• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سردی کی وجہ سے ہاتھ اور پاؤں خراب ہونے کی صورت میں تیمم کرنا

استفتاء

میری بیٹی کے  ہاتھ سردی کی وجہ سے خراب ہوجاتے ہیں کیا اس حالت میں وہ نماز  کے لیے تیمم کر سکتی  ہے؟ جب ہاتھوں پر پانی لگتا  ہے تو زخموں سے پانی رسنا شروع ہو جاتا ہے۔

وضاحت مطلوب ہے: کیا یہ مسئلہ صرف ہاتھوں کا ہے یا چہرے اور پاؤں کا بھی یہی مسئلہ ہے؟

جواب وضاحت: صرف  ہاتھوں  اور پاؤں کا مسئلہ  ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر گرم پانی بھی نقصان دہ ہو تو بہتر ہے کہ جو اعضاء صحیح ہیں ان کو دھو لے اور جو خراب ہیں ان پر مسح کرے اور تیمم کی بھی گنجائش ہے  ۔

توجیہ: جب آدھے اعضاء صحیح ہوں اور آدھے خراب  ہوں تو غسل و مسح کو جمع کرنا احوط ہے لیکن چونکہ کچھ اعضاء دھونے کے لیے ہاتھوں سے پانی لینا پڑے گا جو ہاتھوں کے لیے نقصان دہ ہے ۔ نیز بعض مشائخ نے اس صورت میں تیمم کی بھی گنجائش دی ہے اس لیے اگر کسی کی مدد سے یا شاور وغیرہ کے استعمال سے غسل و مسح کو جمع نہ کیا جا سکتا ہو تو تیمم کی بھی گنجائش ہے۔

درمختار (1/257) میں ہے:

(تيمم لو) كان (أكثره) أي ‌أكثر ‌أعضاء ‌الوضوء عددا وفي الغسل مساحة (مجروحا) أو به جدري اعتبارا للأكثر (وبعكسه يغسل) الصحيح ويمسح الجريح (و) كذا (إن استويا غسل الصحيح) من أعضاء الوضوء، ولا رواية في الغسل (ومسح الباقي) منها (وهو) الأصح؛ لأنه (أحوط) فكان أولى وصحح في الفيض وغيره التيمم، كما يتيمم لو الجرح بيديه وإن وجد من يوضئه خلافا لهما

البحر الرائق (1/171) میں ہے:

‌فلو ‌استويا ‌لا ‌رواية فيه واختلف المشايخ منهم من قال يتيمم ولا يستعمل الماء أصلا وقيل يغسل الصحيح ويمسح على الباقي واختار القول الأول في الاختيار وقال إنه أحسن وفي الخلاصة أنه الأصح وفي فتح القدير تبعا للزيلعي أنه الأشبه بالفقه، وهو المذكور في النوادر واختار في المحيط الثاني.

وقال: وهو الأصح وفي فتاوى قاضي خان، وهو الصحيح ولا يخفى أنه أحوط فكان أولى وفي القنية والمبتغى بالغين المعجمة بيده قروح يضره الماء دون سائر جسده يتيمم إذا لم يجد من يغسل وجهه وقيل يتيمم مطلقا اهـ.

فهذا يفيد أن قولهم إذا كان الأكثر صحيحا يغسل الصحيح محمول على ما إذا لم يكن باليدين جراحة كما لا يخفى

ہندیہ (1/28) میں ہے:

‌وإن ‌كان ‌نصف البدن صحيحا والنصف جريحا اختلف المشايخ فيه والأصح أنه يتيمم ولا يستعمل الماء

مسائل بہشتی زیور(1/95) میں ہے :

اگر آدھے اعضائے وضو صحیح ہوں  اور آدھے زخمی ہوں تو صحیح اعضاء کو دھو لے اور زخمی اعضاءپر مسح کر لے لیکن اگر صحیح عضو کو دھونے میں زخمی عضو پر بھی پانی پہنچتا ہے تو تیمم کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved