• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

ڈالر کی ادھار خرید وفروخت میں موجودہ مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ ریٹ مقرر کرنے کا حکم

محترم مفتی صاحب گذارش ہے کہ درج ذیل سوالات کے شرعی جوابات عنایت فرمائیں۔

1۔ *** اور *** نے آپس میں یہ معاملہ کیا کہ *** نے *** کو ایک ہزار ڈالر 107 روپے فی ڈالر کے حساب سے فروخت کیے، اور ڈالر موقع پر دے دیے گئے، *** نے پیسے شام کو ادا کرنے تھے، اس دن کا ڈالر کا بینک ریٹ بھی یہی تھا، *** شام کو پیسے ادا نہ کر سکا، *** نے اسے م*** مہلت دی حتیٰ کہ مسلسل کئی دن تک مہلت دیتا رہا، لیکن *** پیسے ادا نہ کر سکا، بالآخر دونوں نے آپس کی رضا مندی سے سودا ختم کر لیا اور *** نے اپنے ڈالر واپس لے لیے، چند دنوں بعد *** کے پاس پیسوں کا بندوبست ہو گیا اور اس کی ڈالروں کی  ضرورت بھی برقرار تھی، لہذا اس نے *** سے دوبارہ رابطہ کیا، لیکن اب ڈالر کا ریٹ مارکیٹ میں گر چکا تھا، اور یٹ 101.5 روپے تھا، بلیک مارکیٹ بھی 105 سے زیادہ کا نہ تھا، *** چاہتا تو بآسانی  مارکیٹ سے کم قیمت پر خرید سکتا تھا مگر وہ *** کا خیال کرتے ہوئے چاہتا ہے کہ اس سے 107 روپے کے حساب سے خرید لے، اگرچہ *** کا اس سے کوئی تقاضا نہیں ہے، مگر *** کو خود احساس ہے۔

تو کیا *** اور *** آپس میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ ریٹ کسی بھی وجہ سے طے کر سکتے ہیں؟

2۔*** پہلے سے اپنا کاروبار کرتا ہے، اس کو فی الفور خاصی رقم کی ضرورت ہے۔ اس نے پہلے سے دیے ہوئے اگلے آرڈر کے پیسے دینے ہیں، اور پچھلا مال ابھی تک فروخت نہیں ہو سکا۔  جبکہ پچھلا مال جب تک بکے گا نہیں اسے پیسے حاصل نہیں ہو سکتے، اور

ہول سیل میں سارا مال نقد پر فروخت ہو جائے مشکل ہے، اور کوئی قرض دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔

*** کے پاس پیسے ہیں لیکن وہ اپنے کاروبار میں پیسے لگا کر تقریباً 10 فیصد تک ماہانہ نفع کماتا ہے، *** *** سے تقاضا کرتا ہے کہ تم مجھے ایک مہینہ ادھار پر ڈالر بیچ دو، یعنی ریٹ طے کر کے ڈالر مجھے ابھی دے دو اور مجھ سے ایک مہینہ بعد پیسے لے لینا۔ تو *** ڈالر کے آج کے ریٹ سے 10 فیصد نفع سے کم پر تیار نہیں ہے۔ حالانکہ اگر ڈالر 104 روپے کا ہو تو 114.4 روپے نہ تو اس کا بینک ریٹ ہے، نہ ہی بلیک مارکیٹ کا ریٹ ہے اور نہ ہی ایک مہینہ کے ادھار کا یہ مارکیٹ ریٹ ہے۔ مارکیٹ میں اگر کوئی شخص ایک مہینہ کے ادھار پر ڈالر فروخت کرے گا، تو زیادہ سے زیادہ 110 روپے لے لے گا۔ لیکن چونکہ کرنسی کی مارکیٹ میں *** کو کوئی نہیں جانتا اس لیے وہ 110 میں ڈالر نہیں خرید سکتا۔

تو کیا *** اور *** مارکیٹ ریٹ سے بالکل ہٹ کر آپس میں رضا مندی سے کوئی ریٹ طے کر سکتے ہیں؟

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved