• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

قسطوں پر خرید و فروخت کا شرعی طریقہ

(Selling and Baying things on Installments)

1۔ ادھار قسطوں پر فروخت کی جانے والی چیز کی کل قیمت اور ادائیگی اقساط کی مدت کا طے اور معلوم ہونا خریدار کو حوالہ کرنے سے پہلے ضروری ہے۔

2۔ سودا  کرتے وقت ایسی شرط لگانا کہ اگر خریدار نے کسی قسط کو مقررہ وقت پر ادا نہ کیا تو قسط کی ادائیگی کے ساتھ زائد رقم یعنی جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ زائد رقم سود بنتی ہے۔ نیز سودا کرتے وقت ایسی شرط لگانے سے سودا بھی فاسد ہو جاتا ہے۔ اگر خریدار معاہدہ پر دستخط کرتے وقت یہ نیت کرے کہ قسطوں کی بروقت ادائیگی کر دوں گا اور سود ادا کرنے کی نوبت نہ آئے گی تو بھی درست نہیں اور وہ گناہ گار ہو گا کیونکہ سود کی ادائیگی کا اقرار بہر حال موجود ہے۔

3۔ اسی طرح یہ شرط کرنا کہ اگر تمام قسطیں ادا نہ کیں تو فروخت کیا ہوا سامان بھی واپس لیا جائے گا اور ادا شدہ قسطیں بھی ضبط کر لی جائیں گی، یہ شرط فاسد ہے جس سے سودا بھی فاسد ہوتا ہے۔

4۔ قسطوں پر بیع میں یہ شرط کرنا جائز ہے کہ اگر خریدار مقرر وقت پر قسط ادا نہ کر سکا تو اس کو باقی اقساط فی الفور ادا کرنی ہوں گی۔

5۔ اگر معاملہ اس طرح ہوا کہ بائع نے کہا ادھار لینے کی صورت میں قیمت دس ہزار ہو گی جو ماہانہ قسطوں میں وصول کی جائے گی تو اس صورت میں خریدار اگر وقت سے پہلے مکمل ادائیگی کر دے تو قیمت میں کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ اور اگر یہ معاملہ مرابحہ کے طور پر ہوا ہو مثلاً بائع نے کہا ہو کہ ہی شے میں نے آٹھ ہزار میں خریدی ہے اور دو سو روپے ماہانہ نفع کے حساب سے یہ شے دو سال کی ماہانہ قسطوں پر تمہارے ہاتھ دس ہزار چار سو میں فروخت کی، خریدار اگر کسی بھی وقت باقی قسطیں فی الفور ادا کر دے تو باقی مہینوں کا نفع ساقط ہو جائے گا۔

6۔ قسطوں کی ادائیگی کی مدت سامان سپرد کرنے کے وقت سے ہو گی۔

7۔ ڈاؤن پے منٹ کے بعد قسطوں پر بیچی جانے والی چیز جب خریدار کے حوالے کر دی جائے تو وہ اب اس کا مالک ہو گیا۔ اب کسی بھی حادثہ، نقصان اور چوری ہو جانے کی صورت میں وہ اپنی چیز کا خود ذمہ دار ہو گا اور مکمل قیمت کی ادائیگی بھی اس کے ذمہ ہو گی۔

8۔ قسطوں پر ادھار فروخت کرنے والے کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ خریدار کی طرف سے عدم ادائیگی کی صورت میں وہ بیچی جانے والی شے پر قبضہ کر لے اور مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر کے اپنے بقایاجات وصول کر لے اور پھر بھی رقم بچ جائے تو خریدار کو واپس کر دے۔

9۔ اس خدشہ کے پیش نظر کہ خریدار گاڑی، موٹر سائیکل وغیرہ کو بیچ کر خود رقم استعمال کر لے اور قسطوں کی ادائیگی نہ کرے، بیچنے والے کو حق حاصل ہے کہ گاڑی کے کاغذات کو بطور ضمانت اپنے پاس روک لے اور مکمل قیمت کی وصولی کے بعد کاغذات اصل مالک کو دیے جائیں اور ملکیت بھی اس کے نام ٹرانسفر کروا دی جائے۔

10۔ چونکہ CSD بری فوج کا اپنا ادارہ ہے اسی طرح خریدار بھی اسی فوج ہی کا ملازم ہے اس لیے ادائیگی کو بروقت اور یقینی بنانے کا آسان اور محفوظ طریقہ یہ بھی ہے کہ خریدار (حاضر سروس فوجی) کے یونٹ / فارمیشن کے چیف آفیسر (جو کہ ان کی تنخواہ کو جاری کرتے ہیں) ان کی تصدیق اور ذمہ داری قبول کرنے کے بعد خریدار سے معاہدہ کرے کہ اس کی ماہانہ تنخواہ سے مقرر قسط کی کٹوتی کر کے یونٹ کے ذمہ دار اس رقم کو  CSD ادارہ تک پہنچائیں گے اور باقی تنخواہ کٹوتی کے بعد اس کو ادا کی جائے گی۔

قبل از وقت جبری ریٹائرمنٹ یا کورٹ مارشل کی وجہ سے نادہندہ ہونے کی صورت میں خریدار کی ضمانت دینے والوں کی تنخواہ سے قسط کے بقدر کٹوتی کی جائے۔ یہی طریقہ دیگر فضائی اور بحری افواج کے ملازمین سے بھی اختیار کر لیا جائے۔ اس طرح بروقت ادائیگی بھی یقینی ہو گی، جرمانہ کی شکل میں سود سے بھی بچاؤ ہو گا اور معاہدہ میں خریدار اور ضمانتی دونوں کو سود ادا کرنے کا اقرار بھی نہ کرنا پڑے گا۔

11۔ گاڑی، موٹر سائیکل وغیرہ کی انشورنس کروانا جائز نہیں۔

12۔ تمام یا بقیہ اقساط کی یکمشت ادائیگی کی صورت میں ٹرمینیشن چارجز لینا درست نہیں۔ یہ طے شدہ اصل قیمت پر اضافہ ہے جو کہ سود بن جاتا ہے۔

في شرح المجلة (2/ 166):

المادة: 245: البيع مع تأجيل الثمن و تقسيطه صحيح.

المادة: 246: يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل و التقسيط.

المادة: 247: إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوماً أو شهراً أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع.

المادة 248: تأجيل الثمن إلى مدة غير معينة كإمطار السماء يفسد البيع.

المادة: 250: يعتبر ابتداء مدة التأجيل و القسط المذكورين في عقد البيع من وقت تسليم المبيع.

و في الفقه الإسلامي و أدلته (7/ 5199):

البيع بالتقسيط جائز شرعاً و لو زاد فيه الثمن المؤجل على المعجل.

و في بحوث في قضايا الفقهية المعاصرة (1/ 12):

أما الأئمة الأربعة و جمهور الفقهاء و المحدثين فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم بثمن متفق عليه عند العقد.

و في المبسوط (13/ 126):

مقابلة الأجل بالدراهم رباً ألا ترى أن في الدين الحال لو زاد في المال ليؤجل لم يجز.

و في المؤطا مع أوجز المسالك (11/ 412):

كان الربا في الجاهلية أن يكون للرجل على الرجل الحق إلى أجل فإذا حل الحق قال أ تقضي أم تربي فإن قضى أخذ و إلا زاده في حقه و أخر عنه في الأجل.

امداد الفتاویٰ (3/ 123) میں ہے:

’’سوال: خیاطوں میں یہ طریقہ بکثرت مروج ہے کہ کمپنی سے کپڑے سینے کی مشین قسط پر لیتے ہیں یعنی مشین کمپنی سے لیتے وقت کمپنی کو ایک کرایہ نامہ تحریر کر دیتے ہیں اور پانچ روپے ماہوار ادا کرتے ہیں حتیٰ کہ قیمت مشین کی اصل قیمت سے کچھ بڑھ جاتی ہے۔ مگر چونکہ یکمشت ڈیرہ سو روپے دینا گراں معلوم ہوتا ہے اور یہ ماہواری قسط پونے دو سو روپے کچھ معلوم نہیں دیتا، جب کہ پورا روپیہ ہو جاتا ہے تو بیع نامہ ہو جاتا ہے اور اگر پانچ روپے بھی باقی رہ جاتے ہیں تو کمپنی مشین زبردستی اٹھا لیتی ہے۔ تو اب یہ صورت اس پر قسط وار روپیہ ادا کر کے جو کہ نقدی قیمت سے تیس چالیس روپے زیادہ ہوتا ہے درست ہے یا نہیں؟

الجواب: مذکورہ معاملہ ناجائز ہے مگر ناجائز ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ ادھار میں قیمت زیادہ لے لی کیونکہ نسیئہ میں بنسبت نقد کے زیادہ قیمت لے لینا جب کہ مجلس عقد میں نقد یا ادھار ہونا متعین ہو جاوے جائز ہے، بلکہ ناجائز ہونے کی وجہ دوسری ہے وہ یہ کہ یہ معاملہ یا بیع ہے یا اجارہ، اگر بیع ہے تو یہ شرط فاسد ہے کہ ادنیٰ جروقیمت رہ جانے پر واپس کر لیں اور ادا شدہ رقم کو کالعدم سمجھا جاوے گا، اور اگر اجارہ ہے تو یہ شرط فاسد ہے کہ زر کرایہ کے عوض بیع کر دیں گے۔ اور ایسا کوئی معاملہ شریعت میں نہیں کہ ایک صورت میں بیع اور ایک صورت میں اجارہ۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved