- فتوی نمبر: 34-388
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > نفلی صدقات کا بیان
استفتاء
جس طرح احادیث میں ملتا ہے کہ ایک انسان کا سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو وہ اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے تو کیا اسی طرح جب کوئی انسان فوت ہو جاتا ہے تو جو کچھ مال و جائیداد وہ ترکہ میں چھوڑ جاتا ہے اور اس کے مالک بچے (ورثاء) بن جاتے ہیں اور وہ اس جائیداد اور اشیاء سے ساری زندگی نسل در نسل فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی صدقہ میں آتا ہے ؟ اگر صدقہ میں آتا ہے تو دیگر صدقات جاریہ کی طرح یہ بھی صدقہ جاریہ میں شمار ہوگا اور مرحوم کو اس کا ثواب ملتا رہے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
میراث میں چھوڑا ہوا مال صدقہ نہیں اور جب صدقہ نہیں تو وہ صدقہ جاریہ بھی نہیں۔
توجیہ: صدقہ وہ چیز ہوتی ہے جسے آدمی اپنے اختیار سے کسی کار خیر میں صرف کرے آدمی میراث میں جو مال چھوڑتا ہے اسے اپنے اختیار سے نہ تو ورثاء کا مالک بناتا ہے اور نہ اپنے اختیار سے اسے کسی کار خیر میں صرف کرتا ہے بلکہ غیر اختیاری طور پر ورثاء اس کے مالک بنتے ہیں حتی کہ اس مالک بننے میں خود ورثاء کا بھی اختیار نہیں ہوتا اور مرنے والے کا بھی اختیار نہیں ہوتا لہذا اسے صدقہ سمجھنا اور پھر صدقہ جاریہ سمجھنا درست نہیں۔
الموسوعۃ الفقہیہ (26/323) میں ہے:
الصدقة بفتح الدال لغة: ما يعطى على وجه التقرب إلى الله تعالى لا على وجه المكرمة وفي الاصطلاح: تمليك في الحياة بغير عوض على وجه القربة إلى الله تعالى …………. يقول الراغب الأصفهاني: الصدقة: ما يخرجه الإنسان من ماله على وجه القربة
ہدایہ (3/228) میں ہے:
قال: “والصدقة كالهبة لا تصح إلا بالقبض”؛ لأنه تبرع كالهبة “فلا تجوز في مشاع يحتمل القسمة” لما بينا في الهبة “ولا رجوع في الصدقة”؛ لأن المقصود هو الثواب وقد حصل. وكذا إذا تصدق على غني استحسانا؛ لأنه قد يقصد بالصدقة على الغني الثواب. وكذا إذا وهب الفقير؛ لأن المقصود الثواب وقد حصل
ہندیہ (6/447) میں ہے:
الفرائض جمع فريضة من الفرض ……… وفي الشرع انتقال مال الغير إلى الغير على سبيل الخلافة، كذا في خزانة المفتين.التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث …….. ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved