• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

تقسیم میراث کی ایک صورت

استفتاء

ہم سات7 بہن بھائی ہیں۔ میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا پھر میری والدہ نے دوسری شادی کرلی تھی اور میں اپنے والد کا اکیلا بچہ تھا، کوئی اور بہن بھائی سگے نہ تھے۔ باقی چھ بھائی بہن میری والدہ کے دوسرے شوہر سے ہیں اور سب حیات ہیں اب والدہ مرحومہ کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟میری والدہ کو میراث ان کے والد سے ملی تھی یعنی نانا سے۔میری والدہ کے دوسرے شوہر انکی زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔

وضاحت مطلوب ہے: (1) آپ کی نانی حیات ہیں یا فوت ہو چکی ہیں؟(2) چھ سوتیلے بہن بھائیوں میں سے کتنے بھائی اور کتنی بہنیں ہیں؟

جواب وضاحت:  (1)نانی فوت ہوچکی ہیں۔ (2) تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں والدہ مرحومہ کے ترکے کے 11حصے کیے جائیں گے جن میں سے چار بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو،دو حصے (18.18فیصد) اور تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک،ایک حصہ (9.09فیصد) ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

11       والدہ

4بیٹے 3بیٹیاں
عصبہ
2+2+2+2 1+1+1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved