• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

(1)موسم سرما میں نمازِ ظہر کی تعجیل اور تاخیر کی حد (2) نماز ظہر کو بالکل آخری وقت میں پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے یا نہیں؟

استفتاء

1۔مفتی صاحب فقہ حنفی میں موسم سرما میں ظہر کی نماز میں تعجیل مستحب ہے  تو تعجیل اورتاخیر کی کوئی حد مقرر ہے کہ اس وقت سے لیکراس وقت تک ظہر کی نماز پڑھناتعجیلاً شمارہوگااوراس وقت سے لیکر اس وقت تک پڑھنا  تاخیراً شمار ہوگا؟

2۔اور ظہر کی نماز کو اپنے ہی وقت میں بالکل آخری وقت میں پڑھنا مکروہ تنزیہی ہوگا یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ تعجیل اور تاخیر کی حد یہ ہے کہ اگر دیواروں کا سایہ اتنا ہوجائے کہ جس میں دھوپ سے بچا جاسکے تو یہ تاخیر ہے اور اگر دیواروں کا سایہ اتنا نہ  ہوا ہو کہ جس میں دھوپ سے بچا جاسکے تو یہ تعجیل ہے۔

2۔بغیر عذر کے مکروہ تنزیہی ہوگا اور عذر کی صورت میں مکروہ تنزیہی بھی نہ ہوگا۔

مجمع الانہر (1/72) میں ہے:

(و) يستحب (تعجيل ظهر الشتاء) أي أداؤه في أول الوقت لرواية أنس رضي الله تعالى عنه أنه قال «كان رسول الله عليه الصلاة والسلام ‌إذا ‌كان ‌في ‌الشتاء بكر بالظهر وإذا كان في الصيف أبرد بها»

الدر المختار مع ردالمحتار (2/30) میں ہے:

(والمستحب) ……….. (تأخير ظهر الصيف) بحيث يمشي في الظل

(قوله: بحيث يمشي في الظل) عبارة البحر والنهر وغيرهما: ‌وحده ‌أن ‌يصلي قبل المثل

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:182) میں ہے:

“‌ويستحب ‌الإبراد بالظهر في الصيف” وحده أن يتمكن الماشون إلى الجماعات من المشي في ظل الجدران كما في الإيضاح عن الحقائق وقال في السراج بحيث يصلي قبل بلوغ الظل مثلا اهـ وفي الخزانة الوقت المكروه في الظهر ان يدخل في حد الإختلاف وإذا أخره حتى صار ظل كل شيء مثله فقد دخل في حد الاختلاف حموي

مراقی الفلاح (ص:74) میں ہے:

“و” يستحب “تعجيله” أي الظهر “في الشتاء” ‌وفي ‌الربيع ‌والخريف لأنه عليه السلام كان يعجل الظهر بالبرد “إلا في يوم غيم” خشية وقوعه قبل وقته “فيؤخر” استحبابا “فيه” أي يوم غيم إذ لا كراهة في وقته فلا يضر تأخيره

البحرا لرائق (1/264) میں ہے:

ويؤخر غيره فيه) أي ‌ويؤخر ‌غير ‌ما ‌في أوله عين يوم غيم وهي الفجر والظهر والمغرب؛ لأن الفجر والظهر لا كراهة في وقتهما فلا يضر التأخير والمغرب يخاف وقوعها قبل الغروب لشدة الالتباس

حلبۃ المجلی (1/629) میں ہے:

وقد قالوا: الاحتياط ان يصلى الظهر قبل صيرورة الظل مثله ليخرج من الخلاف فيهما وهو حسن وفى خزانة الواقعات وفى شرح الجصاص والوقت المكروه فى الظهر ان يدخل فى حد الاختلاف

حلبی کبیر (1/415) میں ہے:

قال المشائخ: ينبغى أن لا يصلى العصر حتى يبلغ المثلين ولا يؤخر الظهر الى ان يبلغ المثل ليخرج من الخلاف فيهما

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved