• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

نکات بابت پابندی بولی آڑھت منڈی، تلہ گنگ:

استفتاء

حضرت والا نے منسلکہ مسئلے میں بولی کی پابندی کو ناجائز کہا ہے۔ اس پر ہمارا خیال مندرجہ ذیل ہے۔ اگر اس سے اتفاق ہو تو فبہا ورنہ حتمی فتویٰ تو  حضرت کی رائے پر ہی ہو گا۔

1۔ فی نفسہ بولہ لگا کر مال فروخت کرنا بھی جائز ہے اور بغیر لگائے فروخت کرنا بھی جائز ہے۔ منڈی کی انتظامیہ کی طرف ان میں سے کسی ایک پہلو کو متعین کر دینا اور منڈی کے تاجروں کو اس کا پابند کر دینا یہ ایک جائز حق عرض:

پر پابندی ہے۔

اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ پابندی مبنی بر مصلحت ہے یا نہیں؟

اس پابندی کے مصالح یہ ہیں:

1۔ اس میں زمیندار کا فائدہ ہے کہ اسے مناسب ریٹ مل جاتا ہے۔

2۔ اس کے ساتھ غرر یا اس کے ضرر کا احتمال کم سے کم ہو جاتا ہے کیونکہ جب اوپن بولی ہو گی تو ملی بھگت یا زمیندار کو اندھیرے میں رکھ کر ریٹ نہیں لگے گا۔ اسی مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے شریعت نے تلقی رکبان سے منع کیا ہے۔

3۔ بولی لگنے سے منڈی کا ریٹ منضبط اور یکساں رہتا ہے۔

جبکہ اس کے بالمقابل بولی کی پابندی میں ایک نقصان بھی ہے کہ اس کی وجہ سے چیز کی قیمت بڑھنے کا امکان رہتا ہے جس میں اہل بلد کا ضرر ہے۔ اور اہل بلد کے ضرر کو شریعت نے ملحوظ رکھ کر ’’لا یبیع حاضر لباد‘‘  کی پابندی بھی لگاتی ہے۔

لیکن یہ ضرر اوپر کے مصالح کے مقابلے میں مغلوب ہے۔ یا زیادہ سے زیادہ ان کے معارض ہے۔ اور دوسرے اس ضرر کے احتمال کے باوجود ’’بیع من یزید‘‘ سے نہی ثابت نہیں بلکہ  خود آپ ﷺ سے ’’بیع من یزید‘‘ کا ثبوت ملتا ہے۔ اس لیے اس ضرر کو نظر انداز کر کے اوپر کے مصالح کو سامنے رکھتے ہوئے اس پابندی کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ فقط

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved