اور اس کی قیمت بیوی کو ادا نہیں کی تھی اور بیوی نے اپنا یہ حق شوہر کو معاف بھی نہیں کیا تو اس مکان کی قیمت مرحوم کے ترکہ میں سے مرحوم کی دوسری بیوی (سائل کی والدہ) کو ادا کرنا لازم ہوگی۔
3۔ یہ حق وارثت کی تقسیم سے پہلے ادا کیا جائے گا۔
تو جیہ: خاص شرائط میں لکھے ہوئی زمین کی تین توجیہات ہو سکتی ہیں:
(1)عرف کی بنیاد پر مہر پر محمول کیا جائے، کیونکہ کچھ علاقوں کے عرف میں اگرچہ نکاح کے موقع پر اس کے مہر ہونے کی تصریح نہیں کی جاتی لیکن اسے لازم سمجھا جاتا ہے اور شوہر کے ذمہ واجب الادا سمجھا جاتا ہے، (2) اگر وعدے کے الفاظ ہوں تو اس کو وعدے پر محمول کیا جائے مثلا اگر یہ لکھا ہو کہ “شوہر پانچ مرلہ زمین بیوی کے نام کرے گا ” تو اسے وعدے پر محمول کیا جائے ۔ (3)اگر ہبہ کے الفاظ ہوں تو ہبہ پر محمول کیا جائے، مثلاً اگر یہ لکھا ہو کہ “شوہر نے پانچ مرلہ زمین بیوی کے نام کر دی” تو اسے ہبہ پرمحمول کیا جائے ۔
لہذا مذکورہ صورت اگر سائل کے عرف میں اسے مہر سمجھا جاتا ہے تو مہر ہونے کی وجہ سے یہ گھر مرحوم کی بیوی کا حق ہے اور اگر سائل کے عرف میں اسے مہر نہیں سمجھا جاتا تو نکاح نامے کی شرائط میں درج یہ الفاظ کہ” ایک عدد مکان*****رقبہ سات مرلہ دلہن کی نام کیا ہے” ہبہ کے الفاظ ہیں لہذا مذکورہ گھر بیوی کو ہبہ ہو گیا پھر اگرچہ احناف کے نزدیک ہبہ تام ہونے کے لیے قبضہ شرط ہے اور مذکورہ صورت میں بیوی نے مکان پر قبضہ نہیں کیا لیکن چونکہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ہبہ میں قبضہ شرط نہیں اور عوام الناس کو اس شرط کا علم بھی نہیں ہوتا اس لیے امام مالکؒ کے قول کے پیش نظر قبضہ والی شرط کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے لہذا مذکورہ مکان دوسری بیوی کی ملکیت ہو گیا پھر چونکہ شوہر نے بیوی کی اجازت کے بغیر مذکورہ مکان بیچا ہے اور بیوی کو اس کی قیمت بھی نہیں ادا کی اور بیوی نے یہ رقم شوہر کو معاف بھی نہیں کی لہذا یہ شوہر کے ذمہ دین ہے اور دین وراثت کی تقسیم سے پہلے ادا کیا جاتا ہے اس لیے پہلے مذکورہ مکان کی قیمت بیوی کو ادا کی جائے گی یا اس کے بدلے میں لاہور والا مکان دیا جائے گا پھر وراثت تقسیم ہوگی۔
شامی (4/264) میں ہے:
«ونظير ما في الخانية ما هو معروف بين الناس في زماننا من أن البكر لها أشياء زائدة على المهر: منها ما يدفع قبل الدخول كدراهم للنقش والحمام وثوب يسمى لفافة الكتاب وأثواب أخر يرسلها الزوج ليدفعها أهل الزوجة إلى القابلة وبلانة الحمام ونحوها. ومنها ما يدفع بعد الدخول كالإزار والخف والمكعب وأثواب الحمام، وهذه مألوفة معروفة بمنزلة المشروط عرفا؛ حتى لو أراد الزوج أن لا يدفع ذلك يشترط نفيه وقت العقد أو يسمي في مقابلته دراهم معلومة يضمها إلى المهر المسمى في العقد، وقد سئل عنها في الخيرية فأجاب بما حاصله أن المقرر في الكتب من أن المعروف كالمشروط يوجب إلحاق ما ذكر بالمشروط، وإن علم قدره لزم كالمهر وإلا وجب مهر المثل لفساد التسمية إن ذكر أنه من المهر، وإن ذكر على سبيل العدة فهو غير لازم بالكلية، والذي يظهر الأخير، وما في الخانية صريح فيه ثم ذكر عبارة الخانية المارة وما تقدم من اعتراضه على البحر
وأنت خبير بأن هذه المذكورات تعتبر في العرف على وجه اللزوم على أنها من جملة المهر، غير أن المهر منه ما يصرح بكونه مهرا ومنه ما يسكت عنه بناء على أنه معروف لا بد من تسليمه، بدليل أنه عند عدم إرادة تسليمه لا بد من اشتراط نفيه أو تسمية ما يقابله كما مر، فهو بمنزلة المشروط لفظا فلا يصح جعله عدة وتبرعا، وكون كلام الخانية صريحا فيه قد علمت ما يناقضه وينافيه. وقد رأيت في الملتقط التصريح بلزومه كما قلنا حيث ذكر في مسألة منع المرأة نفسها حتى تقبض المهر فقال: ثم إن شرط لها شيئا معلوما من المهر معجلا فأوفاها ذلك ليس لها أن تمنع نفسها، وكذلك المشروط عادة كالخف والمكعب وديباج اللفافة ودراهم السكر على ما هو عادة أهل سمرقند، وإن شرطوا أن لا يدفع شيء من ذلك لا يجب، وإن سكتوا لا يجب إلا من صدق العرف من غير تردد في الإعطاء لمثلها من مثله وللعرف الضعيف لا يلحق المسكوت عنه بالمشروط. اهـ. ثم رأيت المصنف أفتى به في فتاويه
وحاصله أن ذلك إن صرح باشتراطه لزم تسليمه، وكذا إن سكت عنه وكان العرف به مشهورا معلوما عند الزوج. ولا يخفى أن هذا لو كان تبرعا وعدة لم يكن لها منع نفسها لقبضه ولا المطالبة به،
ہندیہ (4/ 375) میں ہے:
وهبت هذا الشيء لك، أو ملكته لك، أو جعلته لك، أو هذا لك، أو أعطيتك، أو نحلتك هذا، فهذا كله هبة، وأما الثاني فكقوله: كسوتك هذا الثوب، أو أعمرتك هذه الدار فهو هبة،
شامی (8/570) میں ہے:
قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اهـ.
وفي المنح عن الخانية بعد هذا قال: جعلته لابني فلان، يكون هبة؛ لأن الجعل عبارة عن التمليك، وإن قال: أغرس باسم ابني، لا يكون هبة، وإن قال: جعلته باسم ابني، يكون هبة؛ لأن الناس يريدون به التمليك والهبة اهـ.وفيه مخالفة لما في الخلاصة كما لا يخفى اهـ.قال الرملي: أقول: ما في الخانية أقرب لعرف الناس تأمل اهـ.
درر الحكام فی شرح مجلۃ الأحكام (2/ 397) میں ہے:
«: لا تنعقد الهبة بوعد الهبة مثلا لو وعد شخص آخر قائلا له: إنني سأهبك ما في ذمتك من الدين لي إلا أنه لم يهبه إياه فلا يجبر ذلك الشخص على الهبة للوعد الذي وقع منه إذ ليس للوعد من حكم
ہدایہ (3/ 222) میں ہے:
الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: “تهادوا تحابوا” وعلى ذلك انعقد الإجماع “وتصح بالإيجاب والقبول والقبض” أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك. وقال مالك: يثبت الملك فيه قبل القبض اعتبارا بالبيع
شامی (10/528) میں ہے:
بدأ من تركة الميت …….. (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ككفن السنة أو قدر ما كان يلبسه في حياته ولو هلك كفنه فلو قبل تفسخه كفن مرة بعد أخرى وكله من كل ماله (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد)
کنز الدقائق (ص:696) میں ہے:
يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته
مسائل بہشتی زیور (2/332) میں ہے:
مسئلہ: تم نے زید کو کہا کہ یہ چیز میں نے تم کو ہدیہ میں دی اور زید نے کہا میں نے قبول کی اور اس چیز پر قبضہ کر لیایا منہ سے کچھ نہیں کہا بلکہ تم نے اس کے ہاتھ پر رکھ دی اور اس نے لے لی تو اب وہ چیز اس کی ہوگئی اب تمہاری نہیں رہی بلکہ وہی اس کا مالک ہے، اس کو شرع میں ہبہ کہتے ہیں۔ لیکن اس کی کئی شرطیں ہیں۔ ایک تو اس کے حوالہ کر دینا اور اس کا قبضہ کر لینا ہے اگر تم نے کہا یہ ہم نے تم کو دے دی اس نے کہا ہم نے لے لی لیکن ابھی تم نے اس کے حوالے نہیں کی تو یہ دینا صحیح نہیں ہوا۔ ابھی وہ چیز تمہاری ہی ملک ہے البتہ اگر اس نے اس چیز پر قبضہ کر لیا تو اب قبضہ کر لینے کے بعد اس کا مالک بنا۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ہبہ میں قبضہ کرنا ہبہ میں کسی طور سے بھی شرط نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved