- فتوی نمبر: 32-160
- تاریخ: 03 فروری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > جمعہ کی نماز کا بیان
استفتاء
کیا گاؤں میں جمعہ ادا ہوجاتا ہے؟
تنقیح: گاؤں میں ہسپتال نہیں ہے صرف ایک ڈسپنسری ہے، اسکول پرائمری تک ہے، سودا سلف کی تین دکانیں ہیں، تھانہ کچہری نہیں ہے، حجام کی دکان نہیں ہے، کپڑے کی دکان بھی نہیں ہے، میڈیکل سٹور 8 منٹ کے فاصلے پر دوسرے گاؤں میں ہے، ہمارے گاؤں میں تمام ضروریات پوری نہیں ہوتیں، دس منٹ کے فاصلے پر دوسرا گاؤں ہے وہاں تقریبا 90 فیصد ضروریات پوری ہوجاتی ہیں۔ گاؤں میں 60 بالغ افراد ہیں، شہر گاؤں سے 4 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ جمعہ شروع کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر جمعہ شرو ع کیا ہے۔اور جمعہ بند کرنے میں کوئی فتنے کا اندیشہ بھی نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جب جمعہ بند کرنے میں فتنے کا اندیشہ نہیں تو جمعہ کی نماز بند کی جائے کیونکہ حنفیہ کے نزدیک مذکورہ گاؤں میں جمعہ درست نہیں ہے۔
توجیہ: حنفیہ کے نزدیک نماز جمعہ کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہےکہ جس جگہ جمعہ کی نماز ادا کی جائےوہ جگہ خود شہر یابڑا قصبہ یا بڑے قصبے کی فناء ہوقصبہ ایسی آبادی کو کہتے ہیں جہاں اتنا بڑا بازار ہو جس میں روز مرہ ضروریات کی چیزیں مثلاً غلہ ، اناج ، جو تا، کپڑا، وغیرہ مل جاتا ہو اسی طرح ڈاکٹر ، معمار مستری وغیرہ بھی دستیاب ہوں۔فناءوہ جگہ ہوتی ہےجو شہر کی اجتماعی ضروریات کے لئے تیار کی گئی ہوجیسے قبرستان ریلوے اسٹیشن ،ہوائی اڈہ وغیرہ۔ مذکورہ گاؤں نہ خود قصبہ ہے اور نہ کسی قصبے کی فناء ہے لہذا مذکورہ گاؤں میں جمعہ درست نہیں۔
درمختار (3/6)میں ہے۔
(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر) … (او فناءه) …. (وهو ما) حوله (اتصل به )أو لا (لأجل مصالحه )كدفن الموتى وركض الخيل
شامی (3/8)میں ہے۔
قوله (وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق
(وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب)
بدائع الصنائع (1/259) میں ہے:
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصرو توابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح اداءالجمعة فيها
شامی (3/9)میں ہے۔
(فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك)
کفایت المفتی (3/249) میں ہے:
جمعہ کے مسئلے میں شہر سے مراد ایسی بستی ہے جہاں ضرورت کی چیزیں مل جاتی ہوں تھانہ یا تحصیل اور ڈاکخانہ ہو کوئی عالم یعنی مسائل ضرور یہ بتانے والا اور کوئی معالج موجود ہو۔
مسائل بہشتی زیور (1/291) میں ہے:
نماز جمعہ کے صحیح ہونے کی شرطیں :
شہر یا قصبہ یا اس کا فنا ہو۔ گاؤں میں یا جنگل میں نماز جمعہ درست نہیں۔
قصبہ اس مستقل آبادی کو کہتے ہیں جہاں ایسا بازار ہو جس میں تيس چالیس متصل اور مستقل دکانیں ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں روز مرہ کی ضروریات ملتی ہوں مثلاً جوتے کی دکان بھی ہو اور کپڑے کی بھی۔ غلہ اور کریانہ کی بھی ہو اور دودھ گھی کی بھی وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو اور معمار و مستری بھی ہوںو غیر ہ و غیرہ۔ علاوہ ازیں وہاں گلی محلے ہوں۔
مسائل بہشتی زیور (1/293) میں ہے:
مسئلہ : فنائے شہر وہ جگہ ہوتی ہے جو شہر کی ضرورتوں اور مصلحتوں کے لیے متعین ہو مثلاً قبرستان، کوڑا ڈالنے یا گھوڑ دوڑ یا جنگی مشق اور چاند ماری، فوجی اجتماع وغیرہ کے لیے میدان، ہوائی اڈا اور ریلوے اسٹیشن وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved