- فتوی نمبر: 35-113
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > نام رکھنے سے متعلق
استفتاء
1۔”بابا ” لفظ کا کیا مطلب ہے ؟
2۔یہ اللہ کے ولیوں کے لیے کیوں بولا جاتا ہے؟
3۔کیا اللہ کے ولیوں کو بابا بول سکتے ہیں ؟ مشال کے طور پر “حاجی ملنگ بابا ، قلندر شاہ بابا ، مخدوم شاہ بابا ”
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔لفظ “بابا ” کے معنی ہیں ” باپ ، دادا ، فقیر، ملنگ ، درویش ، بوڑھا شخص ، بزرگ ”
2۔ عزت اور احترام کے طور پر بولا جاتا ہے۔
3۔جو شخص عقیدہ اور عمل دونوں اعتبار سے متبع سنت ہو اور واقعی بزرگ ہو تو اس کو بزرگ کے معنی میں “بابا “کہہ سکتے ہیں۔
روح المعانی (26/155) میں ہے:
وقد صرحوا بأن التلقيب بالألقاب الحسنة مما لا خلاف في جوازه، وقد لقب أبو بكر رضي الله تعالى عنه بالعتيق لقوله عليه الصلاة والسلام له: «أنت عتيق الله من النار» ….. …… وما زالت الألقاب الحسنة في الأمم كلها من العرب والعجم تجري في مخاطباتهم ومكاتباتهم من غىر نكير ولا فرق بين اللقب والكنية
فیروز اللغات میں ہے:
“بابا ” (ف۔ا۔مذ) (۱) باپ (۲) بزرگ (۳) خطاب کا عام لفظ جسے فقیر استعمال کرتے ہیں (۴) محبت سے بچوں کو بھی اس لفظ سے مخاطب کرتے ہیں۔
فرہنگ آصفیہ میں ہے:
بابا۔ ہ۔ ف۔ اسم مذکر (۱) باپ ۔ پتا پدر والد (۲) دادا ۔ جد (۳) درویش ۔ فقیر۔ قلندر۔ مہنت۔ مہنتوں کا سردار (۴۔ طنزاً) حضرت۔ جناب جیسے بس بابا بس…………….. (۵) فقیر (۶) بڑا بوڑھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved