• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

خالص کے بدلے میں نقد رقم یا کھوٹ ملا سونا وصول کرنا

استفتاء

محترم مفتی صاحب گذارش ہے کہ ہمارا کاروبار سونے کی لیبارٹری کا ہے۔ لیبارٹری میں جو کام کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔ سونے کا ٹیسٹ کر کے کھوٹ اور خالص کی مقدار بتائی جاتی ہے، کھوٹے سونے کو خالص کرنے کا کام کیا جاتا ہے اور خالص و کھوٹے سونے کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔

سونے کو ٹیسٹ کرنے کا طریقہ:

سونے کو چیک کرنے کے لیے اسے تیزاب میں ڈال کر مختلف کیمیائی مراحل سے گذارا جاتا ہے، نتیجتاً کھوٹ جل جاتا ہے اور خالص سونا رہ جاتا ہے۔

چونکہ یہ ایک کیمیائی طریقہ ہے جس میں پھر بھی کچھ نہ کچھ کھوٹ باقی رہنے کا احتمال رہتا ہے، اس لیے سونے کے دو ٹکڑے توڑ کر انہیں دو علیحدہ علیحدہ جگہوں پر کیمیائی مراحل سے گذارا جاتا ہے، جس میں دونوں نتیجوں میں معمولی فرق آتا ہے، ایک کے مطابق کھوٹ کم ہوتا ہے دوسرے کے مطابق نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اگر یہ فرق ……. حد تک ہو تو پرواہ نہیں کی جاتی لیکن اگر اس سے زیادہ فرق  نکلے تو تیسرا ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن اس کی نوبت کم ہی پیش آتی ہے۔

چونکہ کھوٹ ملے سونے کو ٹیسٹ کے بعد گاہک (یعنی دکاندار) نے لیبارٹری کے ہاتھ اس کھوٹ ملے سونے میں موجود خالص سونے کی بنیاد پر فروخت کرنا ہوتا ہے اس لیے اسے پہلے رپورٹ پکڑائی جاتی ہے جس میں کھوٹ زیادہ ظاہر ہوتا ہے تاکہ خریداری میں بچت نسبتاً زیادہ ہو۔ گاہک یعنی دکاندار بھی چونکہ سونے کے فیلڈ سے تعلق رکھتا ہے اس لیے وہ پرانا زیور خرید کر اسے گلا کر جب ڈلی کی شکل دیتا ہے جسے رینی  کہا جاتا ہے تو اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں  کھوٹ کتنا ہو گا؟ لہذا پہلی رپورٹ اگر دکاندار کے اندازے کے مطابق ہو تو ٹھیک ورنہ لیبارٹری والا اسے دوسری رپورٹ دے دیتا ہے جس میں کھوٹ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ (اگر کوئی دکاندار پھر بھی رپورٹ پر راضی نہ ہو تو وہ اس سونے کو کہیں اور سے بھی ٹیسٹ کروا سکتا ہے)۔

لیبارٹری والے اس ٹیسٹ کی فیس لیتے ہیں جو کہ 100 روپے ہوتی ہے۔ ٹیسٹ کروانے کے بعد اگر دکاندار بقیہ کھوٹ ملا سونا لیبارٹری والے کے ہاتھ فروخت کرنا چاہے تو لیبارٹری والے اس سے سونا خرید لیتے ہیں لیکن خریدنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کل جتنے گرام کھوٹ ملا سونا ہو اس میں سے رپورٹ کے مطابق کل خالص سونے کا حساب لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنا ہے پھر کل کھوٹے سونے کو خالص کرنے کی فیس لگائی جاتی ہے جو کہ فی گرام ایک رتی ہوتی ہے۔ تو فیس کاٹ کر باقی جتنا خالص سونا دکاندار کا بنتا ہے اتنا خالص سونا دکاندار کو اپنے پاس سے دے دیا جاتا ہے۔ (اگر کوئی پیسے لینا چاہے تو اسے پیسے دے دیے جاتے ہیں۔)

واضح رہے کہ باقی کھوٹے سونے کی خرید و فروخت کے وقت خالص کرنے کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ لیکن  ضروری نہیں کہ لیبارٹری نے پہلے  اسے خالص کیا ہو پھر خریدا ہو۔ دونوں طرح ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات دکاندار کو ٹیلی فون پر رپورٹ بتانے کے بعد  اس کی رضا مندی ہو تو پہلے سارے سونے کو خالص کر لیا جاتا ہے پھر اس سے سونا خریدا جاتا ہے۔ بعض اوقات رپورٹ بتانے کے بعد پہلے سونا خرید لیا جاتا ہے اور خالص کرنے کی فیس بھی وصول کر لی جاتی ہے۔ پھر بعد میں اسے خالص کیا جاتا ہے۔

کچھ مزید وضاحتیں:

بعض لیبارٹری والے جان بوجھ کر غلط رپورٹ دیتے ہیں جس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں۔

1۔ بڑی مارکیٹوں سے ہٹ کر جو لیبارٹری والے بیٹھے ہوتے ہیں دکاندار ان سے وقتاً فوقتاً اپنی ضرورتوں کے لیے ادھار سونا خریدتے رہتے ہیں پھر مذکورہ بالا طریقوں کے مطابق اپنا ادھار اتارتے ہیں۔ چونکہ ان کا ادھار لمبا ہوتا ہے اس لیے بعض ایسے لیبارٹری والے ان کو جان بوجھ کر غلط رپورٹ بتاتے ہیں اور رپورٹ میں ایک رتی تک کا فرق ڈال دیتے ہیں۔ چونکہ دکانداروں نے ان سے آئے روز سونا لینا ہوتا ہے اس لیے وہ بھی جاننے کے باوجود خاموش رہتے ہیں۔ اور بعض دکاندار ایسے لیبارٹری والوں سے آدھی رتی کا فرق باقاعدہ طے کر لیتے ہیں، کہ ان کے سونے کی ہر رپورٹ میں آدھی رتی کا فرق ڈال دیا جائے وہ اس پر راضی ہیں۔

2۔ بعض دکاندار لیبارٹری والے سے رپورٹ پر بارگیننگ کرتے ہیں اور صحیح رپورٹ کے باوجود خالص سونا بڑھانے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے دکانداروں کو لیبارٹری والے از خود فرق ڈال کر رپورٹ دیتے ہیں تاکہ ایسے دکانداروں کو خوش کرنے کے لیے بعد میں خالص سونا بڑھا دیا جائے۔ حالانکہ در حقیقت سونا بڑھایا نہیں گیا ہوتا۔

3۔ بعض ایسے لیبارٹری والے سمجھتے ہیں کہ سونا خالص کرنے کے لیے انہیں جو اجرت دی جا رہی ہے وہ کم ہے اس لیے وہ رپورٹ غلط بتاتے ہیں۔

اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ ہمارے کچھ سوالات ہیں ان کے جوابات عنایت فرمائیں۔

1۔  اس کام میں گاہک ہم سے عموماً پہلے یعنی سودا کرنے اور اپنی  رینی دینے سے پہلے ایڈوانس سونا یا رقم مانگتا ہے۔ مثلاً گاہک نے 20.00 گرام سونا مانگا اور واپسی میں سونا جو کہ کھوٹا ہوتا ہے دے گا واپسی کا کوئی لگا بندھا وقت طے نہیں، چاہے فوراً دیدے یا کچھ دنوں کے بعد البتہ یہ طے ہوتا ہے کہ واپس سونا ہی دیا جائے گا۔ چونکہ سونے کے بدلے سونے کا ادھار جائز نہیں لہذا اگر ہم گاہک کو خالص سونے کے ساتھ کچھ تانبا بھی دے دیں تو یہ ادھار جائز ہو گا؟

2۔ اور اگر  گاہک 20.00 گرام سونا لے جاتے وقت خالص سونے کے بدلے میں رقم دینا چاہے  اور سودا  کرنے سے پہلے بتا دے تو عموماً ہم سونا دیتے ہوئے اس کی قیمت بنا دیتے ہیں اور گاہک کو بھی بتا دیتے ہیں، پھر اگر گاہک رقم دینے میں تاخیر کرے تو رقم اتنی ہی لیتے ہیں زائد نہیں لیتے۔

3۔ کبھی کبھار گاہک (جو کہ جیولرز ہوتے ہیں) یہ نہیں بتاتے کہ خالص سونے کے بدلے رقم دیں گے یا کھوٹا سونا، اس صورت میں ہم خالص سونے کی قیمت بنا لیتے ہیں اور اگر وہ رقم دے تو قیمت میں سے وصول کر لیتے ہیں اور اگر کچھ کھوٹا سونا بھی دے تو اس کو ٹیسٹ کر کے اس کی قیمت بنا کے وصول کر لیتے ہیں، مثلاً 20.00گرام خالص کی قیمت بنی  80000 روپے، 40000 روپے نقد آئے باقی 12.00 گرام کھوٹا سونا وصول کیا جس میں ٹیسٹ کرنے کے بعد 10.00 گرام خالص سونا بنایا ۔ (ہم اس ٹیسٹ کی بھی سو  روپے فیس لیتے ہیں۔) اس کی قیمت 40000 روپے بنی، اس طرح ہم نے کل 20 گرام خالص سونے کی قیمت وصول پالی۔ آیا یہ 40000 روپے جو کہ 12 گرام کھوٹے سونے کی قیمت تھی اس پہ پہلے گاہک کا قبضہ ضروری ہے پھر بعد میں وصولی کی جائے یا بغیر گاہک کے قبضہ کیے  ہی ہم اپنے 80000 کے بقایا میں سے کاٹ سکتے ہیں۔

4۔ کچھ دکاندار ہم سے ایڈوانس پیسے لے لیتے ہیں جیسے 300000 روپے لیے اور کہا کھوٹا سونا تھوڑی دیر بعد دیں گے۔ تھوڑی دیر بعد کھوٹا سونا جو رینی کی شکل میں ہوتا ہے ٹیسٹ کرنے کے لیے دیا۔ اس میں موجودخالص سونے کی قیمت بنوائی اور ہماری ٹیسٹ کی اجرت 100 روپے دے کر ہمارے 300000 روپے (بصورت سونا)ادا کر دیے۔  اتنی دیر میں اگر بازار میں سونے کے ریٹ میں فرق آگیا مثلاً300000 روپے دیتے وقت سونا 52000 روپے تولہ تھا اور اب رزلٹ دیتے اور 300000 کے بدلہ کھوٹا سونا لیتے وقت 52500 ہو گیا ہے تو

سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ہم اس سونے کا کونسا ریٹ لگائیں؟ شروع میں 300000 روپے دیتے ہوئے وقت کا یا واپسی سونا ملنے والے وقت کا؟

5۔ کسی نے 10 گرام سونا ادھار لیا۔ اس کی قیمت بنوا لی (طے کر لی)۔ جب وہ کھوٹا سونا بھیجتا ہے  تو اس وقت اس کا ملازم سونا صرف ٹیسٹ کے لیے دے جاتا ہے اور وہ شخص فون پر رزلٹ معلوم کر تا ہے۔ پھر  اس کی قیمت بنوا کر کہتا ہے  کہ اسے وصول کر لو (یعنی اس نے جو پیسے دینے تھے اس کے بدلہ میں)، اس صورت میں سب معاملہ فون پر ہوتا ہے۔

کیا یہ درست ہے؟

6۔ ہمارے پاس ایک دکاندار کا فون آیا اس نے قیمت خرید اور قیمت فروخت پوچھی اور کہا مجھے 50 ہزار بھیجو میں کھوٹا سونا دے رہا ہوں۔ اس کے ملازم نے آکر رقم لی یا ہم نے بھجو ادی، اس نے تھوڑی دیر بعد کھوٹا سونا بھیجا اور ہم نے ٹیسٹ کر کے طے شدہ ریٹ پر سونے کی قیمت بنا دی اور پھر اس سونے کو اپنے 50 ہزار کے عوض میں وصول کر لیا کیا یہ صورت جائز ہے؟

7۔ کسی نے 15000 روپے لیے اور کہا اس کا خالص سونا بنا دو یعنی یہ  بتاؤ کہ مجھے اس کے بدلے کتنا خالص سونا دینا پڑے گا، بعد میں اس نے مہینہ بعد یا دو مہینہ بعد یکمشت یا تھوڑا تھوڑا کر کے خالص سونا ادا کر دیا۔

کیا یہ صورت درست ہے؟ اور کیا  اس صورت میں ریٹ بتانا ضروری ہے یا نہیں؟

وضاحت: اس طرح کا تقاضا ہمارے قریبی رشتے دار یا قریبی  احباب کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صرف ان کی مدد کر رہے ہیں ہماری کوئی اور غرض نہیں ہوتی۔ لہذا ہم انہیں 15000 روپے دیتے وقت  سونے کا مارکیٹ ریٹ لگاتے ہیں زائد نہیں لگاتے۔

8۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ دکاندار ہمارا تقریباً 10 یا 15 تولہ کے قریب سونا اپنے نیچے لگا لیتا ہے جو کہ وہ دیتا ہی نہیں، وہ سونا تھوڑا بہت نیچے اوپر ہوتا رہتا ہے کلیئر نہیں ہوتا مثلاً علی نے مختلف وقتوں میں مختلف سونا لیا، کبھی 15 گرام کبھی 37 گرام، کبھی 50 گرام۔ اس طرح کرتے کرتے وہ 150 گرام پر پہنچ گیا، پھر 23 گرام کھوٹا سونا دیا جس کا خالص 20 گرام  وصول کروا دیا، پھر 25 گرام منگوا لیا اس بدلہ میں 17.500 گرام کھوٹا سونا دیا جس کا خالص 15.00 گرام وصول کروا دیا، ساتھ ہی 10 گرام خالص سونے کی قیمت بھی ادا کر دی۔

اس صورت میں مکمل سونا کبھی وصول نہیں ہوتا، کبھی خالص سونا آتا ہے، کبھی کھوٹا سونا آتا ہے  جس کو ٹیسٹ کرنے کے بعد خالص بنایا جاتا ہے اور کبھی سونے کی قیمت آتی ہے۔

اس صورت میں سونے کے ادھار کا حکم کیا ہے؟ اگر ہم خالص سونا ادا کرتے ہوئے تانبا بھی ساتھ ملا لیں تو یہ ادھار جائز ہو جائے  گا یا نہیں؟

9۔ آج کا ریٹ مثلاً 50000 روپے تولہ ہے کسی دکاندار نے 3 تولہ خالص سونا ادھار مانگا، وہ واپسی میں  رینی دے گا یا روپے دونوں۔ تو ہم ایسے شخص کو سونے کا ریٹ مارکیٹ سے زیادہ لگاتے ہیں کیونکہ وہ ادھار لے رہا ہے تو ہم نے 3 تولہ خالص سونے کی قیمت 50300 روپے کے حساب سے 150900روپے بنائی، تقریباً 300 روپے تولہ زائد لگائے۔ یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ پھر اگر  اس نے دو دن بعد ایک تولہ کی رقم یعنی 50300 روپے دی، گویا کہ کہ ہم نے ایک تولہ سونا وصول کر لیا باقی دو تولہ وصول کرنا ہے لیکن اس کے پیسے 100600 ہی رہیں گے۔ پھر اس نے باقی  100600 کے بجائے کھوٹا سونا دیا جس کی مالیت اگرچہ 100600 روپے تھی لیکن اس وقت سونے کا ریٹ مارکیٹ میں کم ہو چکا تھا مثلاً 49700 روپے ہو گیا تھا چونکہ ہم نے اس سے 100600 روپے لینے ہیں اس لیے (ٹیسٹ و خالص کرنے کی مذکورہ بالا تفصیل کے بعد) اس سے دو تولہ سونے کی بجائے 2 تولہ 3 رتی سونا خالص وصول کیا  جس کی قیمت 100600 روپے بنی ۔ یعنی واپسی میں اگر دیکھا جائے تو ہم نے 3 تولہ اور  3  رتی وصول کیا کہیں یہ صورت 3  تولہ خالص سونے کے بدلہ 3  تولہ اور 3  رتی خالص سونے کی تو نہیں بنی؟ یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟۔ جائز صورت کیا ہو گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے ذکر کردہ طریقۂ کار میں کچھ خرابیاں ہیں۔ اپنے کاروبار کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کی غرض سے آپ کے لیے ان خرابیوں کو دور کرنا لازمی ہے۔ ذیل میں ان خرابیوں اور ان کے متبادل طریقوں کو تفصیل سے تحریر کیا جاتا ہے۔

جواب سے قبل دو باتیں ذہن نشین رکھیں:

1۔ جھوٹ، غلط بیانی اور دھوکہ دہی شریعت کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ لہذا جان بوجھ کر غلط رپورٹ دینا درست نہیں ہے۔ اگرچہ گاہک کے علم میں لا کر ہو، کیونکہ مسلمانوں کا اپنی تجارت کو غلط بنیادوں پر رکھ کر چلانا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔

آپ اگر موجودہ اجرت کو ناکافی سمجھتے ہیں تو اجرت بڑھا دیں، گاہکوں کو جب علم ہو گا کہ دوسرے لیبارٹری والے غلط بیانی سے کام لے کر ان سے مزید پیسے بھی لے رہے ہیں جبکہ آپ صاف گوئی سے کام لیتے ہیں تو یقیناً گاہک آپ کو ترجیح دیں گے۔

2۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب گاہک آپ کے پاس رینی لاتا ہے تو وہ اپنی رینی آپ کے پاس بطور امانت ہوتی ہے۔ اسے خریدنے کے لیے پہلے اس پر امانت کا قبضہ ختم کرنا ضروری ہے لہذا اگر باقی رینی بغیر خالص کیے یوں ہی خریدنی ہو تو وہ پہلے گاہک کو یا اس کے کسی نمائندہ کو واپس کریں پھر خریدیں۔ لیکن رینی خرید لینے کے بعد آپ کی ملکیت ہو گی، جس کو خالص کرنے کا خرچہ آپ کے ذمہ  ہو گا۔ کسی دوسری سے اس کی اجرت لینا درست نہیں ہے۔ البتہ آپ سودا کرتے وقت رینی کو مزید کم پیسوں کے بدلہ خرید سکتے ہیں۔ اور اگر رینی خالص کرنے کے بعد خالص سونا خریدنا ہو تو اسے خالص کرنے کا معاملہ الگ رکھیں، اسے خالص کریں اور اس کا لین دین مکمل کریں پھر اسے خریدیں۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کا جواب یہ ہے:

1۔ اگر سونے کے بدلہ سونا بالکل نہ ہوتا بلکہ صرف تانبا ہوتا (چاہے جتنا بھی ہوتا) تو جائز ہوتا۔ جبکہ آپ کی ذکر کردہ صورت میں تانبے کے ساتھ سونا بھی ہے۔ اس لیے جتنا سونا ہو گا اس حد تک ادھار کی خرابی بدستور رہے گی۔

2۔ جائز ہے البتہ مدت طے کرنا بھی ضروری ہے کہ گاہک کتنی مدت کے بعد رقم دے گا۔

3۔ پہلے گاہک کا قبضہ ضروری ہے۔

4۔ سودا کرتے وقت دونوں کو معلوم ہونا ضروری ہے کہ ان پیسوں کے بدلہ کتنا سونا ہو گا۔ نیز یہ  طے کرنا بھی ضروری ہے کہ سونا خالص ہوگا یا کھوٹ ملا رینی کی شکل میں ہو گا؟ اور وہ رینی کتنے کھوٹ والی ہو گی؟ لہذا آپ 300000 روپے دیتے وقت خالص سونے کا سودا الگ کریں اور سونے کی مقدار بھی بتائیں پھر رینی آجانے کی صورت میں اسے خالص کرنے کا معاملہ بالکل الگ رکھیں۔

5۔ چونکہ آپ کے پاس سونا ٹیسٹ کے لیے آیا ہے جو کہ بطور امانت ہے۔ لہذا اسے خریدنے سے پہلے اس پر سے امانت کا قبضہ ختم کرنا ضروری ہے۔ تو پہلے رینی واپس کر کے اس سے خریدیں اور پیسے بھی ادا کریں پھر ادھار بیچے ہوئے 10 گرام سونے کے پیسے وصول کریں۔ تاکہ واقعتاً پیسے بیچ  میں نہ لانے کی وجہ سے یہ صورت سونے کا سونے سے ادھار تبادلہ نہ بن جائے جو کہ سود ہے۔

6۔ یہ صورت ادھار سودے کی ہے اور موقع پر ایک چیز یعنی سونے پر قبضہ دے دیا گیا ہے اس لیے جائز ہے۔ البتہ جو سونا آپ کے پاس ٹیسٹ کے لیے آیا ہے وہ آپ کے بطور پاس امانت ہے۔ اسے اپنی ملکیت بنانے کے لیے پہلے امانت کا قبضہ ختم کرنا ضروری ہے۔ لہذا یا تو گاہک خود آئے یا اپنے ملازم کو بھیجے تاکہ وہ آپ سے امانت کا سونا واپس لے پھر آپ وہ سونا پیسوں کے بدلے خریدیں پھر اپنے ادھار بیچے ہوئے سونے کے پیسے لیں۔

اگر گاہک کے لیے خود آنا یا اپنے ملازم کو بھیجنا مشکل ہو تو یہ صورت بھی ممکن ہے کہ گاہک آپ کے کسی ملازم کو یہ سارے عمل انجام دینے کے لیے اپنا فون پر نمائندہ بنا دے جو آپ سے خرید و فروخت اور لین دین کا عمل کرے۔

7۔ درست ہے۔ ریٹ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن 15000 روپے کے بدلہ اس کے ذمہ کتنا سونا آیا ہے سودا کرتے وقت اس کی کل مقدار بتانا ضروری ہے۔

8۔ نہیں بلکہ اس میں ایک مزید خرابی یہ بھی ہے کہ علی سے سودا کرتے وقت آپ دونوں میں سے کسی کو علم نہیں ہے کہ اس سونے کا بدلہ میں ہو گا؟ سونا یا پیسے؟ اور کتنے ہوں گے؟ یہ صورت سودے کو یکسر خراب کر دیتی ہے، اس لیے جب بھی علی کے ہاتھ سونا فروخت کریں تو آپس میں طے کریں کہ اس کے بدلہ میں کیا ہو گا اور کتنا ہو گا؟ پھر اس کے ساتھ ساتھ وزن میں برابری اور ادھار کے شرعی احکامات کو بھی مد نظر رکھیں۔

9۔ ادھار کی وجہ سے نقد کی بنسبت زائد ریٹ لگانا جائز ہے۔ البتہ پیسوں میں سودا کرنے کے بعد اپنا حق پیسوں کی شکل میں ہی لیں سونا نہ لیں ورنہ وہی دو خرابیاں آجائیں گی جو کہ سوال نمبر 5 کے جواب کے ضمن میں بیان ہوئیں کہ

i۔ واقعتاً پیسے بیچ میں نہ آنے کی وجہ سے سونے کا سونے سے ادھار تبادلہ بن جائے گا۔

ii۔ کھوٹا سونا آپ کے پاس امانت ہے۔ اسے خریدنے کے لیے پہلے امانت کا قبضہ ختم کرنا ضروری ہے۔ لہذا پیسوں میں سودا کرنے کے بعد اپنا حق طے شدہ پیسے ہی لیں۔ اور گاہک کا کھوٹا سونا ٹیسٹ کرنے اور اسے خالص کرنے کا معاملہ الگ رکھیں۔

الفقہ الاسلامی و ادلہ (4429/6) میں ہے:

اتفق الأئمة على تحريم ما فيه شبهة الربا، فكل قرض جر نفعاً فهو ربا حرام، وعملاً بمبدأ سد الذرائع المتفق عليه بين الأئمة، وإن اختلفوا في مداه وتطبيقاته. فإذا أدت المقاصة إلى شيء من الربا، كانت غير جائزة.

ومن أمثلتها في بيوع الآجال كما ذكر المالكية: باع له عشرة أرادب من الطعام بعشرة دراهم أي إلى أجل، وبعد أن غاب على الطعام وانتفع به، باع لبائعه عشرين أردباً من نوع ما اشتراه بعشرة دراهم، وتقاصا العشرة بالعشرة، لم يجز؛ لأنه أسلفه عشرة أرادب انتفع بها، ثم رد إليه عشرين أردباً، والثمن بالثمن ملغى؛ لأنه مقاصة، فهو قرض جر نفعاً.

الدر المختار (571/4) میں ہے:

والأصل أن القبضين إذا تجانسا ناب أحدهما عن الآخر وإذا تغايرا ناب الأعلى عن الأدنى لا عكسه.

قال الشامي تحت قوله: (لا عكسه) فقبض الوديعة مع قبض الهبة يتجانسان لانهما قبض أمانة،

ومع قبض الشراء يتغايران لانه قبض بلا ضمان، فلا ينوب الاول عنه كما في المحيط، ومثله في شرح الطحاوي لكنه ليس على إطلاقه، فإنه إذا كان مضمونا بغيره كالبيع المضمون بالثمن والمرهون المضمون بالدين لا ينوب قبضه عن القبض الواجب كما في المستصفى، ومثله في الزاهدي، فلو باع من المودع احتاج إلى قبض جديد وتمامه في العمادي.قهستاني.

……………………………………………………. فقط و الله تعالى أعلم

جواب دیگر

آپ کے بعض سوالات ادھار سودے سے متعلق ہیں اور بعض قرض سے متعلق ہیں۔ لہذا جواب سے قبل یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ شریعت کے نزدیک قرض اور ادھار سودے میں کیا فرق ہے؟ اگرچہ عام بول چال میں دونوں ایک دوسرے پر بول دیے جاتے ہیں۔  ادھار صرف سودے کے اندر ہوتا ہے یعنی کوئی چیز خریدی بیچی جائے پھر پیسوں کی ادائیگی موقع پر نہ ہو، خرید کی ہوئی چیز کی ادائیگی موقع پر نہ ہو یا دونوں موقع پر نہ ہوں تو یہ سودا ادھار کہلاتا ہے۔

جبکہ قرض سودے میں نہیں ہوتا بلکہ کسی شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لیے (بطور ہمدردی اس کے ساتھ جو عارضی تعاون کیا جائے) وہ قرض کہلاتا ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے ادھار اور قرض کے تقاضے جدا جدا ہیں۔

قرض میں ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ قرض دینے والا جس شکل میں تعاون کرے اس سے ہٹ کر کسی اور شکل میں واپسی کے مطالبہ کا حق نہیں رکھتا، مثلاً روپے دیے ہوں تو ڈالر یا ریال مانگنے کا حق نہیں رکھتا۔ یا اگر سونا ادھار دیا ہو تو پیسوں میں واپسی کا حق نہیں رکھتا البتہ اگر بغیر مانگے مقروض کسی اور شکل میں ادائیگی کرے اور قرض دینے والا بھی راضی ہو تو یہ تبدیلی جائز ہے۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔9۔ ادھار صرف تانبے کی حد تک جائز ہو گا جبکہ اس کی مدت بھی معلوم ہو۔ سونے میں ادھار پھر بھی ناجائز رہے گا۔

اس کا حل دو طرح ہے ایک یہ ہے کہ آپ اپنا سونا پیسوں کے بدلہ بیچیں اور پیسے ہی لیں۔ اگر گاہک کھوٹا سونا لائے یا خالص سونا لائے تب بھی اس سے پہلے وہ سونا خرید کر پیسے ادا کر کے پھر اس سے اپنے بیچے ہوئے سونے کے پیسوں کا مطالبہ کریں۔

دوسرا یہ ہے کہ گاہک نے آپ سے جو سونا مانگا ہے آپ اسے وہ سونا بطور قرض دیں، ادھار سودے کے طور پر نہ دیں پھر بعد میں گاہک پیسے لائے تو اسے اس وقت کے ریٹ کے مطابق سونا فروخت کر کے اور اس کے قبضہ میں دے کر پھر اپنا قرض واپس لیں۔ اور اگر گاہک کھوٹا سونا لائے تو اسے خالص کر کے پھر اپنا قرض واپس لیں۔

نوٹ:  اگرچہ قرض دینے والا اور مقروض دونوں راضی ہوں تو قرض کی ادائیگی کسی اور شکل میں بھی جائز ہے لیکن یہاں یہ صورت اختیار کرنے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ  لیبارٹری سے دکانداروں اور کاریگروں کا لین دین کثرت کے ساتھ چلتا ہے۔ اس لیے قرض دینے والا اور مقروض جس کو جہاں اپنا مفاد نظر آئے گا اس شکل میں قرض کی واپسی کا تقاضا کرے گا۔ نیز یہ صورت نسأ (یعنی ادھار کے سود) سے بچنے کا محض ایک حیلہ رہ جائے گا۔

2۔ جائز ہے، جبکہ گاہک کو سونا موقع پر دے دیں، اور پیسوں کی ادائیگی کی مدت بھی معلوم ہو۔

3۔5۔ پہلے گاہک کے قبضہ میں پیسے دیں پھر اس سے وصولی کریں۔ کیونکہ مارکیٹ میں دکاندار بہت سی مرتبہ سونے کے بدلے  سونا دینا چاہتے ہیں، ایسے میں پیسوں کا تذکرہ محض ایک حیلہ بن کر رہ جائے گا۔

7۔4۔ آپ پیسے دیتے وقت دکاندار پر واضح کر دیں کہ یہ قرض ہے اور ہم اصلا پیسے ہی واپس لیں گے، پھر چاہیں تو رزلٹ دیتے وقت ریٹ بتا کر سونا لے لیں۔ یا پیسے دیتے وقت خالص سونے کا ریٹ بنا کر دکاندار سے 3 لاکھ روپے کا سونا ادھار خرید لیں اور پیسے موقع پر دے دیں، اور سونا ملنے کا وقت بھی طے کریں۔

البتہ اس صورت میں اگر گاہک خالص سونے کے بجائے کھوٹ ملا سونا لائے تو اس سے ٹیسٹ کرنے کا معاملہ الگ کریں۔ یعنی ٹیسٹ کی فیس لے کر اس سونے کو خالص کر کے گاہک کو واپس کریں پھر اس سے اپنا خریدا ہوا سونا لیں۔ کیونکہ جو سونا آپ کے پاس ٹیسٹ کے لیے آیا ہے وہ بطور امانت ہے اور امانت کا قبضہ ملکیتی قبضہ سے جدا ہوتا ہے۔

6۔ یہ صورت ادھار سودے کی ہے اور موقع پر ایک چیز یعنی سونے پر قبضہ دے دیا گیا ہے اس لیے جائز ہے۔ البتہ جو سونا آپ کے پاس ٹیسٹ کے لیے آیا ہے وہ آپ کے بطور پاس امانت ہے۔ اسے اپنی ملکیت بنانے کے لیے پہلے امانت کا قبضہ ختم کرنا ضروری ہے۔ لہذا یا تو گاہک خود آئے یا اپنے ملازم کو بھیجے تاکہ وہ آپ سے امانت کا سونا واپس لے پھر آپ وہ سونا پیسوں کے بدلے خریدیں پھر اپنے ادھار بیچے ہوئے سونے کے پیسے لیں۔

اگر گاہک کے لیے خود آنا یا اپنے ملازم کو بھیجنا مشکل ہو تو یہ صورت بھی ممکن ہے کہ گاہک آپ کے کسی ملازم کو یہ سارے عمل انجام دینے کے لیے اپنا فون پر نمائندہ بنا دے جو آپ سے خرید و فروخت اور لین دین کا عمل کرے۔

8۔ ریٹ بتانا ضروری نہیں، مقدار بتانا ضروری ہے کہ اس کے ذمہ آپ کا کتنا سونا بن رہا ہے۔

10۔ زائد پیسے لگانا جائز ہے۔ البتہ واپسی کے وقت کچھ پیسے اور کچھ سونے کی صورت سوال نمبر 3 اور سوال نمبر 5 کی طرح ہے، اس لیے اس کا باقی جواب بھی وہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved