- فتوی نمبر: 32-191
- تاریخ: 05 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سجدہ تلاوت کا بیان
استفتاء
1۔كيا سجده تلاوت کی منت مان سکتے ہیں؟ مثلا یوں کہا جائے کہ اگر میرا فلاں کام ہوجائے تو میں شکرانے کے طور پر سجدہ تلاوت ادا کروں گی ۔
2۔اور اگر یہ منت ماننا ٹھیک نہیں ہے تو جو یہ منت مان چکے ہیں وہ اب کیسے اور کیا سبق پڑھ کر ادا کریں؟ تاکہ روزِ محشر اس منت کا حساب نہ دینا پڑے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آیت سجدہ تلاوت کرنے پر جو سجدہ واجب ہوتا ہے اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں اور یہ سجدہ چونکہ آیت سجدہ کی تلاوت سے واجب ہوجاتا ہے اور جو چیز کسی اور سبب سے فی الحال یا مستقبل میں آدمی پر واجب ہوتی ہو اس کی منت ماننا درست نہیں یعنی وہ منت کی وجہ سے واجب نہ ہوگی۔
1۔لہذا مذکورہ صورت میں سجدہ تلاوت میں سجدہ تلاوت کی منت ماننا درست نہیں۔
2۔ اگر کوئی آدمی یہ منت مان چکا ہے تو اس پر اس منت کی وجہ سے تو کچھ ادا کرنا واجب نہیں ہوا البتہ اگر وہ آیات سجدہ تلاوت کر چکا ہے تو ان آیات کی تلاوت کی وجہ سے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے لہذا جتنی آیات سجدہ اس نے تلاوت کی ہوں اتنے سجدہ تلاوت ادا کرلے۔ نیز سجدہ تلاوت ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سجدہ تلاوت ادا کرنے کی نیت کرکے اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرے اور سبحان ربی الاعلیٰ تین مرتبہ پڑھ کر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ سے اٹھ جائے اس میں سلام پھیرنے کی یاہاتھ باندھنے کی ضرورت نہیں۔
شامی(3/737) میں ہے:
وأن لا يكون واجبا عليه قبل النذر فلو نذر حجة الإسلام لم يلزمه شيء غيرها
فتح القدیر(2/13) میں ہے:
والسجدة واجبة في هذه المواضع على التالي والسامع) سواء قصد سماع القرآن أو لم يقصد لقوله عليه الصلاة والسلام «السجدة على من سمعها وعلى من تلاها»
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:692) میں ہے:
باب ما يلزم الوفاء به ……… والمنذور يلزمه “إذا اجتمع فيه” أي المنذور “ثلاثة شروط” أحدها “أن من جنس واجب” بأصله وإن حرم ارتكابه لوصفه كصوم يوم النحر “و” الثاني “أن يكون مقصودا” لذاته لا لغيره كالوضوء “و” الثالث أن يكون “ليس واجبا” قبل نذره بإيجاب الله تعالى كالصلوات الخمس والوتر وقد زيد شرط رابع أن لا يكون المنذور محالا كقوله لله علي صوم أمس اليوم إذ لا يلزمه وكذا لو قال تلزمني اليوم أمس وكان قوله بعد الزوال ثم فرع على ذلك بقوله “فلا يلزمه الوضوء بنذره” ولا قراءة القرآن لكن الوضوء ليس مقصودا لأنه شرع شرطا لغيره كحل الصلاة “ولا سجدة التلاوة” لأنها واجبة بإيجاب الشارع “ولا عيادة المريض” إذ ليس من جنسها واجب ………. “ولا” يصح نذر “الواجبات” لأن إيجاب الواجب محال “بنذرها” لما بينا “
النہایہ فی شرح الہدایہ (5/196) میں ہے:
إن النذر لا يصح الا بشروط ثلاثة فى الاصل الا اذا قام الدليل على خلافه.
أحدها ان يكون الواجب من جنسه شرعا.
الثانى ان يكون مقصودا لا وسيلة.
الثالث ان لا يكون واجبا عليه فى الحال او فى ثانى الحال
مسائل بہشتی زیور(1/237) میں ہے:
مسئلہ: سجدہ تلاوت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرے اور اللہ اکبر کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے سجدہ میں کم سے کم تین دفعہ سبحان ربی الاعلیٰ کہے پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھالے پس سجدہ تلاوت ادا ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved