• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

کالے شاپروں کی خرید و فروخت کا حکم

استفتاء

حکومت نے کالے شاپر اور باریک شاپر پر پابندی لگائی ہوئی ہے لیکن مارکیٹ میں یہ کھلے عام دستیاب ہیں، کالے شاپر کو کھانے پینے کی چیزوں کے لیے مضر صحت قرار دیا جاتا ہے اور باریک شاپر مختلف کمپنیوں کی آپس کی عداوت کی وجہ سے پابندی کا شکار ہوا ہے بظاہر اس میں کوئی نقصان کی وجہ سمجھ نہیں آئی، کیا ان شاپرز کی خرید و فروخت جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جائز باتوں میں حکومتی پابندی کی خلاف ورزی کرنے میں چونکہ اکثر اوقات جھوٹ بولنا لازم آتا ہے اور عزت اور مال کا خطرہ بھی ہے اس لیے نفع کی خاطر ایسے مفاسد کا ارتکاب کرنا مناسب نہیں، اس سے اجتناب ضروری ہے۔

فتاویٰ شامی (6/416) میں ہے:

لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض.

تکملہ فتح الملہم (3/324-323) میں ہے:

ومن هنا صرح الفقهاء بأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة … هذه الطاعة كما أنها مشروطة بكون أمر الحاكم غير معصية فإنها مشروطة أيضاً بكون الأمر صادراً عن مصلحة لا عن عن هوى أو ظلم لأن الحاكم لا يطاع لذاته وإنما يطاع من حيث إنه مقوّل لصحة العامة.

بحوث فی قضایا فقہیہ المعاصرہ (ص: 166) میں ہے:

كل من يسكن دولة فإنه يلتزم قولاً أو عملاً بأنه يتبع قوانينها وحينئذ يجب عليه اتباع أحكامها.

…………………………………………………….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved