- فتوی نمبر: 26-230
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > قسم کے الفاظ اور ان کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نام حافظ محمد انیس ہے،وطن ارکان ہے،جب میں آٹھ سال کا تھا تب ہم کھیل رہے تھےاور بھی بہت سے لوگ تھے ،ان میں سے ایک نے مجھے ماراتب میں نے (اس کے سامنے) کہا کہ تم نے نہیں مارا لیکن میں نے اس وقت جھوٹ بولا تھا، مجھے سمجھ نہیں تھی، پھر اس نے کہا قسم کھا کرکہو کہ میں نے تم کو نہیں مارا (اگر تم نے کسی کو بتایا کہ میں نے مارا ہے،تو تم جس سے بھی شادی کرو اس کوتین طلاق )اس وقت میں نے بھی قسم کھالی کہ میں جس سے شادی کروں گا اس کو تین طلاق ہے،تو اب جب میں شادی کروں گا تو:
( 1)کیا طلاق ہوجائے گی؟
(2)اور کیا مجھے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1-2)نابالغ بچے احکام کے مکلف نہیں ہوتے ،اور شرع میں ان کی قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا،لہذا جب آپ نکاح کریں گے تو آپکی نابالغی کی حالت میں کھائی ہوئی قسم سےطلاق واقع نہ ہوگی اور جب طلاق واقع نہ ہوگی تو دوبارہ نکاح کرنے کی بھی ضرورت نہ ہوگی۔
ہندیہ(124/3) میں ہے:
(ﻭﺃﻣﺎ ﺷﺮاﺋﻄﻬﺎ ﻓﻲ اﻟﻴﻤﻴﻦ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ) ﻓﻔﻲ الحالف ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻋﺎﻗﻼ ﺑﺎﻟﻐﺎ، ﻓﻼ ﻳﺼﺢ ﻳﻤﻴﻦ اﻟﻤﺠﻨﻮﻥ، ﻭاﻟﺼﺒﻲ، ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﺎﻗﻼ، ﻭﻣﻨﻬﺎ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎ ﻓﻼ ﻳﺼﺢ ﻳﻤﻴﻦ اﻟﻜﺎﻓﺮ ﺣﺘﻰ ﻟﻮ ﺣﻠﻒ اﻟﻜﺎﻓﺮ ﻋﻠﻰ ﻳﻤﻴﻦ ﺛﻢ ﺃﺳﻠﻢ ﻓﺤﻨﺚ ﻻ ﻛﻔﺎﺭﺓ ﻋﻠﻴﻪ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺒﺪاﺋﻊ
بدائع الصنائع(20/3)میں ہے:
وأما شرائط ركن اليمين بالله تعالى فأنواع بعضها يرجع إلى الحالف وبعضها يرجع إلى المحلوف عليه وبعضها يرجع إلى نفس الركن
أما الذي يرجع إلى الحالف فأنواع منها أن يكون عاقلا بالغا فلا يصح يمين الصبي والمجنون وإن كان عاقلا
ہندیہ(123/3) میں ہے:
صبي قال إن شربت فكل امرأة أتزوجها فهي طالق فشرب وهو صبي فتزوج وهو بالغ فظن صهره أن الطلاق واقع فقال هذا البالغ آرى حرام است بر من قالوا هذا إقرار منه بالحرمة فتحرم امرأته ابتداء وقال بعضهم لا تحرم امرأته وهو الصحيح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved