- فتوی نمبر: 32-214
- تاریخ: 06 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > مہر کا بیان
استفتاء
1۔ایک شخص کے پاس بھینس تھی جب اس نے نکاح کیا تو اس نے مہر میں آدھی بھینس مقرر کی تو کیا اس طرح مطلق آدھی بھینس مقرر کرنا صحیح ہے؟
2۔اگر صحیح ہے تو اس سے حاصل ہونے والے دودھ اور اس پر کیے جانے والے خرچ کا کیا حساب ہو گا؟اور اگر آدھی بھینس سے مراد یہ لی جائے کہ جب بھی اس بھینس کو بیچیں گے تو اس کی آدھی رقم عورت کو دی جائے گی تو اس صورت میں اس کے دانہ، پانی اور دودھ کا کیا حکم ہو گا؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔ اس وقت شوہر کی نیت بیوی کو آدھی بھینس میں شریک کرنے کی تھی یا بھینس کو بیچ کر اس کی قیمت دینے کی تھی؟ 2۔ شوہر نے مطلق بھینس کہا تھا یا یہ کہا تھا کہ جو بھینس میرے پاس موجود ہے اس میں سے آدھی بھینس مہر ہے؟
جواب وضاحت: 1۔ کوئی نیت نہیں تھی بس مطلق بول دیا تھا۔2۔ جو بھینس شوہر کے پاس موجود تھی اس کے نصف کو مہر میں مقرر کیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں آدھی بھینس مہر میں مقرر کرنا صحیح ہے۔
توجیہ: مہر ہر وہ چیز بن سکتی ہے جو متقوم (عرف وشرع میں قابل قیمت) ہو لہٰذا مذکورہ صورت میں آدھی بھینس مہر میں مقرر کرنا صحیح ہوا ۔
2۔ اس پر کیا جانے والا خرچہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا اور اس سے حاصل ہونے والے منافع (دودھ اور اس کی قیمت) بھی دونوں (میاں بیوی) میں آدھے آدھے تقسیم ہوں گے۔ تاہم اگر شوہر اپنی خوشی سے اپنی بیوی سے اس کے حصے کا خرچہ نہ لے تو یہ بھی ٹھیک ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت شرکت املاک کی ہے جس میں دونوں شریک کسی شے میں حصے دار ہوتے ہیں اور اس کے منافع میں بھی دونوں حصے دار ہوتے ہیں اور جس کا جتنا حصہ ہوتا ہے اس کو اسی حساب سے نفع ملتا ہے اور اسی حساب سے خرچہ اس کے ذمے ہوتا ہے۔
ہندیہ (1/302) میں ہے:
المهر إنما يصح بكل ما هو مال متقوم
فتح القدیر (3/354) میں ہے:
(قوله وإذا تزوجها على حيوان غير موصوف إلخ) المهر كما يكون من النقود يكون من العروض والحيوان، فإذا كان عرضا أو حيوانا فإما معين كهذا العبد أو الفرس أو الدار فيثبت الملك بمجرد القبول فيه لها إن كان مملوكا له، وكذا لو لم يكن مشارا إليه إلا أنه أضافه إلى نفسه كعبدي وإلا فلها أن تأخذه بشرائه لها، فإن عجز عن شرائه لزمه قيمته
درر الاحکام فی شرح مجلۃ الاحکام (3/26) میں ہے:
(المادة 1073) – (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما.
بدائع الصنائع (6/62) میں ہے:
ولا خلاف في شركة الملك أن الزيادة فيها تكون على قدر المال حتى لو شرط الشريكان في ملك ماشية لأحدهما فضلا من أولادها وألبانها، لم تجز بالإجماع.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved