• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوگر کی وجہ سے منت کے روزے نہ رکھنے میں فدیہ وغیرہ دے سکتے ہیں؟

استفتاء

تقریباً تین سال پہلے میں نے  کسی کام کے پورا ہونے پر منت مانی تھی، وہ کام ہوگیا تھا ، منت  یہ مانی تھی کہ دو روزے رکھوں گا اور 100 رکعت نفل نماز ادا کروں گا۔ الحمدللہ 100 رکعت نفل نماز ادا کر چکا ہوں، لیکن دو روزے ابھی باقی ہیں۔میں شوگر کا مریض ہوں، اس وجہ سے روزہ رکھنے میں کافی کمزوری اور دشواری محسوس ہوتی ہے، اس لیے سمجھ نہیں آ رہی کہ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟(1)کیا مجھ پر یہ روزے رکھنا لازم ہیں؟(2) اگر صحت کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکوں تو کیا فدیہ دینا ہوگا یا کوئی اور صورت ہوگی؟

وضاحت  مطلوب ہے: کیا آپ چھوٹے دنوں میں بھی روزہ نہیں رکھ سکتے؟ اور علیحدہ علیحدہ کرکے بھی نہیں رکھ سکتے؟

جواب وضاحت :  جی شوگر ہے جس وجہ سے ہمت نہیں ہورہی۔

مزید وضاحت مطلوب ہے:کیا آپ رمضان کے روزے بھی نہیں رکھتے؟ اور شوگر کی نوعیت کیسی ہے؟  کیا کسی دیندار ڈاکٹر نے آپ کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟  یا یہ صرف آپ کا اپنا تجربہ ہے؟

جواب وضاحت: رمضان المبارک کے روزے رکھتا ہوں سارا دن سویا رہتا ہوں کبھی شوگر جب لو ہو جاتی ہے تو روزہ توڑ دیتا ہوں کبھی کبھی چھوڑ بھی دیتا ہوں سارے روزے نہیں رکھ سکتا دوسری بات یہ ہے کہ  میری طبیعت ابھی اجازت نہیں دیتی کہ روزے رکھ لوں   شوگر لو بھی ہو سکتی ہے قرآن کی کلاس پڑھاتا ہوں اس میں حرج آئے گی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔روزے رکھنے لازم ہوں گے۔

2۔ مذکورہ صورتحال کے  پیش نظر آپ کی حالت ایسی نہیں  کہ جس  کی وجہ سے آپ کے لیے روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہو لہٰذا آپ کے لیے دو روزے رکھنے لازم ہوں گے۔جس کی آسان صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سردی کے دنوں میں جب دن بالکل چھوٹے ہوں اور کلاس کی چھٹی ہو یا کلااس سے چھٹی لے لیں اور دو روزے رکھ لیں۔

شامی (3/735) میں ہے:

(‌ومن ‌نذر ‌نذرا ‌مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة)

(قوله: لزم الناذر) أى لزمه الوفاء به

ہندیہ(1/463) میں ہے:

‌إذا ‌نذر ‌أن ‌يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط.

ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم، وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم، ولو لم يقدر لشدة الزمان كالحر فله أن يفطر وينتظر الشتاء فيقضى

فتح القدیر (2/326) میں ہے:

ولو ‌قال: ‌كل ‌يوم ‌خميس أو اثنين فلم يصمه وجب عليه قضاؤه ………….ولو لم يقدر لشدة الزمان كالحر له أن يفطر وينتظر الشتاء فيقضي، هذا

مسائل بہشتی زیور (2/175) میں ہے:

کسی نے کہا یا اللہ اگر میرا فلاں کام ہوجائے تو پانچ روزے رکھوں گا تو جب کام ہوجائے گا پانچ روزے رکھنے پڑیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved