• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ریل گاڑی میں فرض نماز پڑھنے کا حکم

استفتاء

اگر کوئی ریل گاڑی میں ہو اور فرض نماز کا وقت ہوجائے اور گاڑی سے اترنا بھی ممکن نہ ہو تو اب فرض نماز گاڑی  میں پڑھ سکتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پڑھ  سکتا ہے بلکہ پڑھنا  لازمی  ہے۔

توجیہ: ریل گاڑی زمین پر رکھے ہوئے تخت کی مانند ہے اور زمین پر رکھے ہوئے تخت پر نماز ہوجاتی ہے لہذا ریل گاڑی پر بھی نماز ہوجاتی ہے اور جب ریل گاڑی  میں نماز ہوجاتی ہے تو نماز پڑھنا ضروری ہے ، قضا کرنا جائز نہیں۔

ہندیہ (1/50) میں ہے:

‌الصلاة ‌فريضة محكمة لا يسع تركها ويكفر جاحدها

شامی (2/591) میں ہے:

(‌وأما ‌الصلاة ‌على العجلة إن كان طرف العجلة على الدابة وهي تسير أو لا) تسير (فهي صلاة على الدابة، فتجوز في حالة العذر) ……. (لا في غيرها)….. (وإن لم يكن طرف العجلة على الدابة جاز) لو واقفة لتعليلهم بأنها كالسرير.

(قوله ‌لو ‌واقفة) كذا قيده في شرح المنية ولم أره لغيره، يعني إذا كانت العجلة على الأرض ولم يكن شيء منها على الدابة وإنما لها حبل مثلا تجرها الدابة به تصح الصلاة عليها لأنها حينئذ كالسرير الموضوع على الأرض، ومقتضى هذا التعليل أنها لو كانت سائرة في هذه الحالة لا تصح الصلاة عليها بلا عذر وفيه تأمل لأن جرها بالحبل وهي على الأرض لا تخرج به عن كونها على الأرض؛ ويفيده عبارة التتارخانية عن المحيط. وهي: لو صلى على العجلة، إن كان طرفها على الدابة وهي تسير تجوز في حالة العذر لا في غيرها، وإن لم يكن طرفها على الدابة جازت، وهو بمنزلة الصلاة على السرير اهـ فقوله وإن لم يكن إلخ يفيد ما قلنا لأنه راجع إلى أصل المسألة، وقد قيدها بقوله وهي تسير ولو كان الجواز مقيدا بعدم السير لقيده به فتأمل

امداد الفتاویٰ (2/499) میں ہے:

نمازپڑھنے کیلئے ریل سے اترنے کی کوئی حاجت نہیں ہے اگرریل مثل سریر موضوع علی الأرض کے ہے توظاہر ہے اور یہی صحیح بھی معلوم ہوتا ہے …………اور اگرمثل عجلہ محمولہ علی الدابہ کے بھی مانی جاوے تب بھی بوجہ عذر کے اترنے کی کوئی ضرورت نہیں اور عذر یہی ہے کہ چلتی ریل میں اترنہیں سکتا کھڑی ریل میں ریل کے چلدینے یامال کے تلف ہونے کا اندیشہ ہے ……… اگرچہ یہ بھی امید ہو کہ نماز کے وقت رہنے تک مجھ کو اترکرپڑھنا ممکن ہے تب بھی ریل میں بہرحال پڑھناجائز ہوگا کیونکہ عذر وقت شروع نماز کے معتبر ہے اگرچہ آخر وقت میں زوال اس کا متوقع ہے۔

امداد المفتين جامع (4/259)  میں ہے:

سوال: ریل گاڑی میں سفر کے دوران چلتی ریل گاڑی کے اندر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: جائز ہے بلکہ واجب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved