English

مضامین

مایوس نہ ہوں

کچھ عرصے سے ملک میں بیماری کی فضا عام ہے، ہر گھر میں کئی کئی افراد بیمار ہیں یا بیمار رہنے کے بعد اب صحت یاب ہورہے ہیں،عمومی طور پر شدید بخار، جسم میں درد، گلہ خراب ، کھانسی ، نزلہ اور سانس کی تکالیف کی شکایات سامنے آرہی ہیں،کچھ لوگ ان کے علاوہ دیگر بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں ، بوڑھے اور عمر رسیدہ حضرات خاص طور پر کسی نہ کسی بیماری کا شکار نظر آتے ہیں، تاہم ایک بات ان سب میں مشترک یہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ جو شخص جس بھی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے وہ اس بیماری کی تکلیف بہت شدید محسوس کرتا ہے۔

تفصیل

صبر و شکر

حضور نبی کریم ا کا ارشاد ہے کہ ایمان کے دوحصے ہیں: آدھا ایمان صبر میں ہے اور آدھا شکر میں۔

تفصیل

عید الفطر،ایک روحانی مسرت 

اللہ رب العزت نے اسلام کو دین فطرت بنایا ہے جس میں انسانیت کے تمام فطری تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔انسانوں کایہ دستور رہا ہے کہ ہر قوم و ملت میں سال کے کچھ دن جشن مسرت منانے کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں جنہیں تہوار کہا جاتا ہے۔ تہوار منانے کے لیے ہر قوم کا مزاج اور طریقہ کار تو مختلف ہو سکتا ہے لیکن مقصود خوشی منانا ہی ہوتا ہے کہ جس خوشی کا اظہار وہ اچھا لباس پہن کر، عمدہ کھانے تیار کر کے اور دوسرے مختلف طریقے اختیار کر کے کرتے ہیں۔ یہ گویا انسانی فطرت کا تقاضا ہے جس سے کوئی انسان مستغنی نہیں۔

تفصیل

مسلمِ خوابیدہ اٹھ

سلطان صلاح الدین ایوبی کے انتقال کے بعد مسلمان حکام و عوام میں سیاسی، انتظامی، اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی برائیاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں، اور جب ان میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا تو ان تمام برائیوںکا نتیجہ قدرتی آفات، وباؤں، نئے نئے امراض، قحط، گرانی اور زلزلوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔

تفصیل

عورت

خدا کی رحمت ہے...شوہر کی بہترین مونس و غم خوار ہے...بھائی کی اچھی دوست ہے... ماں کی ہم راز ...اور باپ کے چھوٹے سے چھوٹے دکھ پر رودینے والی ہے... اس کی مسکراہٹ والدین کی زندگی... 

تفصیل

دو منٹ کی عدالت

–عرب سالار قتیبہ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا،اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکا چل رہا تھا۔سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبۃ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیغامبر کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔پیغامبر نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے

تفصیل

کرتار پور کو ریڈورقادیان سلطنت کی طرف اہم قدم

قادیانیت کے ناسور نے ایک بہت بڑی پیش قدمی کی ہے اور کرتار پور کا بارڈر کھلوا کر ہندوستانی اور پاکستانی قادیانیوں کے باہمی تعلق کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ قادیانی پروگرام کو آگے بڑھانے کا ایک اہم سنگِ میل عبور کیاہے،ہندوستان کے قادیانیوں کا پاکستان اور پاکستان کے قادیانیوں کا ہندوستان سفر کی مسافت میں کمی کے باعث آنا جانا آسان ہوگا تو ہر آدمی جماعت کے منشور سے وابستہ اور ہم آہنگ رہے گا۔

تفصیل

حضرت عثمان غنیؓ پر اعتراضات اور ان کا جواب

 حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) کی عمر ابھی ترسٹھ برس تھی اور آپ کی خلافت کو دس برس چھ مہینے اور چار دن ہوئے تھے کہ ۲۶ ذی الحجہ۲۳ ہجری کو آپ کے جسم اطہر میں ابو لؤلؤ نے خنجر کھبویا ،کھبوئے ہوئے خنجر کا اثر زیادہ ہوا تو آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے ،شہادت سے چند دن قبل لوگوں کی درخواست پر آپ نے خلافت کے معاملہ کو چھ لوگوں ۱۔حضرت عثمان غنی ۲۔ حضرت علی المرتضی ۳۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ۴۔حضرت زبیر بن عوام ۵۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ ۶۔حضرت سعد ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا: یہ وہ حضرات ہیں کہ رسول اللہ ا دنیا سے تشریف لے گئے تو ان سے راضی اور خوش ہو کر گئے

تفصیل

ہجری سال (اسلامی کیلنڈر)کا آغاز

ایک سال کی مدت کو مہینوں ،ہفتوں اور دنوں میں تقسیم کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا اسے اردو بول چال میں’’نظام الاوقات‘‘ عربی زبان میں” تقویم“ اور انگریزی زبان میں اس کو کیلنڈر(لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’حساب رکھنے والی کتاب‘‘)سنسکرت میں پنرا اور ہندی میں اس کو جنتری بولا جاتا ہے۔

تفصیل

اندھے، بہرے نہ بنیں ہوش سے کام لیں

کہا جاتا ہے کہ:’’محبت اندھی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی انسان پر جب کسی کی محبت کا جنون سوار ہوجاتا ہے تو اسے محبوب کی کوئی برائی، برائی نظر نہیں آتی ، بلکہ اس کی ہر اد ا اچھی ہی لگتی ہے چاہے اس میں کیسی ہی خرابی موجود ہو، کچھ ایسا ہی آج کل ہمارے معاشرے میں دیکھنے میں آرہا ہے

تفصیل

استخارہ(حقیقت، اہمیت اور طریقہ کار)

دارالافتاء میں جہاں لوگ اپنی زندگی کے دیگر عملی مسائل مثلاً نماز، روزے ، حج، زکوۃ خرید و فروخت اور دیگر جائز ناجائز چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ وہاں کچھ عرصے سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ فون پر یہ کہتے ہیں: حضرت ہم نے استخارہ کروانا ہے، آپ کر دیتے ہیں؟ یا آپ کے پاس کوئی ایسا آدمی ہے جو ہمیں استخارہ کر کے دے سکے۔پہلے تو سرسری سا سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ کیا ہے، استخارہ! اور آپ کر دیں… یہ لوگوں کی طرف سے کیسا سوال ہے ؟ لیکن چند دن پہلے ایک اخبار میں یہ اشتہار نظر سے گزرا۔ ’’معروف روحانی اسکالر سے استخارہ کروایئے‘‘ تب یہ بات سمجھ میں آئی کہ لوگوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیوں سامنے آتا ہے۔ اس لیے ضروری معلوم ہوا کہ مختصراً استخارہ کا مطلب، طریقہ کار اور اس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ذکر کر دیا جائے۔

تفصیل

اپنے رب سے تعلق ایسا ہو!

حضرت محمد ﷺ کی مسلسل محنت اور تگ و دو سےصحا بہ کرام کا تعلق اللہ پاک کے ساتھ ایسا بن گیا کہ ان حضرات کو براہِ راست اللہ پاک سے لینا آگیا اور بعض حضرات کا تعلق مع اللہ ایسا تھا کہ اگر یہ حضرات کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر اللہ کی قسم کھا لیتے تو اللہ پاک ان کی قسموں کو ضرور پورا کردیتے ۔ اس بات کو حدیث پاک میں ان الفاظ سے بیان کیا گیا۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ بہت سے بکھرے ہوئے بالوں والے غبار آلود لوگ جن کو لوگ اپنے دروازوں سے ہٹا دیں اور ان کی پرواہ بھی نہ کریں، ایسے ہیں کہ اگر اللہ جل شانہ ، پر کسی بات کی قسم کھالیں تو وہ ان کی قسم کو ضرور  پورا کرے۔(مسلم شریف)

تفصیل

مسکراہٹ اور اس کے آداب

ہنسی مزاح بھی انسانی زندگی کا ایک خوش کن عنصر ہے جس کے باعث انسان اپنی طبیعت میں خوشی وفرحت محسوس کرتا ہے اور غم وپریشانی کو بھول جاتا ہے۔ ہنسی مزاح بزرگی کے خلاف نہیں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بزرگ وہ انسان ہوتا ہے جو بالکل خاموش اور ہروقت اللہ اللہ کرتا ہو اور کبھی کسی سے کوئی مزاح وغیرہ نہ کرے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ خوش طبع اور ہنس مکھ ہونا انسانی فطرت کا تقاضا ہے جو بزرگی کے منافی نہیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ خود ہنس مکھ اور خوش طبع تھے۔ حضرت ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ ہنس مکھ اور خوش طبع تھے۔ حضرت مرہ ؓ کے والد فرماتے ہیں کہ جب آپﷺ کو زیادہ ہنسی آتی تو آپﷺ اپنا دست مبارک منہ پر رکھ لیتے۔(کنز العمال ، جلد7صفحہ نمبر140)

تفصیل

مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی باز گشت

حکومت کو بنے تقریبا ایک مہینے سے زیادہ بیت چکا ہے اس میں حالات کامدوجزر کس دھارے پر ہے اس سے بحث بے سود ہے جہاں اور بہت سے وعدے اور اصلاحات قوم کو پیش کی گئی ہیں وہیں دینی مدارس اور اس میں پڑھایا جانے والا نصاب بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے.....نصاب کی تبدیلی کے بارے میں مفکرین مختلف رائے پیش کر رہے ہیں اس نازک موضوع پر بات کرنا اگرچہ کافی مشکل نظر آتا ہے لیکن پھر بھی یہ موضوع  عام و خاص میں زیر بحث ہے.

تفصیل

شعبہ حفظ سے متعلق چند گزارشات

قرآن پاک نے بعثت نبوی ﷺ کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے ایک مقصد یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے سامنے قرآن پاک کے الفاظ بھی تلاوت کرے۔ھو الذی بعث فی الامیین رسولا۔۔ الآخرترجمہ۔ ”وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنائیں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں، جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے“۔

تفصیل

عید الاضحیٰ ایک مذہبی تہوار

ہر قوم وملت میں سال کے کچھ دن جشن ومسرت منانے کیلئے مقرر کئے جاتے ہیں۔ جنہیں تہوار کہا جاتا ہے۔ تہوار منانے کیلئے ہر قوم کا مزاج اور طریقہ کار تو مختلف ہوسکتا ہے لیکن مقصود خوشی منانا ہی ہوتا ہے۔ چونکہ انسان کی طبیعت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ معمولات کی یکسانی سے کبھی کبھی گھبرا اٹھتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے شب وروز کا خواہش مند ہوتا ہے جن میں اپنے روز مرہ کے معمولات سے ذرا ہٹ کر اپنے ذہن ودل کو فارغ کرے اور کچھ وقت بے فکری کے ساتھ ہنس بول کر گزارے ۔ انسان کی یہی طبیعت تہوار کو جنم دیتی ہے ۔ جو مخصوص پس منظر کی بنیاد پر بعض اوقات کسی قوم کا شعار بھی بن جاتے ہیں۔ 

تفصیل

آپ کی تھوڑی سی توجہ درکار ہے 

بعض اوقات ایک آدمی ہم سے ایسی باتیں شروع کردیتا ہے جو شاید اس کے لیے تو اہم ہوں لیکن ہمیں ان سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور ہم بوریت محسوس کرنے لگتے ہیں اور یہ بات بھی ذہن میں آجاتی ہے کہ ہمارا وقت ضائع ہورہا ہے،ظاہر ہے کہ اگر میں  تاجر ، دکان دار یا کوئی انجینئر ہوں تو مجھے اس سے کیا سروکار کہ ایک شتر بان کا اونٹ روزانہ کتنا چل لیتا ہے ؟یا گوالے کی بھینسیں دن میں کتنا چارا کھا لیتی ہیں؟ یا رکشہ ڈرائیور کا روزانہ کتنا پیٹرول خرچ ہوجاتا ہے اور پھل فروش کتنے کما لیتا ہے ؟ یا خوانچہ فروش (پھیری والے ) کو اپنے کام میں کیا کیا دشواریاں درپیش ہیں ؟ اور ان کا حل کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ

تفصیل

جمال محمد صلی اللہ علیہ وسلم 

حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم  کے جمال بے مثال کو لفظوں مین بیان کر دینا طاقت انسانی کے لیے ممکن نہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف خلقیہ کو بیان کرنے والے صحابہ کرام میں سے ہر ایک نے اپنے ظرف کے بقدر ان اوصاف کا ادراک کیا اور اپنی اپنی تعبیرات میں انھیں  بیان کیا ، کسی نے ماہ کامل اور کسی نے چاند کا ٹکڑا کہا ،کسی نے ابھرتے سورج کے ساتھ تشبیہ دی تو کسی نے کہا ــ:گویا کہ آفتاب اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آپ کے رخ انور میں اتر آیا ہو،اور کسی نے تو یہ کہتے ہوئے معذرت ہی کر لی کہـ :  ’’آپ علیہ الصلاۃ و السلام کے اوصاف تو وہ بیان کرے جس نے کبھی نظر بھر کر آپ کو دیکھا ہو ، ہمیں تو ہیبت نبوی کی وجہ سے کبھی جی بھر کر دیکھنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔

تفصیل

عیادت فضائل و آداب

دین اسلام محبت ، مودت ،الفت ،ہمدردی اور بھائی چارے کا دین ہے، یہ دوسروں کی خوشیوں میںخوش ہونے اور ان کے غم میں شریک ہونے کا درس دیتا ہے، دوسروں کے دکھ درد بانٹنے کی تعلیم دیتا ہے، پریشان حال لوگوں کے ساتھ غم وخواری کا سبق سکھاتا ہے اور ہرحال میں ہر ایک کی خیر خواہی کو فروغ دیتا ہے ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے’’الدین النصیحۃ‘‘ (دین تو سراسر خواہی(کانام)ہے)

تفصیل

قربانی۔۔۔فضائل و مسائل

یوں تو اس ماہ مبارک میں نماز روزہ اور تسبیحات و  وظائف وغیرہا عبادات کی فضیلت دو چند ہوجاتی ہے اور ان کا اجرو ثواب بہت بڑھا دیا جاتا ہے لیکن دو عبادتیں ایسی نرالی شان کی حامل ہیںکہ گویا وہ اس ماہ مبارک کی علامت اور پہنچان بن گئی ہیں اور جن سے اس ماہ مبارک کی عظمت کی مزید چار چاند لگ گئے ہیں ان میں ایک تو حج کا عظیم عمل ہے اور دوسری قربانی کی ذی شان عبادت ہے۔

تفصیل

صلوٰۃ التسبیح 

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ایک دن اپنے چچا حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب سے فرمایا: اے عباس! اے میرے محترم چچا! کیا میں آپ کی خدمت میں ایک گرانقدر عطیہ اور ایک قیمتی تحفہ پیش کروں؟ کیا میں آپ کو خاص بات بتائوں؟ کیا میں آپ کے دس کام اور آپ کی دس خدمتیں کروں (یعنی آپ کو ایک ایسا عمل بتائوں جس سے آپ کو دس عظیم الشان منفعتیں حاصل ہوں، وہ ایسا عمل ہے کہ) جب آپ اس کو کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے سارے گناہ معاف فرما دے گا، اگلے بھی اور پچھلے بھی، پرانے بھی اور نئے بھی، بھول چوک سے ہونے والے بھی اور دانستہ ہونے والے بھی، صغیرہ بھی اور کبیرہ بھی، ڈھکے چھپے بھی اور اعلانیہ ہونے والے بھی (وہ عمل صلوٰۃ التسبیح ہے)

تفصیل

حفاظ اور تراویح کے چند اہم مسائل

1۔ رمضان المبارک میں بیس رکعت تراویح سنت مؤکدہ ہے۔اگرچہ روزہ نہ رکھنا ہو جیساکہ مریض وغیرہ۔2۔ تراویح میں مکمل قرآن سنانا اور سننا دونوں سنت مؤکدہ ہیں۔3۔ قرآن سنانے کے لیے حافظ سے پیشگی طے کرنا یامعروف ہوناکہ یہاں قرآن سنانے پر کچھ ملے گا اور حافظ اسی کی امید پر سنائے تویہ قرآن سنانے کی اجرت ہے جوکہ جائز نہیں۔

تفصیل

وہ اعذار جن کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا یا توڑنا جائز ہے 

اگر مریض کو اپنی جان ضائع ہونے یا کسی عضو کے بیکار ہوجانے یا بگڑجانے یا کسی اور نئے مرض کے پیدا ہوجانے یا موجودہ مرض کے بڑھ جانے یا دیر میں صحت ہونے کا خوف ہو تو اس کو روزہ نہ رکھنا یا توڑ دینا جائز ہے۔ اور یہ حکم اس شخص کیلئے بھی ہے جس کو طلوع فجر سے پہلے مرض لاحق ہو اور اس کیلئے بھی جس کو روزہ رکھنے اور طلوع فجر کے بعد مرض لاحق ہوا ہو۔

تفصیل

طلبہ مدارس چھٹیاں کیسے گزاریں؟

 وقت کی قدر دانی بہت ضروری ہے۔ وقت کو ضائع کر دینے پر بعد میں جو پچھتاوا ہوتا ہے وہ ناقابل تلافی ہوتا ہے سوائے ندامت کے اس کے تدارک کی کوئی صورت نہیں رہتی۔ لہٰذا عقلمندی یہ ہے کہ آغاز ہی میں انجام پر نظر رکھی جائے تاکہ حسرت و یاس کی نوبت نہ آئے۔ امام رازیؒ کے نزدیک اوقات کی اہمیت اس درجہ تھی کہ ان کو یہ افسوس تھا کہ کھانے کا وقت کیوں علمی مشاغل سے خالی جاتا ہے ۔

تفصیل

بیمارکی نماز کا بیان 

اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو فرض اور واجب نماز کو کھڑے ہو کر پڑھنا ضروری ہے۔ اسی طرح فجر کی سنتوں میں بھی کھڑے ہونے کا زیادہ اہتمام ہونا چاہئے۔مسئلہ :جو شخص بیماری یا عذر کی وجہ سے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے عاجز ہو وہ بیٹھ کر فرض نماز پڑھے اور رکوع و سجود کرے۔  

تفصیل

بیمار کی عیادت

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓکہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” بھوکے کو کھانا کھلائو اور مریض کی عیادت کرو۔“”حضرت ثوبان ؓکہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو لوٹنے تک وہ جنت کے باغیچے میں ہوتا ہے “۔ یعنی جنت والے اعمال کر رہا ہوتا ہے۔ (مسلم)

تفصیل

 حضرت مولانا نعیم الدین صاحب کے ساتھ ایک سفر

استاد محترم حضرت مولانا نعیم الدین دامت برکاتہم جہاں ایک معلم ہونے کی حیثیت سے(جامعہ مدنیہ کریم پارک اور جامعہ دارالتقویٰ لاہور میں بطور استاذ الحدیث ) درس وتدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں وہیں آپ ایک شیخ و مربی ؎1 ہونے کے ناطے معاشرے کی اصلاح و تربیت بھی فرمارہے ہیں۔آپ کا اپنے شاگردوں اور متعلقین کے ساتھ خلوص، محبت اور شفقت کا جو تعلق ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ جو ایک بار حضرت کے ساتھ جڑ جاتا ہے وہ پھر حضرت کا ہی ہو کے رہ جاتا ہے۔آپ کی یہ عادت ہےکہ اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کی خبر گیری کرتے اور ان کے پروگراموں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ 

تفصیل

اسلام میں تعددِ ازدواج کا نظریہ

اللہ رب العزت نے نبی ٔ آخر الزمان ﷺ کو ایک جامع، کامل اور مکمل دین دے کر دنیا میں بھیجا ہے ، دین اسلام دین فطرت ہے ، اس میں جہاں احکامات نازل کرنے میں انسان کی طاقت اور بساط کی رعایت رکھی گئی ہے وہیں اِس کائناتِ رنگ و بو میں رہنے کے لیے اُس کی بشری ضروریات کو بھی فراموش نہیں کیا گیا ، مرد کے لیے تعدد ِ ازدواج کی اجازت کا ہونا بھی اُن ہی فطری تقاضوں میں سے ایک ہے جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا

تفصیل

بیماری میں ابتلاء کی حکمت

        حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کو جو بھی زخم و تکلیف اور فکرو حزن و غم پہنچے یہاں تک کہ کوئی کانٹا بھی اس کو چبھے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔حضرت جابر رضی اللہ عنہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سائب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انکی حالت دیکھ کر ان سے پوچھا تم کپکپا کیوں رہی ہو۔ انہوں نے جواب دیا بخار (کی وجہ سے)، اللہ اس میں برکت نہ رکھیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ یہ اولاد آدم کے گناہ اسی طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو دور کرتی ہے۔(مسلم)

تفصیل

جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمحہٴ فکریہ

۱۲/ ربیع الاول کو عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منانے کارواج کچھ عرصہ سے مسلسل چلا آرہا ہے، چونکہ عہد صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین اور قرون اولیٰ میں اس ”عید“ کا کوئی پتا نشان نہیں ملتا۔ اس لئے اکابر علمائے حق ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ دن منانے کی رسم ہم میں عیسائیوں اور ہندوؤں سے آئی ہے، تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ملتی، لہٰذا اس رسم کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، مسلمانوں کااصل کام یہ ہے کہ وہ ان رسمی مظاہروں کے بجائے سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں اور ایک دن میں عید میلاد مناکر فارغ ہوجانے کے بجائے اپنی پوری زندگی کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کی فکر کریں۔

تفصیل

ماہِ صفر ۔۔بدعات و رسومات اورشریعت کا سبق   

صفر اسلامی تقویم کا دوسرا مہینہ ہے ۔ تین پے درپے حرمت والے مہینوں کے بعد یہ مہینہ دورِ جاہلیت میں جنگ و جدال کا پہلا مہینہ تھا،،زمانہ جاہلیت میں اس مہینے سے متعلق طرح طرح کے عقائد و نظریات پائے جاتے تھے۔اسلام نے ان غلط نظریات کی نفی کی اور انسانیت کو بد شگونی، توہمات اور شیطانی نظریات سے نجات دی ۔ ذیل میں ان باطل اعتقادات و نظریات کو درج ذیل عنوانات کے تحت تفصیل سے بیانات کیا گیا ہے۔

تفصیل

اپریل فول کی تاریخی و شرعی حیثیت

یکم اپریل کو منائی جانے والی یہ رسم جسے” اپریل فول“ کہتے ہیں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بے وقوف بنانے ،جھوٹ بول کر دھوکہ دینے یا جھوٹی افواہیں پھیلا کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ذہنی اذیت پہنچانے کے طور پر منائی جاتی ہے ۔اس دھوکہ دہی،جھوٹ بولنے اور افواہیں پھیلانے میں جو جس قدر کامیاب ہوتا ہے اسے اتنا ہی عقل مند ،سمجھدار اور ہوشیار گردانا جاتا ہے۔یہ رسم نہ جانے کتنے ہنستے بستے گھرانوں کا چراغ گل کر چکی ہےاور نہ جانے کتنے سادہ لوح افراد اس رسم ِبد کی وجہ سے بلاوجہ جانی ومالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔

تفصیل

قرآن و سنت کی روشنی میں فقہ کی اہمیت و ضرورت

فقہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے، وہ قرآن کریم کا خلاصہ اور سنت رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح ہے، شریعت کے عمومی مزاج ومذاق کا ترجمان ہے اور اسلامی زندگی کے لیے چراغ راہ بھی، اس لیے علوم اسلامیہ میں اس کی جو اہمیت وضرورت ہے وہ آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے اور یہی نہیں کہ اس کی ضرورت صرف اور صرف ماضی ہی سے وابستہ تھی؛ بلکہ آج بھی اور آئندہ بھی اس کی ضرورت و اہمیت ماضی ہی کی طرح محسوس کی جاتی رہے گی۔

تفصیل

ماہِ محرم احکام ومسائل

            محرم الحرام اسلامی تقویم ہجری کاپہلا مہینہ ہے ،کتنے ہی پڑھے لکھے ،دیندار لوگ ایسے ہیں، جنھیں اسلامی تقویم کا علم ہی نہیں؛ جب کہ اس کے برخلاف شمسی تقویم، اس کے مہینوں کے نام اور ان کی تاریخ ہرکسی کومعلوم ہوتی ہے۔

تفصیل

عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت

ذوالحجہ اسلامی سال کا بارہواں مہینہ ہے ،اس مہینے بالخصوص اس کے پہلے عشرے کو قرآن و حدیث میں بڑی فضیلت و اہمیت حاصل ہے۔ اس مہینے میں مسلمان اسلام کے ایک اہم فریضہ ’’ حج‘‘ کی  ادائیگی کرتے ہیں۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد اتفاق اور یکجہتی کا عالم گیر مظاہرہ ہوتا ہے ۔ اس مہینے کی دس تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی طرف سے اللہ کی راہ میں دی جانے والی عظیم قربانی کی یاد منائی جاتی ہے اور اسی دن کو مسلمانوں کے لئے بڑی عید کا دن بھی قرار دیا گیا ہے۔

تفصیل
نیوز لیٹر سبسکرپشن
سبسکرپشن کے بعد آپ ادارہ کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں