• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مرد وعورت کی نماز میں فرق

استفتاء

مرد اورعورت کی نماز میں کیا فرق ہے؟حوالہ سے جواب دے دیں کہ کون سی حدیث کی کتاب میں موجود ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مرد اور عورت کی نماز  میں مندرجہ ذیل  فرق  ہیں:

1۔پہلا فرق تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ  اٹھانے کی ہیئت میں ہے:

جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرد تکبیر  تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائیں گے جب کہ خواتین کے لیے سینے تک ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے،

مسلم شریف (رقم الحدیث: 866) میں ہے:

عن مالك بن الحويرث: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا كبر رفع يديه حتى يحاذي بهما فروع ‌أذنيه.

 ترجمہ: حضرت مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  جب (تحریمہ کیلئے ) تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ ان کو اپنے کانوں کے اوپری حصہ کے برابر کر لیتے۔

المعجم الکبیر للطبرانی(رقم الحدیث:17497) میں ہے:

عن وائل بن حجر قال جئت النبي صلى الله عليه وسلم …فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم يا وائل بن حجر إذا صليت فاجعل يديك حذاء أذنيك والمرأة تجعل يديها حذاء ثدييها.

ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا….تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ارشاد فرمایا: اے وائل جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی  سینے  کے برابر اٹھائے۔

2۔دوسرا فرق قیام میں ہاتھ باندھنے کی ہیئت میں ہے کہ مرد  ناف کے نیچے ہاتھ باندھیں گے ، جبکہ خواتین  بالاتفاق سینے پر ہاتھ باندھیں گی ۔ اور  کسی بات پر امت کے علماء کا اتفاق  مستقل دلیل شرعی ہے۔

مصنف ابن ابی شیبہ(رقم الحدیث:3959) میں ہے:

عن وائل بن حجر ، عن أبيه ، قال : رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وضع يمينه على شماله في الصلاة تحت السرة.

ترجمہ: حضرت وائل بن حجر  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے نماز میں ناف کے نیچے اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا۔

سعایہ (156/2) میں ہے:

وأما في حق النساء فاتفقوا على أن السنة لهن وضع اليدين على الصدر لأنها أسترلها.

ترجمہ: رہا عورتوں کے حق میں(ہاتھ باندھنے کا معاملہ)تو تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے سنت سینہ پر ہاتھ باندھناہے کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔

3۔ تیسرا فرق رکوع کی ہیئت میں ہےکہ مرد رکوع میں اپنے بازو اپنے پہلو سے جدا رکھیں گے جب کہ خواتین اپنے بازوؤں کو پہلو سے جدا نہیں کریں گی۔

سنن ترمذی (رقم الحدیث: 260) میں ہے:

عن عباس بن سهل قال : اجتمع أبو حميد وأبو أسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال أبو حميد : أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ركع فوضع يديه على ركبتيه كأنه قابض عليهما ، ووتر يديه فنحاهما عن جنبيه۔

ترجمہ: حضرت عباس بن سہل رحمہ اللہ کہتے ہیں  کہ حضرت ابوحمید ساعدی اور ابو اسید اور سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ذکر کیا تو حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا سب سے زیادہ جاننے والا ہوں ۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر (اس طرح سے) رکھا گویا کہ آپ اپنے گھٹنوں کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے بازؤوں کو کمان کی تندی بنا لیا(اور پہلؤوں کو کمان بنا لیا) اور ان (بازؤوں ) کو (کہنیوں سمیت) اپنے پہلؤوں سے جدا رکھا۔

مصنف عبدالرزاق(رقم الحدیث:5983) میں ہے:

عن عطاء قال: تجتمع المراة إذا ركعت ترفع يديها إلى بطنها وتجتمع ما استطاعت.

ترجمہ:  بڑے تابعی حضرت عطاء ؒ فرماتے ہیں کہ عورت سمٹ کر رکوع کرے گی، اپنے ہاتھوں کو اپنے پیٹ کی طرف ملائے گی، جتنا سمٹ سکتی ہو سمٹ جائے گی۔

4۔چوتھا فرق سجدہ کرنے کی ہیئت میں ہے کہ

  1. i) (مرد سجدہ میں اپنے پیٹ کو رانوں سے جدا رکھےاور عورت سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے ملا کر رکھے ۔

السنن الکبریٰ للبیہقی (رقم الحدیث:3199)میں ہے:

عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم …وإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها ‌كأستر ‌ما ‌يكون لها.

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  ۔۔۔ عورت  جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لیے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ 

سنن ابوداؤد (رقم الحدیث:735) میں ہے:

عن أبى حميد  قال… وإذا سجد فرج بين فخذيه غير حامل بطنه على شئ من فخذيه.

ترجمہ: حضرت ابو حمید ساعدی  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ….. کہ  جب رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے تو اپنی رانوں (کو ملا کر نہ رکھتے بلکہ ان) کے درمیان (کچھ) فاصلہ رکھتے اس حالت میں کہ آپ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے کسی حصہ پررکھے ہوئے نہ ہوتے تھے (یعنی پیٹ کو رانوں سے علیحدہ رکھتے تھے)۔

(ii)مرد سجدہ میں اپنی کہنیوں کو زمین سے اٹھا کر رکھے اور عورت سجدہ میں کہنیوں کو  زمین سے ملا کر رکھے۔

مسلم شریف (رقم الحدیث:498) میں ہے:

عن عائشة  قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم …ينهى ‌أن ‌يفترش الرجل ذراعيه افتراش السبع.

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس بات سے منع کرتے کہ مرد اپنے دونوں بازو زمین پر درندہ کی طرح بچھائے۔

السنن الکبریٰ للبیہقی(315/2) میں ہے:

عن يزيد بن ابي حبيب ان رسول الله ﷺ مرعلى امرأتين تصليان فقال اذا سجدتما فضمابعض اللحم الي الارض فان المرأة ليست في ذلک کالرجل ۔

ترجمہ:حضر ت یزید بن ابو حبیب ؓسے روایت ہے کہ آپ ﷺ دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہیں تھیں توآپﷺ نے فرمایا جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کو زمین کے ساتھ لگایا کرو (یعنی زمین کے ساتھ چپک کرسجدہ کیا کرو)کیونکہ عورت سجدہ میں مرد کی طرح نہیں ہے۔

5۔ پانچواں فرق دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی ہیئت میں ہے  کہ  مرد بائیاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں اور دائیاں پاؤں کھڑا رکھیں اور عورت اپنے دونوں پاؤں دائیں جانب نکال کر سرین کے بل اس طرح بیٹھے کہ دائیں ران بائیں ران کے ساتھ ملا دے۔

السنن الکبریٰ للبیہقی (رقم الحدیث: 2777) میں ہے:

حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص، عن أبي إسحاق، عن الحارث، عن علي، قال: «إذا سجدت المرأة ‌فلتحتفر ولتضم فخذيها.

ترجمہ:حضرت علی ؓ سے روایت ہے  فرمایا : جب عورت سجدہ کرے تو سرین کے بل بیٹھے اور اپنی رانوں کو ملا لے۔

سنن ترمذی (رقم الحدیث:292) میں ہے:

عن وائل بن حجر قال :قدمت المدينة ، قلت: لانظرن إلى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما جلس يعنى للتشهد افترش رجله اليسرى ، ووضع يده اليسرى يعنى على فخذه اليسرى، ونصب رجله اليمنى۔

ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ میں مدینہ (منورہ) آیا تو میں نے (خود سے) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺکی نماز کو (جب آپ نماز پڑھتے ہوں گے) ضرور دیکھوں گا۔ (تو میں نے یہ بھی دیکھا کہ) جب آپ تشہد کے لئے بیٹھے تو آپ ﷺ  نے اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیا اور (اس پر بیٹھ کر) اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھ لیا اور اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرلیا۔

مصنف ابن ابی شیبہ(رقم الحدیث:2794) میں ہے:

عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة المرأة ؟ فقال : تجتمع وتحتفز.

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عورت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمٹ کر نماز پڑھے اور بیٹھنے کی حالت میں سرین کے بل بیٹھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved