- فتوی نمبر: 36-03
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > وجوب زکوۃ کا بیان
استفتاء
گزارش ہے کہ میرے دو یتیم نابالغ پوتا پوتی ہیں جن کے لیے میں نے کچھ پیسے کرنٹ اکاؤنٹ میں بطور امانت رکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ بچے بالغ ہو جائیں گے تو کسی مناسب موقع پر یا شدید ضرورت کے لیے(مثلاً شادی بیاہ،علاج معالجہ یا تعلیم کے اخراجات وغیرہ) یہ روپے انہیں دے دیے جائیں گے میں نے اپنے سب بچوں کو یہ بتا دیا ہے کہ یہ پیسے میرے نابالغ پوتا پوتی کے لیے ہیں کیا ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ان مذکورہ پیسوں میں زکوۃ دینا واجب ہوگی یا نہیں ؟
تنقیح: بچوں کی والدہ نے دوسری شادی کرلی ہے اور بچے بھی انہی کیساتھ رہتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ پیسوں میں زکوٰۃ واجب نہیں۔البتہ جب یہ بچے بالغ ہوجائیں گے تب ان میں سے ہر ایک کے حصے میں اگر نصاب کے بقدر پیسے ہوں تو ان پر زکوٰۃ اور قربانی واجب ہوگی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں جب دادا نے یہ کہہ دیا کہ “یہ پیسے میرے یتیم پوتا پوتی کیلئے ہیں ” تو یہ کہنے سے وہ پیسے ان کو ہدیہ ہوکر ان کی ملکیت میں چلے گئے کیونکہ باپ کے نہ ہونے کے وقت دادا کےاپنے نابالغ پوتوں کو ہبہ کرنے کیلئے صرف کہنے سے ہبہ ہو جاتا ہے کسی کے قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور چونکہ نابالغ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اسی لیے مذکورہ پیسوں میں فی الحال زکوٰۃ واجب نہیں ۔
العنایہ شرح الہدایہ(9/ 33) میں ہے:
«(وإذا وهب الأب لابنه الصغير هبة ملكها الابن بالعقد) والقبض فيه بإعلام ما وهبه له وليس الإشهاد بشرط إلا أن فيه احتياطا للتحرز عن جحود الورثة بعد موته أو جحوده بعد إدراك الولد (لأنه) أي لأن الموهوب (في قبض الأب فينوب عن قبض الهبة) ويد مودعه كيده…. وكذا إذا وهبت الأم لولدها الصغير وهو في عيالها والأب ميت ولا وصي له) وقيد بقوله وهو في عيالها ليكون لها عليه نوع ولاية، وقيد بموت الأب وعدم الوصي لأن عند وجودهما ليس لها ولاية القبض (وكذا كل من يعوله) نحو الأخ والعم والأجنبي جاز له قبض الهبة لأجل اليتيم. قيل: أطلق جواز قبض هؤلاء، ولكن ذكر في الإيضاح ومختصر الكرخي أن ولاية القبض لهؤلاء إذا لم يوجد واحد من الأربعة وهو الأب ووصيه والجد أبو الأب بعد الأب ووصيه، فأما مع وجود واحد منهم فلا، سواء كان الصبي في عيال القابض أو لم يكن، وسواء كان ذا رحم محرم منه أو أجنبيا لأنه ليس لهؤلاء ولاية التصرف في ماله، فقيام ولاية من يملك التصرف في المال يمنع ثبوت حق القبض له
درمختار مع ردالمحتار (2/ 258)میں ہے:
«(وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية)
(قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها
مسائل بہشی زیور (2/345) میں ہے:
اگر باپ یا اس کے نہ ہونے کے وقت دادا اپنے بیٹے پوتے کو کوئی چیز دینا چاہے تو بس اتنا کہہ دینے سے ہبہ ہو جائے گا کہ میں نے اس کو یہ چیز دے دی۔ اور باپ دادا نہ ہو اس وقت ماں بھائی وغیرہ بھی اگر اس کو کچھ دینا چاہیں اور وہ بچہ ان کی پرورش میں بھی ہو تو ان کے اس کہہ دینے سے بھی وہ بچہ مالک ہو گیا کسی کے قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved