• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

خاتون نے سونے کی انگوٹھی گروی رکھ کر رقم قرض لی، کافی عرصہ گذرنے کے بعد سونا مہنگا ہوگیا اب اس انگوٹھی کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

میرے پاس آج سے پانچ سال قبل ایک ضعیف  خاتون (جنہیں میں جانتا تک  نہیں تھا) دس ہزار کی رقم بطور قرضہ لینے کے  لیے  تشریف لائیں۔اس رقم کے بدلے انہوں نے اپنی سونے کی انگوٹھی جس کی مالیت اس وقت بارہ  ہزار روپے تھی میرے پاس بطور گروی رکھوائی کہ چند دنوں بعد میں یہ رقم آپ کو دے کر اپنی انگوٹھی واپس لے جاوں گی۔آج پانچ سال ہوگئے ہیں لیکن اس خاتون کا کوئی  پتہ نہیں جس انگوٹھی کی مالیت اس وقت بارہ ہزار تھی اب وہ ایک لاکھ کو پہنچ چکی ہے۔ پوچھنا یہ کہ اب اس صورت حال میں میرے لیے  کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کے لیے گنجائش ہے کہ پانچ سال قبل 10 ہزار کا جتنا سونا آتا تھا اتنی مقدار میں سونا اس انگوٹھی سے قرض کی مد میں وصول کر سکتے ہیں بقیہ سونے کی مقدار کو اس خاتون کی طرف سے کسی مستحق زکوۃ شخص کو صدقہ کر دیں تاہم اگر وہ خاتون  بعد میں آگئی اور صدقے پر راضی نہ ہوئی  تو بقیہ سونے کی مقدار کے بقدر سونا لوٹانا پڑے گا۔

رد المحتار (4/ 352) میں ہے:

«‌الرهن ‌حبس شيء مالي بحق يمكن استيفاؤه منه كالدين»

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار  (ص:689) میں ہے:

«‌غاب ‌الراهن ‌غيبة ‌منقطعة فرفع المرتهن أمره للقاضي ليبيعه بدينه ينبغي أن يجوز. ولو مات ولم يعلم له وارث فباع القاضي داره جاز.كذا في متفرقات بيوع النهر.

وفي الذخيرة: ليس للمرتهن بيع ثمرة الرهن وإن خاف تلفها، لان له ولاية الحبس لا البيع ويمكن رفعه إلى القاضي، حتى لو كان في موضع لا يمكنه الرفع للقاضي، أو كان بحال يفسد قبل أن يرفع جاز له أن يبيعه، والله تعالى أعلم

النہر الفائق  (3/ 516) میں ہے:

«ولو ‌غاب ‌الراهن ‌غيبة ‌منقطعة فرفع المرتهن الأمر إلى القاضي حتى يبيع الرهن بدينه فإنه ينبغي أن يجوز، ولو مات ولم يعلم وارث فباع القاضي داره جاز، ولو علم بموت الوارث جاز ويكون حفظاً ألا ترى أنه لو باع الآبق يجوز؟ انتهى.»

شامی (7/55) میں ہے:

وفي الذخيرة عن المنتقى ‌إذا ‌غلت ‌الفلوس قبل القبض أو رخصت. قال: أبو يوسف، قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال: عليه قيمتها من الدراهم، يوم وقع البيع ويوم وقع القبض. اهـ. وقوله: يوم وقع البيع أي في صورة البيع، وقوله: ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف.

وحاصل ما مر: أنه على قول أبي يوسف المفتى به لا فرق بين الكساد والانقطاع والرخص والغلاء في أنه تجب قيمتها يوم وقع البيع أو القرض لا مثلها، وفي دعوى البزازية، من النوع الخامس عشر، عن فوائد الإمام أبي حفص الكبير استقرض منه دانق فلوس حال كونها عشرة بدانق، فصارت ستة بدانق أو رخص وصار عشرون بدانق يأخذ منه عدد ما أعطى ولا يزيد ولا ينقص. اهـ. قلت: هذا مبني على قول الإمام، وهو قول أبي يوسف أولا، وقد علمت أن المفتى به قوله: ثانيا بوجوب قيمتها يوم القرض، وهو دانق أي سدس درهم سواء صار الآن ستة فلوس بدانق أو عشرين بدانق تأمل

مسائل بہشتی زیور(2/256) میں ہے:

کسی سے ہزار روپے قرض لیے۔ اس وقت چاندی سو روپے تولہ کے حساب سے ایک ہزار روپے کی دس تولہ آتی تھی۔ جب مثلاً سال بعد قرض واپس کرنے لگے تو اس وقت چاندی کےنرخ بڑھے ہوئے تھے اور ایک ہزار کی نو تولہ چاندی ملنے لگی۔ تو قرض خواہ مقروض سے روپوں کے بجائے دس تولہ وصول کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر نرخ گر گئے تب مقروض کو حق حاصل ہے کہ وہ قرض خواہ کو صرف دس تولہ چاندی واپس دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved