• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

وراثت کی تقسیم

استفتاء

مفتی صاحب وراثت کے بارے میں سوال ہے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمارے والد(الیاس) کا انتقال ہوا۔ اس وقت ہمارے دادا،  دادی اور ہم پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا اور ایک بیوی زندہ تھے پھر دادی کا انتقال ہوا اس وقت ان کے ورثاء میں دادا چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور یہ سب حیات ہیں ہمارے والد مرحوم کی  وراثت 91,50,000 روپے ہے یہ رقم ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگی؟

تنقیح:دادا نے دادی کو بہت پہلے طلاق دے دی تھی اور دادا ہمارے والد کے انتقال سے بہت پہلے ہی ہم سب سے لا تعلق ہو گئے تھے۔

مذکورہ صورت میں کل رقم کے 840 حصے کیے جائیں گے  جن  میں سے 140 حصے  (16.66 فیصد) مرحوم کے والد کو اور 105 حصے یعنی (12.5 فیصد) مرحوم کی بیوی کو اور 65 حصے یعنی( 7.73فیصد فی کس) مرحوم کی ہر بیٹی کو اور  130 حصے یعنی (15.47فیصد) مرحوم کے بیٹے کو ملیں گے۔

نیز مرحوم کے چار بھائیوں میں سے ہر بھائی  کو 28 حصے (3.33فیصد فی کس)  اور مرحوم کی دو بہنوں میں سے ہر بہن  کو 14 حصے (1.66 فیصد فی کس)  ملیں گے۔

اس حساب سے مرحوم کے والد کو 15,25,000 روپے، مرحوم کی بیوی کو 11,43,750 روپے ، مرحوم کی ہر بیٹی کو 7,08035 روپے ، مرحوم کے بیٹے کو 14,16,071 روپے، مرحوم کے چار بھائیوں میں سے ہر بھائی کو 3,05000 روپے اور مرحوم کی ہر بہن کو1,52500روپے ملیں گے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

24×7=168×5=840               مرحوم(الیاس)          مافی الید:91,50,000

والد والدہ بیوی 5بیٹیاں 1 بیٹا
سدس سدس ثمن عصبہ
6/1 6/1 8/1 13
4 4 3 13
4×7 4×7 3×7 13×7
28 28 21 91×5
28×5 21×5 455
140 105 65+65+65+65+65 130

510×14=140                والدہ                            مافی الید:1428×5=140

بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
        عصبہ
2×14 2×14 2×14 2×14 1×14 1×14
28 28 28 28 14 14

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved