• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

فائلز کی خرید و فروخت کا حکم

1۔ الف: فائلز کی خرید و فروخت کی مروجہ صورتیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے موقف کے مطابق جائز نہیں۔ البتہ صاحبین رحمہما الہ یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک فائلز کی خرید و فروخت کی مروجہ صورتیں جائز ہیں بشرطیکہ دو باتیں ہوں:

i۔ زمین سوسائٹی کی ملکیت میں ہو، خالی کاغذ یا کمپیوٹر پر سوسائٹی کا نقشہ نہ ہو۔

ii۔ فائلوں کی مقدار پلاٹوں کی مقدار سے زائد نہ ہو۔

یہ دونوں شرطیں اس لیے ہیں تاکہ ’’بیع ما لا یملک‘‘ کی صورت نہ بنے۔

موجودہ حالات میں فائلز کی خرید و فروخت کا رواج بکثرت ہو چکا ہے اس لیے فتویٰ صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر دیا جاتا ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

’’من اشترى عشرة أذرع من مائة ذراع من دار أو حمام فالبيع فاسد عند أبي حنيفة رحمه الله و قالا هو جائز …. اختلف المشائخ على قولهما فيما إذا باع ذراعاً أو عشرة أذرع من هذه الأرض ولم يسم جملتها فقيل على قولهما لا يجوز… و الصحيح أنه يجوز.‘‘ (5/479، مكتبه رشيديه كوئٹہ)

ب: اگر نقشہ بنا ہو تو پھر بھی فائلز کا خریدنا اور ان کو آگے بیچنا اور اس کا کاروبار کرنا جائز ہے بشرطیکہ  ان شرطوں کا لحاظ رکھا جائے جو جزء الف میں مذکور ہوئیں۔ باقی رہی یہ بات کہ پوری رقم کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے یا مکمل ادائیگی ہونے کے باوجود کسی انتظامی مجبوری کی وجہ سے سوسائٹی پلاٹس کا عملی قبضہ دیتی تو اس  سے فائلز کی خرید و فروخت پر کچھ اثر نہیں پڑتا کیونکہ فائلز کی خرید و فروخت درحققیت جائیداد کی خرید و فروخت ہے اور جائیداد کی خرید و فروخت میں جائیداد پر قبضہ ضروری نہیں۔

مجلہ: مادۃ: 253:

للمشتري أن يبيع المبيع للآخر قبل قبضه إن كان عقاراً.

(عالمگیری شامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

ج: ایسی صورت میں بھی پلاٹ کو آگے بیچنا جائز ہے کیونکہ ایسی صورت میں بھی یہ زیادہ سے زیادہ ’’بیع قبل القبض‘‘ ہے اور بیع قبل القبض جائداد میں جائز ہے۔

باقی رہی زکوٰۃ کی بات تو ایسی صورت میں گاہک پر اس پلاٹ کی زکوٰۃ آئے گی بشرطیکہ گاہل کی یہ پلاٹ خریدتے وقت اسے آگے فروخت کرنے کی نیت ہو اور وہ نیت زکوٰۃ  کا وقت آنے تک برقرار بھی رہے۔ باقی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کے وقت گاہک اس پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو کو معلوم کرے اور جو قسطیں اس نے دینی ہے ان تمام کو یا اگر مالی حالات اچھے ہوں تو صرف اسی ماہ کی قسط کو منفی کر کے باقی کی زکوٰۃ ادا کرے بشرطیکہ قسطوں کو منفی کرنے کے بعد بھی وہ نصاب کا مالک رہے۔

2۔ پلاٹس کی خرید و فروخت کی یہ صورت جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں عقد کے وقت خریدار کو اپنے پلاٹ  کی ثمن (قیمت) حتمی طور پر معلوم نہیں ہوتی جس کی وجہ سے پلاٹ کی ثمن (قیمت) مجہول رہتی ہے۔

(حوالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

3۔ پلاٹ نکلنے سے پہلے کا معاہدہ بیع کا ہو گا نہ کہ وعدہ بیع کا۔ نیز گاہک کا اس پلاٹ کو آگے بیچنا نہ تو غیر مقدور التسلیم کی بیع ہے اور نہ ہی مجہول کی بیع ہے اور نہ ہی یہ ملک الغیر کی بیع ہے کیونکہ غیر مقدور التسلیم کی بیع تب ہے جب بائع یہ ثمن ادا کرنے کے باوجود اس پلاٹ پر قبضہ دلانے پر قانونی طور پر بھی قادر نہ ہوتا۔

حوالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حالانکہ فائلز کی خرید و فروخت میں یہ بات متحقق نہیں۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved