• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

استاد حضرات کا مدرسہ سے کھانا کھانے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس  مسئلہ کے بارے میں کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے مسافر طلبائے کرام کے لیے جو صدقات وخیرات کا مال آتا ہے اس میں سے مدرسہ میں کام کرنے والے افراد  بمع مہتمم مدرسہ وبشمول جملہ سٹاف کے کھانا کھا سکتے ہیں؟ جبکہ وہ تنخواہ بھی لیتے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر مدرسین اور مہتمم  مدرسہ کا کھانا طے ہے اور کھانے میں صدقات  کو تملیک کے بعد استعمال کیا جاتا ہے تو جائز ہے  اور اگر کوئی اور صورت ہے تو متعلقہ مدرسے والے اس کی تفصیل بتا کر خود مسئلہ معلوم کریں۔

در مختار (3/341)میں  ہے:

ويشترط أن يكون الصرف (‌تمليكا) ‌لا‌ إباحةكما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجدقوله:(نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكرى الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه .

فتاوی عالمگیری (4/244) میں ہے:

وكذلك من عليه الزكاة لو أراد صرفها إلى بناء المسجد أو القنطرة لا يجوز فإن أراد الحيلة فالحيلة أن يتصدق به المتولي على الفقراء ثم الفقراء يدفعونه إلى المتولي ثم المتولي يصرف إلى ذلك .

فتاوی محمودیہ(15/550) میں ہے:

اور اگر کسی غریب مستحق زکوۃ کو زکوۃ دے کر مالک بنا دیا جائے اور وہ اپنی طرف سے مدرسہ میں دیدے تو اس کو بھی تعلیم میں خرچ کرنا درست ہے، خواہ تنخواہ میں دیا جائےیا تعمیری کام میں خرچ کیا جائے۔

والحيلة أن يتصدق به على الفقير ، ثم يأمره بفعل هذه الأشياء،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved