• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

مسائل بہشتی زیور کے چند مسائل کے بارے میں اشکالات

استفتاء

عرض ہے کہ  بندہ کے پاس جناب کی مرتبہ کتاب ’’مسائل بہشتی زیور‘‘ ہے جس کا بندہ نے اول تا آخر مطالعہ کیا اور بہت پسند آئی اللہ تعالیٰ جناب کو اس کاوش غیر معمولی پر اپنی شان کے موافق بدلہ عطا فرمائے۔ اور جناب سے اسی طرح معتبر و مستند کتب کی تالیفات کا کام لیتا رہے۔ (آمین)

عرض ہے کہ بندہ کو مذکورہ کتاب کے بعض مقامات پر تردد ہے جناب سے گذارش ہے کہ ان مقامات کو دوبارہ دیکھ لیا جائے کہ ان مقامات پر تردد اس عاجز کو کم علمی اور کم فہمی کی بنا پر ہے یا واقعی وہاں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ دو مقام درجہ ذیل ہیں:

پہلا مقام  (1) مسئلہ: بیوی کے ساتھ تنہائی ہو چکی ہو تو دوسرے شوہر سے اس کی جو بیٹی (یعنی اپنی سوتیلی بیٹی) یا اس کی جو اولاد ہو اس سے کبھی نکاح نہیں کر سکتا خواہ اپنی بیوی مر گئی ہو یا اس کو طلاق دے دی ہو۔ ہاں اگر تنہائی ہونے سے پہلے مر گئی ہو یا اس کو طلاق دے دی ہو تب سوتیلی بیٹی یا اس کی اولاد سے نکاح درست ہے۔

(2) مسئلہ: عورت کے لیے بھی سوتیلی اولاد سے نکاح درست نہیں۔ الخ ص: 420، ناشر مجلس نشریات اسلام۔ قدیم اڈیشن

ضابطہ: جن دو عورتوں میں ایسا رشتہ ہو کہ اگر ان دونوں میں سے کوئی مرد ہوتی تو آپس میں دونوں کا نکاح نہ ہو سکتا۔ ایسی دو عورتیں ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں نہیں رہ سکیں۔ جب ایک مر جائے یا طلاق مل جائے اور عدت گذر جائے تب وہ مرد دوسری عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔

(3) مسئلہ: ایک عورت ہے اور اس کی سوتیلی لڑکی ہے، یہ دونوں ایک ساتھ کسی مرد سے نکاح کر لیں تو درست ہے۔ (ص: 461)

تردد : استاد محترم اگر مسئلہ نمبر 1 اور 3 کو ملایا جائے تو مذکورہ  بالا ضابطہ ٹوٹتا ہے۔ کیونکہ عورت اور اس کی سوتیلی لڑکی میں سے کسی ایک کو مرد تسلیم کریں تو یہ سوتیلے ماں بیٹا یا باب بیٹی بنتے ہیں۔ اور مسئلہ نمبر 1 اور 3 کے مطابق سوتیلی اولاد سے نکاح درست ہے۔ اس لیے ضابطہ اور مسئلہ نمبر 3 میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

دوسرا مقام: مسئلہ: کوئی شخص پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے مگر دو مقام میں اور ان دو مقاموں میں اس قدر فاصلہ ہو کہ ایک مقام کی اذان کی آواز (لاؤڈ اسپیکر کے بغیر) دوسرے مقام پر نہ جا سکتی ہو تو اس صورت میں وہ مسافر ہی شمار ہو گا۔ اور اگر اس سے زیادہ فاصلہ ہو مثلاً دس روز لاہور میں رہنے کا ارادہ ہو اور پانچ روز رائے ونڈ میں جو لاہور سے پچیس میل کے فاصلہ پر ہے تو اس صورت میں وہ بطریق اولیٰ مسافر ہی شمار ہو گا۔ (ص: 215)

تردد: استاد محترم اس عبارت کے پڑھنے والے کو یہ مغالطہ لگتا ہے کہ یہ ایک ہی شہر کے دو مقاموں کے متعلق بات ہے مثلاً ایک بندہ دس دن لاہور چوبرجی چوک میں رہتا ہے اور دس دن چوک یتیم خانہ میں تو یہ دو مقام ایسے ہیں کہ ایک مقام کی اذان کی آواز (لاؤڈ اسپیکر کے بغیر) دوسرے مقام پر نہیں پہنچتی تو اس صورت میں یہ مسافر رہے گا۔ اس لیے اگر قوسین میں اس کا ذکر کر دیا جائے کہ دو مقاموں سے مراد مستقل دو آبادیاں ہیں تو مغالطہ سے بچا جا سکتا ہے یا جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مجھے امید ہے کہ جناب اپنے اکابر کی روش پر چلتے ہوئے چھوٹوں کی بات پر غور فرمائیں گے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پہلا مقام: 1۔ مسئلہ نمبر 1 میں اپنی سوتیلی بیٹی سے نکاح کرنے کی اجازت ہے جمع کرنے کی اجازت نہیں۔ چنانچہ کتاب کی مندرجہ ذیل عبارت سے یہ واضح ہے :

’’ہاں اگر تنہائی ہونے سے پہلے وہ مر گئی ہو یا اس کو طلاق دے دی ہو تب سوتیلی بیٹی یا اس کی اولاد سے نکاح درست ہے‘‘۔

فتاویٰ شامی (4/110) میں ہے:

قوله: (بنت زوجته الموطوءة) أي سواء كانت في حجره أي كنفه ونفقته أو لا وذكر الحجر في الآية خرج مخرج العادة أو ذكر لتشنيع عليهم كما في البحر واحترز بالموطوءة عن غيرها فلا تحرم بنتها بمجرد العقد …. قوله: (وجداتها مطلقاً) أي من قبل أبيها وأمها وإن علون.

2۔ دو عورتوں کو جمع کرنے کی ممانعت کا ضابطہ اس وقت لاگو ہوتا ہے جبکہ دونوں میں سے جس کو بھی مرد فرض کریں تواس کا نکاح دوسری کے ساتھ جائز نہ ہو۔ مسئلہ نمبر 3 میں یہ ضابطہ متحقق نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس مسئلہ میں اگر عورت کو مرد فرض کریں تو یہ لڑکی اس کی سوتیلی بیٹی بنے گی اور سوتیلی بیٹی سے نکاح کرنا درست ہے۔غرض حرمت ایک جانب سے ہے دونوں جانبوں سے نہیں۔ لہذا مسئلہ نمبر 3 سے یہ ضابطہ نہیں ٹوٹتا۔

فتاویٰ شامی (4/124) میں ہے:

وجاز الجمع بين امرأة وبنت زوجها أو امرأة ابنها أو أمه ثم سيدتها لأنه لو فرضت المرأة أو امرأة الابن أو السيدة ذكراً لم يحرم بخلاف عكسه …. وفي الشامية تحت قوله: (لم يحرم) أي التزوج في الصور الثلاث لأن الذكر المفروض في الأولى يصير متزوجاً بنت الزوج وهي بنت رجل اجنبي.

دوسرا مقام: دو مقاموں سے مراد وہ دو مقام ہیں جن کی آبادی آپس میں ملی ہوئی نہ ہو۔ کتاب کی عبارت میں ’’اس قدر فاصلہ ہو ۔۔۔الخ‘‘ سے یہی مراد ہے اوراس کی مزید وضاحت لاہور اور رائے ونڈ کی ذکر کردہ مثال سے بھی ہو جاتی ہے۔ تاہم ’’فاصلہ‘‘ کا لفظ دو مقاموں کی درمیانی مسافت کے لیے بھی بولا جاتا ہے اگرچہ دونوں مقاموں کی آبادی آپس میں ملی ہوئی ہو جیسا کہ آپ نے چوبرجی اور یتیم خانہ کی مثال میں ذکر کیا۔ اس لیے مغالطہ بھی لگ سکتا ہے۔ لہذا آئندہ کے لیے یہ عبارت تجویز کی جاتی ہے۔

’’اور ان دو مقاموں کی آبادی آپس میں ملی ہوئی نہ ہو لیکن ایک مقام کی اذان الخ‘‘

توجہ دلانے کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved