• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

انشورنس والوں سے ایکسیڈنڈ شدہ گاڑی خریدنا

استفتاء

محترم مفتی صاحب!

مسئلہ یہ ہے کہ لوگ گاڑیوں کی انشورنس وغیرہ کرواتے ہیں۔ اور اگر گاڑی کا کوئی ایکسیڈنڈ وغیرہ ہو جائے تو انشورنس والے گاڑی کے مالک کو رقم اضافی یا نئی گاڑی اس ایکسیڈنڈ گاڑی کی مد میں دے دیتے ہیں۔ بعد ازاں یہ خستہ حال ایکسیڈنڈ گاڑی کو انشورنس کمپنی جو کہ اب اس گاڑی کی مالک بن جاتی ہے اس گاڑی کو مارکیٹ میں فروخت کر دیتی ہے اس گاڑی کو ہر کوئی خاص و عام خرید سکتا ہے۔ مارکیٹ میں یہ گاڑی بولی کے ذریعے فروخت ہوتی ہے جو بندہ زیادہ قیمت ادا کر دے گاڑی اس کو کمپنی والے فروخت کر دیتے ہیں۔ خستہ حال گاڑی کی قیمت بہت مناسب ہوتی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان گاڑیوں کو ذاتی استعمال یا فروخت کی غرض سے خریدنا جائز ہے؟ برائے کرام جواب عنایت فرما دیجیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ گاڑیاں خریدنے کی گنجائش ہے تاہم احتیاط کریں تو بہتر ہے۔

توجیہ: جس گاڑی کے خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا ہے یہ گاڑی انشورنس کے گاہک کی ذاتی ملکیت تھی جو بظن غالب حلال مال سے خریدی گئی تھی۔ براہ راست اس گاڑی میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں۔

اگر یوں کہا جائے کہ اگرچہ یہ گاڑی گاہک کی تھی مگر اب تو انشورنس کمپنی کی ملکیت میں آگئی اور آئی بھی تبادلے میں ہے۔ چنانچہ کمپنی نے نئی گاڑی یا رقم دے کر  یہ گاڑی لی ہے۔

اول تو اس صورت میں بیع شراء کا باضابطہ معاملہ نہیں پایا گیا۔ اگر مان بھی لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ حلال و حرام سے مخلوط مال سے خریدی ہوئی گاڑی یا مخلوط رقم سے یہ گاڑی خریدی گئی۔ اس لیے خبث ادھر اسی تناسب سے منتقل ہوا۔ اگر یہ تسلیم ہو تو پھر بھی ایسی مخلوط الحلال و الحرام چیز کا خریدنا مکروہ ہے ناجائز نہیں۔ چنانچہ کفایت المفتی (9/254، کتاب الحظر والاباحۃ) میں ہے:

’’سوال: ایک آٹے کی مشین ہے وہ حلال و حرام مال سے خریدی ہوئی ہے یعنی اس مشین والے کی لڑکی طوائف کا کام کرتی ہے اور مشین والا زمینداری کا بھی کام کرتا تھا مشترکہ مال سے وہ مشین خریدی گئی اب اس مشین کو ایک دوسرا شخص خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بیع درست ہے یا نہیں؟

جواب: اس مشین کو خریدنا خرام تو نہیں مگر مکروہ ہے بیع تو ہو جائے گی مگر کراہت ہو گی۔

یہ ساری تفصیل اس صورت میں ہے جب حرام مال سے خریدی گئی چیز میں حرمت اور خبث کا انتقال تسلیم کیا جائے جیسا کہ عام فقہاء کا خیال ہے، ورنہ امام کرخی رحمہ اللہ کے قول کے  مطابق تو خبث منتقل نہیں ہوا اس لیے ان کے ہاں علی الاطلاق جواز ہو گا۔

نوٹ: امام کرخی رحمہ اللہ کا قول مسئلے کی اصل بنیاد نہیں ہے محض تائید کے لیے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved