• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

بروقت قسط ادا نہ کرنے پر جرمانہ، فارم پُر کرنے کی فیس، دین کے ادائیگی کے لیے آنے جانے کا خرچہ

استفتاء

ایک شخص انسٹالمنٹ کا کام کرتا ہےمختلف اشیاء (فریج،موٹر سائیکل،مشینیں وغیرہ) قسطوں پر مہیا کرتا ہے۔ اب تک اس کا کام محدود تھا، اس لیے وہ اکیلا ہی کرتا تھا، قسطوں کی وصولی کے لیے اسے بار بار گاہکوں کے پاس جانا پڑتا تھا، وہ جاتا رہا لیکن

1۔ اس نے قسط کے بروقت ادا نہ کرنے پر "جرمانہ” نہیں لگایا۔

2۔ فارم وغیرہ بھی بلا معاوضہ پُر کرتا تھا۔اور

3۔  آنے جانے کا خرچ (وزٹ چارجز) بھی نہیں لیتا تھا.

اب وہ اپنے کام کو پھیلانا چاہتا ہے، اس لیے عملہ رکھنا ضروری ہے۔اور علاقے بھر میں اس شعبے میں کام کرنے والا عملہ تنخواہ کے علاوہ مذکوہ بالا تینوں مدات میں رقم وصول کرتا ہےاور وہ رقم اُسی کی ہوتی ہے،اس کے بغیر عملہ کام نہیں کرے گا۔

نیز جرمانہ نہ لگانے کی صورت میں اکثر گاہک بروقت قسط ادا نہیں کرتے۔

1۔ کیا اس مجبوری کے باعث اب وہ اپنے عملے کو گاہکوں سے قسط کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر جرمانہ لینے کی اجازت دے سکتا ہے؟  اگر یہ ناجائز ہے تو اس کا جائز متبادل کیا ہوسکتا ہے؟

2۔ نیز فارم پُر کرنے کی فیس اور آنے جانے کا خرچ لینے کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ قسط کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر جرمانہ لگانا درست نہیں ہے۔ یہ سود کی شکل ہے، البتہ اس کے متبادل کے طور پر آپ یہ کر سکتے ہیں کہ خریدار سے خریدنے کے وقت یہ طے کر لیں کہ اگر اس نے کوئی بھی قسط بروقت ادا نہ کی تو باقی ساری قسطیں نقد ہو جائیں گی یعنی اکٹھی فوراً ادا کرنی پڑیں گی۔

2۔ فارم کا حقیقی خرچہ اور آنے جانے کا حقیقی خرچہ خریدار سے لے سکتے ہیں۔ اسی طرح فارم پُر کرنے کی فیس بھی وصول کر سکتے ہیں۔

نوٹ: حقیقی سے مراد وہ خرچہ ہے جو واقعی پیش آئے۔

فقہ البیوع: (541/1) میں ہے:

و كون الأجل حقاً للمشتري في البيع المؤجل و المقسط مشروط بأن يلتزم بوفاء الأقساط في مواعيدها فيجوز الاشتراط في عقد البيع بالتقسيط أن المشتري إن لم يوف قسطاً في موعده فإن الأقساط كلها تصير حالة واجبة الأداء فوراً قد صرح به فقهاء الحنفية و جاء في خلاصة الفتاوى. و لو قال كلما دخل نجم و لم تؤدّ فالمال حال صح و يصير المال حالاً.

مجلہ (مادہ: 288) میں ہے:

المصاريف المتعلقة بالثمن تلزم المشتري مثلاً أجرة عد النقود و وزنها و ما أشبه ذلك تلزم المشتري وحده.

مجلہ (مادہ: 292) میں ہے:

أجرة كتابة السندات و الحجج و صكوك المبايعات تلزم على المشتري… فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved