• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

نماز میں صرف ایک بڑی آیت کا پڑھنا

استفتاء

محترم المقام مفتی صاحب۔ بتائیے امام صاحب نے عشاء کی نماز ، دوسری رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد صرف ایک آیت” ومن الناس۔۔۔ وما ھم بمؤمنین” پڑھ کر جماعت کروا دی۔ کیا نما زہو گئی؟اگر ہوئی تو کیا ایک آیت ملانے سے نماز ہو جاتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں نماز ہو گئی۔ نیز ایک آیت اگر بڑی ہو تو بالاتفاق نماز ہو جاتی ہے۔

رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، واجبات الصلاۃ (جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 185 طبع: مکتبہ رشیدیہ) میں ہے:

"( وضم ) أقصر ( سورة ) كالكوثر أو ما قام مقامها ، هو ثلاث آيات قصار ، نحو { ثم نظر ثم عبس وبسر ثم أدبر واستكبر } وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا ذكره الحلبي

قال ابن عابدین: ( قوله تعدل ثلاثا قصارا ) أي مثل – { ثم نظر } – إلخ وهي ثلاثون حرفا ، فلو قرأ آية طويلة قدر ثلاثين حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات ، لكن سيأتي في فصل يجهر الإمام أن فرض القراءة آية وأن الآية عرفا طائفة من القرآن مترجمة أقلها ستة أحرف ولو تقديرا كلم يلد إلا إذا كانت كلمة فالأصح عدم الصحة ا هـ ومقتضاه أنه لو قرأ آية طويلة قدر ثمانية عشر حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات”

فتاوی عالمگیری، کتاب الصلاۃ، باب الرابع، فصل الثانی(جلد نمبر 1صفحہ نمبر 142 طبع: مکتبہ رشیدیہ) میں ہے:

"وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق”

مسائل بہشتی زیور جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 164 (طبع :مجلس نشریات اسلام) پر ہے:

"مسئلہ:امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایک آیت کے پڑھنے سے اگرچہ چھوٹی ہو قراء ت کا فرض ادا ہو جاتا

 ہے۔ ایک چھوٹی آیت سے مراد یہ ہے کہ جس میں دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں جیسے ثُمَّ قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ اور  ثُمَّ نَظَرَ۔امام ابو یوسف ؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک تین چھوٹی آیتیں یا ان کے برابر ایکبڑی آیت پڑھنا فرض ہے”

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved