- فتوی نمبر: 37-06
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
ہماری تقریبا چھ کنال پر مشتمل جگہ مسجد اور مدرسے کے لیے وقف ہے، وقف نامہ اور انتقال ہو چکا ہے،مدرسہ کی کچھ عمارت بھی بن چکی ہے اور مسجد ابھی تعمیر کے مراحل میں داخل نہیں ہوئی، اس جگہ کے تین اطراف میں دیگر افراد کی زمینیں ہیں مدرسہ کی مغربی جانب جس بندے کی زمین ہے اس بندے کو اپنی زمین تک پہنچنے کے لیے کسی بھی طرف سے راستہ نہیں مل رہا، چنانچہ اپنی زمینوں پر پہنچنے کے لیے راستہ بنانے کی خاطر وہ مدرسہ کو یہ پیشکش کرتا ہے کہ مدرسہ سے راستہ نکال دیا جائے اس کی جو قیمت بھی آپ طے کریں میں دینے کے لیے تیار ہوں،یا اس کے متبادل جتنی جگہ بنتی ہو اتنی یا اس سے زیادہ اپنی زمین سے مسجد مدرسے کو میں دے دوں گا،اہل مدرسہ کا کہنا یہ ہے کہ مدرسہ کی مغربی جانب جو مستقبل میں آبادی اور کالونیاں ہوں گی (فی الحال تو صرف کھیت ہی کھیت ہیں) ان کے مسجد میں آنے کے لیے بھی کوئی نہ کوئی راستہ ہونا لازمی ہے ۔چنانچہ یہ راستہ اپنی مسجد کے لیے وقف کے طور پر ہی رکھیں ۔صرف اس کو آمد و رفت کے لیے راستہ عام کی طرح کھلا قرار دے دیا جائے یعنی اس کی موقوفہ حیثیت ختم نہ ہو بس دیگر افراد بھی شارع عام کی طرح اسے استعمال کرتے رہیں،تاہم اتنا ضرور ہوگا کہ آئندہ اس راستے کو اگر بند کر کے مدرسے کے استعمال میں لانا چاہیں تو شاید ایسا ممکن نہ ہو سکے۔اس پوری تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے دریافت یہ کرنا ہے کہ مدرسے ومسجد کی اس موقوفہ جگہ میں سے راستہ فروخت کرنا یا متبادل زمین کے ساتھ دینا یا ویسے راستہ بنا کر گزرنے کی اجازت دے دینا شرعا درست ہے یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں موقوفہ زمین کو اس سے زیادہ قیمت کی زمین سے بدلنا تو جائز ہے تاہم قیمت لے کر بیچنا یا اس میں سے راستہ دینا جائز نہیں۔
توجیہ: اگر استبدال زمین کا زمین سے ہو اور بدلے میں ملنے والی زمین موقوفہ زمین سے زیادہ قیمتی ہو تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک گنجائش ہے۔
البحر الرائق (5/240) میں ہے:
وقد اختلف كلام قاضي خان في موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه وفي موضع منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش وشرط في الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل كي لا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا. اهـ.
ويجب أن يزاد آخر في زماننا وهو أن يستدل بعقار لا بالدراهم والدنانير فإنا قد شاهدنا النظار يأكلونها وقل أن يشترى بها بدل ولم نر أحدا من القضاة يفتش على ذلك مع كثرة الاستبدال في زماننا مع أني نبهت بعض القضاة على ذلك وهم بالتفتيش ثم ترك فإن قلت كيف زدت هذا الشرط والمنقول السابق عن قاضي خان يرده قلت لما في السراجية سئل عن مسألة استبدال الوقف ما صورته وهل هو على قول أبي حنيفة وأصحابه أجاب الاستبدال إذا تعين بأن كان الموقوف لا ينتفع به وثم من يرغب فيه ويعطي بدله أرضا أو دارا لها ريع يعود نفعه على جهة الوقف فالاستبدال في هذه الصورة قول أبي يوسف ومحمد وإن كان للوقف ريع ولكن يرغب شخص في استبداله إن أعطى مكانه بدلا أكثر ريعا منه في صقع أحسن من صقع الوقف جاز عند القاضي أبي يوسف والعمل عليه وإلا فلا يجوز اهـ.
فقد عين العقار للبدل فدل على منع الاستبدال بالدراهم والدنانير وفي القنية مبادلة دار الوقف بدار أخرى إنما يجوز إذا كانتا في محلة واحدة أو تكون المحلة مملوكة خيرا من المحلة الموقوفة وعلى عكسه لا يجوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved