• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

پس منظر

استفتاء

*** کے قدیم شہر سے متصل ایک محلہ ہے، جس کا نام ***ہے، یہ محلہ ایک ہی صاحب *** *** صاحب کی مملوکہ (زرعی) زمین پر آباد ہوا ہے۔ آباد ہونے کی صورت یہ تھی کہ لوگ *** *** صاحب سے 16 روپے مرلہ کے حساب سے جگہ خریدتے اور اپنے مکان بنا لیتے۔ جو لوگ انتقال اور رجسٹری میں دلچسپی رکھتے وہ اپنے پاس سے خرچہ کر کے اپنے نام رجسٹری کروا لیتے، لیکن بہت سے لوگ *** *** پر اعتماد کی بناء پر رجسٹری کے تکلف میں نہ پڑتے، اور یوں معاملہ چلتا رہا۔

واضح رہے کہ اس میں پر جہاں بہت سے لوگ خریدار بن کر آتے تھے وہی پر کچھ لوگ غیر قانونی قابض بھی ہو گئے، لیکن صوفی صاحب کی طرف سے ان لوگوں کے ساتھ کوئی دارو گیر یا اعتراض نہیں ہوا، اور آج تک بھی نہیں ہے۔ پرانے لوگوں کے بقول ایک دفعہ *** *** نے الیکشن لڑا اور اس موقع پر لوگوں کی حمایت لینے کے لیے یہ اعلان بھی کیا کہ جو مجھے ووٹ دے گا، اس کو پانچ مرلہ پلاٹ مفت دیا جائے گا۔

*** *** فوت ہوئے، ان کا بیٹا آیا، اس کی طرف سے بھی کوئی اعتراض یا نوٹس کسی ساکن کے نام نہیں جاری ہوا۔ آج کل ان  کا بیٹا یعنی *** *** کا پوتا کرتا دھرتا ہے۔ اس کی طرف سے بھی کوئی اعتراض یا نوٹس  سامنےنہیں آیا۔ البتہ لوگ اپنی پیش بندی کے تحت احتیاطاً اسے کچھ پیسے دے کر (جو کہ اصل ویلیو سے کم ہیں) اپنے نام انتقال کروا رہے ہیں۔

زیرِ نظر مسئلہ

*** کے دادا کے زیر قبضہ اسی مذکورہ محلہ میں ایک سات مرلہ پلاٹ تھا۔ دادا جی نے *** کے والد (جو دیگر پانچ بھائیوں میں سے سب سے بڑے تھے) سے کہا کہ ***میں اپنا پلاٹ ہے، تم اس پر اپنا مکان تعمیر کر لو۔ چنانچہ *** کے والد نے بقول *** دادا کے اصرار پر چار مرلہ پر مکان تعمیر کر لیا۔ اور اسی مکان میں رہائش اختیار کر لی۔ جبکہ بقیہ تین مرلہ پر ایک دوسرے چچا نے مکان بنا لیا۔ تقریباً بیس سال قبل *** کے والد کا انتقال ہو گیا، تب سے مذکورہ مکان *** اور اس کے بھائیوں کے زیر تصرف ہے۔

*** کو معلوم ہوا کہ جس پلاٹ پر ان کا مکان تعمیر شدہ ہے، وہ  سرکاری کاغذات میں اس کے والد یا دادا میں سے کسی کے بھی نام نہیں ہے، بلکہ *** *** اور ان کے ورثاء کے نام ہے۔ چنانچہ اس نے حفظ ما تقدم کے طور پر جس شخص کے نام سرکاری کاغذات میں یہ پلاٹ تھا، اس کو کچھ رقم (مبلغ قریب 4 لاکھ روپے) دے کر مذکورہ پلاٹ اپنے نام رجسٹری کروا لیا2011ء میں۔ جبکہ پلاٹ کی اصل ویلیو اس سے زیادہ ہے، جو تقریباً 14 لاکھ روپے ہے۔

اسی اثنا میں *** کے ایک چچا مثلاً *** کو معلوم ہوا، تو اس نے *** سے جھگڑا کیا کہ مذکورہ سات مرلہ پلاٹ میرے والد (*** کے دادا) کی ملکیت تھا، تمہیں اس کو اپنے نام رجسٹری کرانے کا کوئی شرعی اور اخلاقی حق حاصل نہیں ہے، دیگر ورثاء کے علاوہ میرا اس پلاٹ میں 7/1 حصہ وراثتاً بنتا ہے، میرا حصہ مجھے ادا کرو۔ اس پر *** کا جواب یہ تھا کہ مذکورہ پلاٹ پر مکان میرے والد نے اپنے والد کی اجازت اور اصرار سے بنایا تھا بلکہ دادا جی کا کہنا تھا کہ تم نے تھوڑے حصہ پر مکان بنایا ہے، اب بچے زیادہ ہیں، تم زیادہ حصے پر تعمیر  کرو، اس پر میرے والد نے کہا تھا کہ میرے لیے کافی ہے، بقیہ حصہ پر دوسرا بھائی تعمیر کر لے گا، اس طرح یہ پلاٹ میرے والد کی ملکیت ہے، اس میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ نہیں۔ دوسری بات یہ کہ مذکورہ پلاٹ دادا جی کی ملکیت میں ہونے کا کوئی تحریری ثبوت نہ ہونے پر اور اسی طرح مذکورہ پلاٹ کی خریداری کا بھی کوئی چشم دید گواہ نہ ہونے پر ہم نے اس پلاٹ کے قانونی مالکان سے رقم دے کر اپنے نام رجسٹری کرا لیا ہے، اس لیے ہم ہی قانوناً و شرعاً اس کے مالک ہیں۔

مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالوں کے جواب مطلوب ہیں:

1۔ کیا متنازعہ فیہ پلاٹ *** کے دادا کی ملکیت بنتا ہے؟ جبکہ *** کے پاس اس بات کا کوئی تحریری ثبوت مثلاً اشٹام، رجسٹری، انتقال وغیرہ نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی چشم دید گواہ ہیں کہ *** کے دادا نے یہ پلاٹ خرید کیا تھا۔ لیکن فریقین میں یہ مسلم ہے اور اہل محلہ بھی کہتے ہیں کہ یہ پلاٹ *** کے دادا، *** کے والد کا تھا۔ اور جب مذکورہ پلاٹ پر مکان تعمیر کیا گیا، اس وقت سے آج تک پلاٹ پر قانونی مالکان کی طرف سے کسی قسم کا کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ مذکورہ مکان 1927ء کے قریب قریب سے *** کے والد کے زیر تصرف تھا اور  1914ء سے آج تک سرکاری ریکارڈ پٹواری کے پاس محفوظ ہے، جس میں مذکورہ پلاٹ کے انتقال کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

2۔ کیا *** کے والد کا اپنے والد کی اجازت یا بقول *** اصرار سے متنازعہ فیہ پلاٹ پر مکان تعمیر کرنا، *** کے والد کے لیے ملکیت یا ہبہ تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ *** کے والد کے دیگر بھائی بہن بھی موجود تھے، مگر تعمیر مکان کے بعد مذکورہ مکان *** کے والد کے اور اس کی اولاد ہی کے زیر تصرف رہا۔ ہاں *** کے دادا کبھی کبھی تشریف لاتے اور قیام کرتے تھے۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ *** کے چچا *** کے علاوہ کسی دوسرے وارث نے کبھی مذکورہ مکان و پلاٹ پر حق نہیں جتلایا۔

3۔ کیا متنازعہ فیہ پلاٹ میں وراثت کے اعتبار سے *** و دیگر ورثاء کا حق بنتا ہے؟

4۔ ***،*** کا فریق مخالف چچا، اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ 1958ء میں جب وہ زیر تعلیم تھا، اس کے والد اس مکان میں کبھی کبھی آ کر قیام کرتے تھے، لیکن ان کو بھی اس کا کوئی حق حاصل نہیں تھا کہ دیگر بیٹوں کو نظر انداز کر کے ایک بیٹے کو کسی حصہ زمین کا مالک بنا دیں یا ہبہ کر دیں، حدیث میں اس کی ممانعت ہے، اگر انہوں نے ایسا کیا بھی ہے تو یہ درست نہیں۔

*** کے اس بیان کی کیا حیثیت ہے؟

5۔ *** نے جو پلاٹ مذکورہ کے قانونی مالکان کو رقم دے کر رجسٹری کرائی ہے، کیا یہ بیع جدید ہے یا تجدید بیع ہے؟ اور اگر مذکورہ پلاٹ *** کے دادا ہی کی ملکیت تھا اور مذکورہ بالا صورت میں *** کے والد کے لیے ہبہ بھی نہیں بن سکتا تو کیا *** رجسٹری پر ادا کردہ رقم پہلے مالکان سے واپس لے سکتا ہے؟ اور کیا رجسٹری کو منسوخ کرنے کا حق رکھتا ہے؟

فریقین علماء کے فیصلہ پر جھگڑا ختم کرنے پر رضا مند ہیں۔ برائے مہربانی جوابات کو قرآن و سنت و فقہی دلائل سے مؤید فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ پلاٹ *** *** نے *** کے دادا کی ملکیت میں دے دیا تھا، وہ قرائن یہ ہیں:

i۔ *** *** کے وارثوں کی جانب سے کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ *** نے 4 لاکھ روپے دے کر رجسٹری اپنے نام کروالی، تب بھی وارثوں نے خوشی سے کام کیا۔

ii۔ آبادی کے لوگ *** کے دادا کے قبضہ کو مانتے ہیں، جس پر کوئی مزاحمت نہیں ہے اور جو قبضہ بلا مزاحم ہو وہ ملکیت پر دلیل ہوتا ہے۔

پھر یہ ملکیت ہدیہ سے آئی۔ اس کا قرینہ یہ ہے:

ہدیہ کرنے میں چونکہ ٹرانسفر کی فیس جمع کرانی ہوتی ہے، تو قرین قیاس یہ ہے کہ *** کے دادا نے اپنے نام ٹرانسفر نہیں کرایا۔ اگر *** کے دادا نے خریدا ہوتا تو چونکہ خریداری میں اپنا روپیہ خرچ ہوتا ہے، اس کے تحفظ کی خاطر رجسٹری ضرور کراتے۔

2۔ *** کے دادا نے صرف ایک یا دو بیٹوں کو ہدیہ کیا۔ بہتر تو یہ تھا کہ وہ اپنی تمام اولاد کو برابر کی جائیداد دیتا، لیکن ایسا نہیں کیا۔ بلا وجہ ایسے کرنے پر گناہ ہوتا ہے، لیکن ہدیہ مکمل ہو جاتا ہے اس کو توڑا نہیں جا سکتا۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم[1]

[1] ۔ مفتی  رفیق صاحب کی رائے

1۔ مذکورہ  صورت میں یہ بات فریقین میں مسلم اور طے شدہ ہے کہ مذکورہ پلاٹ در اصل *** *** کا تھا۔ جس کی تائید سرکاری ریکارڈ سے بھی ہوتی ہے۔ لہذا *** کے دادا نے یا تو یہ پلاٹ *** *** سے خریدا تھا یا *** *** نے یہ پلاٹ *** کے دادا کو ہبہ (ہدیہ) کیا تھا اور یا *** کے دادا اس پلاٹ پر غیر قانونی طور پر محض قابض تھے۔

2۔ مذکورہ صورت میں بیع یا ہبہ (ہدیہ) کا ثبوت کسی فریق کے پاس نہیں، اور محض قبضہ سے سرکاری ریکارڈ کے مقابلے میں ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔

3۔ *** نے 4 لاکھ روپے دے کر *** *** کے ورثاء سے اس پلاٹ کا انتقال و رجسٹری اپنے نام کروائی ہے، *** کے اس عمل کو بیع بھی کہہ سکتے ہیں اور صلح بھی کہہ سکتے ہیں۔

لہذا مذکورہ صورت میں یہ پلاٹ صرف *** کا ہے، دوسروں کا اس میں کوئی حق نہیں۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved